fbpx

مملکت خداد پاکستان . تحریر:فیصل خان

دنیا میں اس وقت دو سو سے زائد ممالک ہیں۔ جن میں سے کچھ ترقی پذیر اور کچھ ترقی یافتہ ہیں۔ ان میں سے ایک ملک ایسا بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے روس سے کم از کم دس گنا چھوٹا ہے، آبادی کے لحاظ سے چائنہ، انڈیا سے چھ گنا چھوٹا لیکن جس کا نہری نظام روس کے نہری نظام سے تین گنا بڑا ہے۔
یہ ملک دنیا میں مٹر کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے، خوبانی، کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سےچوتھے،
پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے،
دنیا کی سب سے مہنگا ترین خشک میوہ چلغوزے کی پیداوار میں دوسرے نمبر پر،
(چترال اور وزیرستان)
آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں،
چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں،
گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں
اور مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ہے۔
یہ ملک مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں نمبر پر ہے۔ اسکی صرف گندم کی پیداوار پورے براعظم افریقہ کی پیداوار سے زائد اور برِ اعظم جنوبی امریکہ کی پیداوار کے برابر ہے۔ یہ ملک دنیا میں صنعتی پیداوار کے لحاظ سے پچپنویں نمبر پر ہے۔ کوئلے کے زخائر کے اعتبار سے چوتھے اور تانبے کے زخائر کے اعتبار سے ساتویں نمبر پر ہے۔ سی این جی کے استعمال میں اول نمبر پر ہے۔ اسکے گیس کے زخائر ایشیا میں چھٹے نمبر پر ہیں اور یہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے۔

لیکن۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔لیکن

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ملک کرپٹ، چور اور لٹیرے سیاستدانوں کی پیداوار میں ایک نمبر پر ہے
وہ اسلئے کہ ملک پچھلے 30 سالوں سے چوروں کے شکنجے میں رہا
ملک کو تباہ کرکے اپنے کاروباروں کو وسعت دی
ملک گروی رکھ کر بیرون ملک جائیداد بنائی
ملک میں روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر اپنے بچوں کو انگلینڈ شفٹ کروائے
اپنے خاندان والو کو اعلی اعلی منسبوں پر فائز کروائے
ملک کو غیروں کا مرکز بنایا
خق و سچ بات کرنے والو کا گلہ دبایا
اور جس نے ملک کی فلاح چاہا اسے غدار اور ایجنٹ کہا۔

اور آج اس ملک کا حال یو چھوڑ کر گئے ہے کہ ملک کا حزانہ خالی ہے
ملک آئی ایم ایف کو گروی دیا ہے
قرضوں میں جکڑا ہوا ہے
معیشت ڈوب گئی ہے
لوگ غربت سے مر رہے ہے
عدالتوں سے غریب کیلئے قانون اور امیر کیلئے ریلیف مل رہے ہے

اور یہ ہے
مملکتِ خداداد” پــــــاکـــــــــــستان ”