میر شکیل الرحمان ضمانت، تحریری فیصلہ جاری،پاسپورٹ جمع کروانے کا بھی حکم

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے میر شکیل الرحمان کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ میر شکیل الرحمان کی ضمانت منظور کی جاتی ہے،میر شکیل الرحمان کو ایک ایک کروڑ روپے کے 2 مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا،فیصلہ میں کہا گیا کہ میر شکیل الرحمان ٹرائل کورٹ میں پاسپورٹ جمع کرائیں ،متعلقہ حکام میر شکیل الرحمان کا نام ای سی ایل پر ڈال سکتے ہیں

واضح رہے کہ گزشتہ روز عدالت نے میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت منظور کی تھی،جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،سپریم کورٹ کے بینچ میں جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین شامل تھے،میر شکیل الرحمان کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے اور کہا کہ میر شکیل کوالاٹ زمین سےقومی خزانےکو ایک پینی کا بھی نقصان نہیں ہوا،میر شکیل الرحمان کو 12 مارچ کو گرفتار کیا گیا،انکوائری کے وقت میر شکیل الرحمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، اس پورے معاملے میں قومی خزانے کا ایک دھیلے کا نقصان نہیں ہوا، کل رقبہ پالیسی کے مطابق 54 کنال 5 مرلہ بنتا ہے،ڈی جی ایل ڈی اے نے میر شکیل الرحمان کو خط لکھا،22-5-1986 کو میر شکیل الرحمان کو اس اراضی کی پاور آف اٹارنی ملی

جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ یہ اراضی درخواست گزار نے کب لی، جس پر امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہاکہ اس وقت کے ڈی جی ایل ڈی اےنے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا، وراثتی اراضی پر عبوری تعمیرات کے لیے 1986 میں درخواست دی،کل رقبہ پالیسی کے مطابق 54 کنال 5 مرلہ بنتا ہے، درخواست گزار کے پاس 180 کنال 18 مرلہ کل رقبہ ہے،محمد علی جوہر ٹاؤن بنانے کے لیے یہ اراضی حاصل کی گئی،12 مارچ کو وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوئے، موجودہ ریفرنس 4 لوگوں کے خلاف دائر ہوا،اس کیس میں درخواست گزار کے علاوہ کسی ایک کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا،یہ 180 کنال 18 مرلہ 1982 میں ایل ڈی اے نے ایکوائر کی،مالک محمدعلی کے انتقال کے بعد یہ وراثت 1985 میں تقسیم ہو ئی،اس وقت کے ڈی جی ایل ڈی اےنے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا، میر شکیل الرحمان کو ایک ایک کنال کے 54 پلاٹ ملے ہیں،

جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے قومی خزانے کو نقصان کا کوئی سوال اٹھایا ہے، امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ نیب نے ایک روپے کے نقصان کا سوال نہیں اٹھایا،یہ کیس کسی حکومتی ادارے کے بجائے ایک شہری کے دائر کرنے پر ہوا،جسٹس یحیٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت میر شکیل کے قبضے میں 54 کنال سے زیادہ اراضی ہے،امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ 4 کنال 12 مرلے اراضی زائد قبضے میں ہونے کا الزام ہے،یہ اراضی راستے کے طور پر دی گئی،اس وقت 60 ہزار روپے فی کنال رقم رکھی گئی،نیب کا یہ کیس نہیں کہ اراضی کی رقم ادا نہیں کی گئی،

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا یہ رقم آج بھی واجب الادا ہے،ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ جی ہمارا یہ کیس بھی ہے، امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایل ڈی اے کو رقم پالیسی کے مطابق 1987 میں ادا کردی گئی ہے، نیب کا کیس ہے پالیسی کے تحت نہیں بلکہ مارکیٹ ریٹ پررقم ادا کرنی تھی، عدالت نے کہا کہ آپ نے دیکھنا ہے کہ آپ کا کیس پالیسی کے تحت درست بنتا ہے؟ کیا اس سارے عمل میں کوئی چیز بھی پالیسی کے برعکس نہیں تھی؟نیب بتائےاس جج کے پاس کتنے کیس زیرالتواہ یں جہاں میر شکیل کا کیس ہے،نیب اس احتساب عدالت میں زیر التوا مقدمات کے گواہان کی تعداد بھی بتائے،

امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ میر شکیل الرحمان نے 1987 میں پاور آف اٹارنی حاصل کی، کیس یہ ہے کہ 4 کنال 12 مرلہ کی اضافی زمین حاصل کی گئی،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ پر الزام ہے کہ آپ نے سڑکوں کی زمین حاصل کی، امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ جو اضافی زمین حاصل کی گئی اس کو یہ سڑکیں کہہ رہے ہیں،لاہور کا ماسٹر پلان 27 اگست 1990 میں منظور ہوا، میر شکیل الرحمان نے زمین 1987 میں خریدی اور اضافی زمین کی قیمت بھی ادا کیخریدی گئی زمین پر تعمیرات ایل ڈی اے کی منظوری کے بعد کی گئیں، آج تک ان تعمیرات پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا،34 سال بعد اچانک کیس آ گیا، اضافی زمین کی قیمت 1987 کے ریٹ کے مطابق ادا کر دی گئی تھی،

جنگ و جیو گروپ کے ہیڈ میر شکیل الرحمان کی لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی جس پر انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا.جیو جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن کو نیب نے گرفتار کیا تھا،جیو،جنگ پرنواز شریف کی نوازشات، لاہور کی قیمتی ترین 54 کنال اراضی کا تحفہ ،نیب نے میر شکیل کونیب آفس بلایا جہاں وہ سوالات کے جوابات نہ دے سکے جس پرنیب نے میر شکیل الرحمن کو گرفتار کرلیا تھا

اس سے قبل میر شکیل الرحمان 5 مارچ کو پہلی مرتبہ اس کیس میں پیش ہوئے تھے، میر شکیل نے پہلی پیشی میں تین ملازم اور دو بچے نیب دفتر ساتھ لے جانے کی درخواست کی تھی تاہم ملازم ساتھ لانے کی درخواست مسترد کردی گئی تھی اور بچوں کو نیب دفتر میں داخلے کی اجازت دی گئی۔

‏لاہور ہائیکورٹ نے میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت خارج کردی

کسی سیٹھ کی مالی معاملات میں ہونے والی گرفتاری کو میڈیا کی‌ آزادی کے ساتھ جوڑنا صحافتی اقدار کی نفی ہے،فردوس عاشق اعوان

مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

حمزہ شہباز، میر شکیل الرحمان کی رہائی کیلئے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

نواز شریف کے وارنٹ ،عدالت کا تحریری حکم بھی آ گیا

میر شکیل الرحمان کیس میں کیا غلط ہوا؟ سنئے مبشر لقمان کا کھرا سچ

میر شکیل سے استقبالیہ پر شناختی کارڈ لیا گیا اور اندراج رجسٹر پر دستخط کروائے گئے جس کے بعد انھیں کمرہ نمبر 2 میں لے جایا گیا جہاں اس سے قبل نواز شریف اور شہباز شریف سے بھی تفتیش ہو چکی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.