کونسی کمیٹی اپوزیشن کو جائے گی، کونسی حکومت کو ،ملکر طےکرتے ہیں،سپیکر قومی اسمبلی

0
178
ayaz sadiq

اسلام آباد(محمداویس ) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ یہ پریکٹس چل رہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن بیٹھ کر قومی اسمبلی کی کمیٹیوں کے حوالے سے طے کرتے ہیں کہ کونسی کمیٹی اپوزیشن کو جائے گی، کونسی حکومت کو جائے گی.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کے کمیٹیوں کی تشکیل نہ ہونے پر نقطہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کیا ،وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ پارلیمانی لیڈران کی طرف سے نام آنے چاہئیں،کمیٹیوں کے بغیر معاملات نہیں چلائے جا سکتے، اس پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ یہ پریکٹس چل رہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن بیٹھ کر طے کرتے ہیں کہ کونسی کمیٹی اپوزیشن کو جائے گی، کونسی حکومت کو، رکن اسمبلی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کل دو بجے ہماری میٹنگ ہے اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی، اس پر وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ آج ایک میٹنگ ہوگئی ہے، کل پھر ہوگی،کل تک یہ معاملہ حل ہوجائے گا،ایوان میں سیاسی جماعتوں کی تعداد کے مطابق چیئرمین شپ طے ہوگی،

سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میں حکومت یا اپوزیشن کے ساتھ جو بھی میٹنگ کرتا ہوں ان کو ڈسکلوز نہیں کرتا،کچھ چیزیں کانفیڈینشل بھی رکھنی ہوتی ہیں انہوں جمعت علماء اسلام ف کے رکن اسمبلی نور عالم خان کے سوال کے جواب میں کہا کہ آپ بھی اپنی لسٹیں بتائیں طے ہوجائے گا کہ کتنی چیئرمین شپ ملے گی تمام پارلیمانی لیڈر چیف ویپ اس معاملے کو دیکھیں، ن لیگ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو پہلی نشست ہوئی ہے، اس میں سیر حاصل گفتگو ہوئی ہے سنی اتحاد کونسل سے بات ہوئی ہے دس انکے چیئرمین ہونگے،اس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آج شاید ایک جماعت کے ساتھ میٹنگ ہوئی ہے، باقی جماعتوں سے بھی بات کریں، نور عالم خان نے کہا کہ آپ نے جو میٹنگز کی ان میں ہمیں نہیں بلایا، جمعیت علمائے اسلام کا اپنا موقف ہے، ہماری پارٹی کے جنرل سیکرٹری مائیک کا بٹن دبا کے ایک ایک گھنٹہ کھڑے رہتے ہیں مائیک نہیں ملتا، پیپلز پارٹی کے رہنما اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ نور عالم خان صاحب نے کہا کہ ایک وہاں سے ایک سے ادھر سے ممبر کو بولنے کا موقع دیا جائے جب سے قومی اسمبلی شروع ہوئی ہے اپوزیشن سے ہی زیادہ ممبران کو بولنے کا موقع دیا جاتا ہے آپ زیادتی کر رہے ہیں.

بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

قومی اسمبلی اجلاس، عمران خان، بشریٰ بی بی کی رہائی کے لئے پی ٹی آئی کا احتجاج
قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی رہائی کیلئے احتجاج کیا، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کورہا کرو کے نعرے لگائے، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہاکہ بشری بی بی کو سلو پوازننگ دی جارہی ہے جس کے شواہد سامنے آچکے ہیں،وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے کہاکہ انڈر ٹرائل کیسز کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے،ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے کی دھمکی دی جس پر اپوزیشن نے احتجاج ختم کردیا، اجلاس میں لطیف کھوسہ اپوزیشن لیڈر اور نبیل گبول وزیراعظم کی نشست پر بیٹھ کر گفتگو کرتے رہے مگر سپیکر نے اس کو مسلسل نظر انداز کردیا ۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے قائد حزب اختلاف کی قیادت میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی رہائی کیلئے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا اور ان کی رہائی کیلئے نعرے بازی کی ۔ اپوزیشن لیڈر عمرایوب نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بشری بی بی کو سلو پوائزننگ دی جارہی ہے جس کے شواہد سامنے آ چکے ہیں بشری بی بی کا چیک شوکت خانم ہسپتال سے کروایا جائے ۔وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے اپوزیشن لیڈر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج آپ کا حق ہے نشستوں پر بیٹھ کر بھی بات ہو سکتی ہے یہ لڑائی وہیں لڑی جائے جہاں کا فورم ہے فلور آف دی ہاوس کو عوامی معاملات کے کیسز اٹھائے جائیں عدالتوں میں زیر سماعت کیسز کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے،ہم اور بہت سے لوگ بھی اسی مرحلے سے گزرے ہیں۔اپوزیشن کے نعرے بازی کے دوران حکومتی بینچوں پر خاموشی چھائی رہی، ڈپٹی سپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے کی دھمکی دی تو اپوزیشن اپنا احتجاج ختم کرکے اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔

قومی اسمبلی اجلاس، لطیف کھوسہ کی زرتاج گل کے ساتھ اپوزیشن لیڈر کی نشست پر گپ شپ
اجلاس کے دوران سنی اتحاد کونسل کے حمایت یافتہ ممبر لطیف کھوسہ اپوزیشن لیڈر کی نشست پر بیٹھ کر زرتاج گل کے ساتھ گفتگو کرتے رہے جبکہ پیپلزپارٹی کے ممبر نبیل گبول وزیراعظم کی نشست پر بیٹھ کر وزیر دفاع خواجہ آصف کے ساتھ گفتگو کرتے رہے مگر اس سارے عمل میں سپیکر ایاز صادق اس عمل کو مسلسل نظر انداز کرتے رہے اور ان کو قائد ایوان اور خزب اختلاف کی نشست سے اٹھانے کا حکم نہیں دیا ۔

قومی اسمبلی اجلاس،تہمینہ دولتانہ نے شیخ وقاص اکرم کو لوٹا قرار دے دیا
قومی اسمبلی اجلاس میں تہمینہ دولتانہ نے شیخ وقاص اکرم کو لوٹا قرار دے دیا، تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ وقاص شیخ آج تمہارے پاس ہے، کل ہمارے پاس تھا ، نجانے کہاں جائے گا،تہمینہ دولتانہ کے ریمارکس پر سنی اتحاد کونسل اراکین نے احتجاج کیا، تہمینہ دولتانہ نے اپوزیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ہو گا چھوٹے منے بھائیو، زراعت ملک کو اٹھانے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے،نگراں حکومت کے فیصلے ہمارے اوپر نہیں ڈالے جا سکتے، تحریک انصاف قومی اسمبلی میں کسانوں کی آواز بن گئی، شیخ وقاص اکرم نےدھواں دھار خطاب کیا اور کہا کہ کسان دشمن حکومتی پالیسی مسترد، کسان کو چھری پھیرو گے تو کیسے دفاع کرو گے؟جس دن کسان باہر آگیا پھر آپ کا کیا بنے گا؟حکومت کو پہلے ہی مینڈیٹ چوری، غریبوں اور عورتوں کو جیلوں میں رکھنے کی بددعائیں مل رہی ہے، مزید کسانوں کی بددعا نہ لیں، چند دن کیلئے اپنے ڈاکے بند کریں اور کسانوں کیلئے کچھ کر دیں-

Leave a reply