fbpx

موبائل فون ایک بڑھتی ہوئی بیماری تحریر : فرح بیگم

موبائل فونز کے استعمال کا سب سے بڑا نقصان خود کو بیماریوں میں مبتلا کرنا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے ڈاکٹرز کا مشورہ یہ ہے کہ موبائل فونز کا زیادہ استعمال ذہنی دباؤ ، پریشانی ، دل کی بیماری ،سر درد ، نظر کا کمزور ہونا اور دوسری بیماریوں کا سبب ہے۔ لوگ کام کرتے ،کھاتے، چلتے پھرتے، ڈرائیونگ کرتے وقت استعمال کرتے ہیں ۔ بشتر احاثات سڑک پر موبائل فون کے استعمال کرنے سے ہوتے ہیں ۔ البتہ گاڑی چلاتے وقت موبائل یوز کرنا کسی کی جان لینے کے برابر ہے ۔ زیادہ موبائل فون کا استعمال نوجوان نسل میں بہت اہم پایا جاتا ہے۔ سم فرنچائز کے دیے گۓ پیکجز ،فری کالز،فری ایس ایم اس آفرز نوجوان نسل کو خراب کر رہی ہے ۔سری سری رات کال پر باتیں کرنا ،ویڈیو گیمز کھیلنا ، سوشل میڈیا کا بے جاں استعمال صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے ۔
موبائل کے استعمال سے تعلیم پر بھی گہرا اثر پڑھتا ہے ۔بچے اپنا زیادہ وقت موبائل فون پر لگاتے ہیں جس کا سیدھا اثر بچوں کی پڑھائی پر ہوتا ہے نا وہ ٹیسٹ میں دل لگا کر محنت کرتے ہیں نا پاس ہوتے ہیں ۔ اس لیے اگر تعلیم حاصل کرنا چاھتے ہیں تو موبائل کے استعمال سے پرہیز کرنا ہوگا ۔ جس کالج اور یونیورسٹی میں موبائل فون لے کر جانے میں پابندی نہیں ہوتی وہاں بعض اوقات طالب علم لیکچر کی دوران ایس ایم ایس یا ویڈیو گیمز کھیلتے نظر اتے ہیں ۔موبائل فون سے فحاشی کا کافی حد تک اصافہ ہوا ہے ۔ چاہے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہو یا ہوئی بھی اپپ ، اس سے بچے بہت بگڑ گے ہیں ۔ پہلے آپ نے سنا ہوگا چوری ہوئی ہے ، یا كیڈناپپینگ ہوئی ہے لیکن آج کل یہ سب چیزیں آنلاین موبائل فون کے ذریغے ہو رہی ہیں ۔ یہاں تک کے بلیک میالینگ بھی کھلے عام جاری ہے ۔اس کی وجہہ سے کرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ جس میں مختلف وارداتیں شامل ہیں ۔ موبائل فون چھیننے کے واقعات اس قدر بڑھ گۓ ہیں کہ گننا مشکل ہے ۔
موبائل فون کے حوالے سے اور بھی بہت نقصانات ہیں جو کے معاشرے میں بہت واضح ہیں اور لوگ انکو جھیل رہے ہیں لیکن اگر ہمیں ان نقصانات سے بچانے کے لیے ایسے کام کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہہ سے ہم اس ضرورت کی چیز کو استعمال تو کریں پر وہ بھی ایک حد تک ، اور اس معاشرے پر جو اثرات پڑھے گے اس کو بھی کم کر سکیں۔
اب ہم سب والدین کی ذمداری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل دینے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ انکو موبائل کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے بھی تو یہ دیکھ لیں کے وہ اسکا استعمال کس طرح ،کب اور کیسے کر رہے ہیں ۔ بچوں کی غیر موجودگی میں انکے موبائل فون کو دیکھیں اور چیک کریں کہ وہ اس کا استعمال غلط تو نہیں کر رہے ہیں ۔ بچوں کی خفاظت اب والدین پر لازم ہے۔

Twitter ID: @iam_farha

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!