fbpx

ماڈل کورٹس ، کامیاب منصوبہ ؛ 5 ماہ میں منشیات، قتل کے 12 ہزار سے زائد کیسز کا فیصلہ کیا

کراچی: پاکستان میں ماڈل کورٹس کا منصوبہ اور فارمولا کامیاب ہوچکا ، جب سے ماڈل کورٹس نے کام کرنا شروع کیا ہے ، ہزاروں کی تعداد میں لٹکے ہوئے فیصلے گھنٹوں اور دنوں میں ہوگئے ، ان کورٹس کے تیز ترین فیصلوں کے حوالے سے جو تازہ رپورٹ آئی ہے اس کے مطابق ملک بھر ممیں قائم 167 ماڈل عدالتوں میں 5 ماہ کے عرصے میں تیز ٹرائل کرتے ہوئے قتل، منشیات کے 12 ہزار 584 کیسز کا فیصلہ کیا گیا یکم اپریل کو قائم ہونے والی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹس نے قتل کے 4 ہزار 897 اور منشیات کے 7 ہزار 687 کا تیز ترین ٹرائل کر کے فیصلہ کیا۔رپورٹ کے مطابق دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ان تمام کیسز کی کارروائی کے دوران 55 ہزار 619 گواہاں سے جرح کی گئی۔

ذرائع کے مطابق ماڈل کورٹس کے فیصلوں کو اگر وفاقی دارالحکومت سے لیا جائے تو اسلام آباد جنوبی کی ماڈل کورٹ کے ڈسٹرک اینڈ سیشن جج سہیل ناصر نے سب سے زیادہ 69 قتل کیسز کا فیصلہ کیا جس کے بعد قمبر شہداد کوٹ ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج غلام قادر تونیو نے 60 قتل کیسز کا فیصلہ کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان آصف سیعد کھوسہ 167 میں سے 24 ماڈل کورٹس کے پریزائڈنگ افسران کو ضلعی سطح پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں کیسز کا فیصلہ کرنے پر اعزاز سے نوازیں گے۔

ذرائع کے مطابق چارسدہ کی ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج (اے ایس جے) ارباب سہیل حامد نے منشیات کے سب سے زیادہ 135 کیسز جبکہ ملیر ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نوید احمد سومرو نے 132 کیسز اور میانوالی ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج راجہ محمد اجمل خان نے منشیات کے 118 کیسز کا فیصلہ کیا۔

ذرائع کے مطابق تیسری کیٹیگری میں اے ایس جے ارباب سہیل حامد (چارسدہ) نے منشیات کے 185 کیسز، ملیر کے اے ایس جے نوید احمد سومرو قتل اور منشیات کے 180 اور اسلام آباد کے ڈسٹرک سیشن جج سہیل ناصر نے اس قسم کے 167 مقدمات نمٹائے۔

ماڈل کورٹس کے فیصلوں کی تازہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں شہداد کوٹ نے غلام قادر تونیو نے قتل کے سب سے زیادہ 60 کیسز، کراچی وسطی کے لیاقت علی کھوسو نے 50 جبکہ ملیر کے اے ایس جے نوید احمد سومرو نے 48 کیسز کا فیصلہ سنایا۔

سندھ ،اسلام آباد کی طرف صوبہ خیبرپختونخوا میں 2 خواتین ایڈیشنل اینڈ سیشن ججز، مرداد کی نادیہ سید اور ایبٹ آباد کی زینب ریحام نے سب سے زیادہ قتل کے مقدمات کا فیصلہ کیا جن کی تعداد بالترتیب 55 اور 51 ہے۔

ذرائع کےمطابق دوسری جانب بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی کے اے ایس جے اسداللہ کاکڑ نے سب سے زیادہ 47 قتل کیسز، برکھان کے اے ایس جے ظفر جان نے 29 جبکہ لورالائی کے ڈسٹرک جج منیر احمد نے 21 مقدمات نمٹائے، یاد رہے کہ جب سے ماڈل کورٹس نے فیصلے دینے شروع کیئے ہیں‌ دوسری عدالتوں پر بوجھ کم ہو گیا اور وہ بھی پہلےسے بہتر کام کررہی ہیں