fbpx

ممنوعہ فنڈنگ،عمران خان کے گرد گھیرا تنگ،خط لکھ دیا گیا

ممنوعہ فنڈنگ،عمران خان کے گرد گھیرا تنگ،خط لکھ دیا گیا

ممنوعہ فنڈنگ کیس، ایف آئی اے نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے پارٹی کو ملنے والے قومی و بین الاقوامی فنڈز کی تفصیلات طلب کر لی ہیں

ایف آئی اے اسلام آباد کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اب تک پی ٹی آئی کی ممبر شپ فیس وصولی کا ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے، پی ٹی آئی کے قیام سے لے کر اب تک کا ریکارڈ مہیا کریں، تمام قومی و بین الاقوامی کمپنیوں، اداروں سے لئے گئے فنڈز کا ریکارڈ بھی مہیا کریں،

عمران خان کو ایف آئی اے اسلام آباد زون کی ڈپٹی ڈائریکٹر نے خط لکھا ہے، خط کی ایک کاپی تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کو بھی بھجوائی گئی ہے، ایف آئی اے کے خط میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے 1996 سے لے کر اب تک کی تمام تنظیموں اور ٹرسٹ کا ریکارڈ فراہم کیا جائے اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی رجسٹرڈ اورغیر رجسٹرڈ قومی و بین الاقوامی تنظیموں اور ٹرسٹ کا ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے تمام اکاؤنٹس کھولے جانے سے لے کر اب تک کی سالانہ اسٹیٹمنٹ فراہم کی جائے

نجی ٹی وی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پارٹی کے تمام عہدیداروں کی فہرست اور شناختی کارڈ نمبرز فراہم کیے جائیں ان افراد کے نام فراہم کیے جائیں جنہیں پارٹی اکاؤنٹس آپریٹ کرنے کی اجازت تھی اب تک پارٹی کے مالی امور دیکھنے والے بورڈ کی تفصیلات فراہم کی جائیں، عمران خان اور سیکرٹری جنرل کو 15 دنوں میں خط کا جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے

وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی روشنی میں پی ٹی آئی کی ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی جو معاملے کی تحقیقات کے لیے پی ٹی آئی رہنماؤں سے تحقیقات کر رہی ہے

عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور