fbpx

منرل پانی یا آبی زہر:ملک کی 22 سے زائد کمپنیاں کس طرح قوم کولوٹ رہی ہیں :رپورٹ آگئی

اسلام آباد:منرل پانی یا آبی زہر:ملک کی 22 سے زائد کمپنیاں کس طرح قوم کولوٹ رہی ہیں :رپورٹ آگئی ،اطلاعات کے مطابق پانی کے وسائل کی تحقیق کونسل (پی سی آر ڈبلیو آر) نے خبردارکیا ہے کہ پاکستان میں پانی فروخت کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنی سمیت 22 برانڈز کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے .

ان برانڈز کے 180 نمونے اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، کراچی، ٹنڈو جام، بدین، کوئٹہ، لورالئی، پشاور، ایبٹ آباد، سیالکورٹ، ساہیوال، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، میانوالی، مظفر آباد اور گلگت سے حاصل کیے گئے تھے.

ان نمونوں کے نتائج پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کی رپوٹ ملانے پر معلوم ہوا کہ 22 برانڈز ایسے ہیں جن کا پانی انسانی زندگی کے لیے غیر محفوظ ہے ایک برانڈ میں آرسینیک کی مقدار 24 مائیکرو گرام فی لیٹر پائی گئی ہے جب کہ کنٹرول اتھارٹی کے معیار کے مطابق پینے کے پانی میں آرسینک کی مقدار 10 مائیکرو گرام فی لیٹر ہونی چاہیے.

پانی کے وسائل کی تحقیق کونسل (پی سی آر ڈبلیو آر) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانی میں سوڈیم کی مقدار 50 ملی گرام فی لیٹر ہونی چاہیے ایک لیٹر پانی کی بوتل میں 500 ملی گرام ٹی ڈی ایس کی تعداد ہونی چاہیے.

پانی کے وسائل کی تحقیق کونسل (پی سی آر ڈبلیو آر) کی طرف سے جاری کردی فہرست میں کہا گیا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنی سمیت پندرہ برانڈز ایسے بھی ہیں جن کو پیور، ہنزہ، ہائیڈریڈ، بلیو پلس، سنلے، ایکوا کینگ، اسپرنگ فریش لائف، یو ایف پور ایج، دورو، ڈروپیس ، پیوری کنا، ڈراپس، بیسٹ نیچرل، البرکا واٹر اور کویو کو سوڈیم کی مقدار 60 سے 165 ملی گرام فی لیٹر کے باعث غیر محفوظ قرار دے دیا ہے.