میر شکیل الرحمان کی گرفتاری، حکومتی موقف بھی آ گیا،فردوس عاشق نے جیو جنگ گروپ کوکھری کھری سنا دیں

0
45

کسی سیٹھ کی مالی معاملات میں ہونے والی گرفتاری کو میڈیا کی‌ آزادی کے ساتھ جوڑنا صحافتی اقدار کی نفی ہے،فردوس عاشق اعوان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ جب سے حکومت آئی ہے لو لے لنگڑے ادارے اور سسکیاں لیتا قانون جس کو مخصوص لوگوں نے گھر کی لونڈی بنایا ہوا تھا ، موجودہ حکومت اداروں میں ریفارمز لائی،عوام کو انصاف کی فراہمی دستیاب کرنے اور یقینی بنانے میں حکومت ہر مرحلے پر نہ صرف ان قوانین میں جہاں سقم ہے وہاں بہتری کے لئے پارلیمنٹ کی طرف متوجہ ہے اس کے ساتھ ساتھ حکومت اپنے 18 ماہ کے عرصے میں وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت ہر آئینی و قانونی محاذ پر قانون کے ساتھ کھڑی ہے، آئین کے ساتھ کھڑی ہے

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کل کا جو واقعہ ہوا ،میڈیا کے ذریعے پتہ چلا،ایک صحافی برادری کا رکن،دوسرے صحافتی فرد کے خلاف درخواست دیتا ہے اور ایک ایسے ادارے میں دیتا ہے جس پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں، اس ادارے کی اب تک کی جو کارکردگی ہے جہاں آپ کے سوالات ہوں گے ہمارے بھی ہیں، ہم بھی عوام کو جوابدہ ہیں، وزیراعظم کا احتساب کا نعرہ، کرپشن کے خاتمے کا خواب اس کو شرمندہ تعبیر بنانے کے لئے ہم نیب سے پورے پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی طرح توقع کرتے ہیں کہ وہ قانون کا یکساں اطلاق کرے، اس ادارے میں انتقام کی بو نہیں آنی چاہئے اور نہ ہی یہ تاثر ابھرنا چاہئے کہ کمزور دھر لیا جائے اور طاقتور چھوڑ دیا جائے، جو ادارے کا آئینی کردار ہے ہم اسے آگے بڑھنا دیکھنا چاہتے ہیں یہی خؤاہشات پاکستان کے عوام کی ہیں، قانون کی حکمرانی کے لئے عمران خان کو عوام نے وزیراعظم چنا، عمران خان کی قیادت میں ادارے آزاد ہیں، غیر جانبدارانہ طریقے سے اپنا کام کر رہے ہیں

فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ کل کی گرفتاری میں نیب کا کردار حکومت کے ساتھ نتھی کرنا اور مسلسل یہ تاثر دینا کی حکومت نے صحافتی آزادی کو ختم کر دیا ہے، کسی سیٹھ کی کاروباری، یا مالی معاملات میں ہونے والی گرفتاری کو میڈیا کی‌ آزادی کے ساتھ جوڑنا اور حکومت کے‌ خلاف استعمال کرنا یہ بھی صحافتی اقدار کی نفی ہے،اس عمل کو ایک آزاداور خود مختار ادارہ کر رہا ہے، اس کو انتقام پسندی اور حکومت کی خواہش کے تابع بیان کرنا نہ صرف نا انصافی بلکہ سراسر زیادتی ہے، ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ الزامات کا جواب دے ،مجھے یقین کامل ہے کہ اگر نیب میر شکیل الرحمان کو ایسے الزامات کے تحت گرفتار کرتی ہے جس کے تحت انہوں نے اسوقت کے سابقہ وزیراعظم سے کچھ پلاٹ لئے اور ان پلاٹ پر کوئی فیور لی، سپورٹ لی،اور اس کو کسی پرسنل گیم کے لئے استعمال کیا.

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کے ادارے سے وابستہ حکومت پر تیر برسانے کے بجائے میر کی بے گناہی کے ثبوت عدالت میں پیش کریں، عدالت کے انصاف پر کسی کو کوئی شک نہین، جیو، جنگ کو بھی عدالت سے انصاف کی توقع رکھنی چاہئے، حکومت تمام صحافتی برادری کو واضح کرنا چاہتی ہے کہ فرد واحد کا ذاتی مالی پراپرٹی سے جڑا ایشو جو نیب کے پاس زیر تفتیش ہے اس کی تجقیقات ہونے دیں.

Leave a reply