fbpx

آسامی مسلمانوں کی زندگیاں مشکل میں :پولیس چُن چُن کرمسلمانوں کوقتل کرنے لگی

آسامی مسلمانوں کی زندگیاں مشکل میں :پولیس چُن چُن کرمسلمانوں کوقتل کرنے لگی،اطلاعات کے مطابق مودی حکومت نے ایک بارپھرآسامی مسلمانوں کے‌خلاف مظالم کا سلسلہ شروع کردیا ہےاورآج توجس طرح بھارتی پولیس اورخفیہ اداروں کے لوگوں نے مسلمانون پر مظالم کئے اس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی

آج ایک ایسے ہی دردناک واقعہ میں ایک آسامی مسلمان کوبھارتی پولیس صرف اس لیے ماردیتی ہے کہ وہ اپنے حق کےلیے احتجاج کیوں کرتا ہے

مودی سرکار نے مسلم دشمنی میں تمام حدیں پار کردی، ریاست آسام میں بنگالی مسلمانوں کے آٹھ سو گھروں کو مسمار کردیا گیا۔ مزاحمت پر 2 شہری جاں بحق ہو گئے۔

غیر ملکی میڈٰیا رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس سوچ کی حامی بھارتی فوج نے ریاست آسام میں ظلم کے پہاڑ توڑتے ہوئے مسلم دشمنی کی انتہا کردی۔

ریاست آسام میں دہائیوں سے رہائش پزیر بنگالی غیر ملکی قرار پائے جس کے بعد بھارتی فورسز نے 800 گھروں پر بلڈوزر چلا دیے جبکہ اپنے گھروں کو مسمار ہوتے دیکھ کر ایک لاٹھی بردار شخص نے مزاحمت کی تو ظالم بھارتی فوجیوں نے براہ راست گولی ماردی۔ جبکہ واقعات میں دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

بھارتی فورسز کی کارروائی کی کوریج کرنے والا صحافی بھی انتہا پسند نکلا اورمسلمان شخص کی لاش پر اچھل کود کرتا رہا اور بھارتی فوجی خاموش تماشائی بنے رہے۔

اس مسلمان کوبھارتی پولیس ڈنڈے مار مار کرشہید کردیتے ہیں کہ دیکھنے والے بھی اپنے حواس خوف کی وجہ سے کھو بیٹھتے ہیں، پھرپولیس ہی نہیں پولیس والوں کا ایک کیمرہ مین ٹھڈے مار مار کرشہید کرتا ہے لیکن اس پردنیا بھرسے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے لیکن پاکستان کی کچھ سیاسی جماعتوں کے قائدین خاموش ہیں اوران کی خاموشی بھی بڑی معنی خیز ہے

یاد رہےکہ مودی سرکار کی جانب سے بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور مسلمانوں کے بعد دیگر اقلیتوں کا بھی بھارت میں رہنا مشکل کردیا گیا ہے۔کشمیریوں کے بعد بھارتی انتہا پسند حکومت نے آسام میں بھی مسلمانوں کو نشانے پر رکھ لیا۔ وہ یوں کہ حکومت نے آسام کے 19 لاکھ افراد سے بھارتی شہریت چھین لی ہے جن میں سے زیادہ تر مسلمان ہیں جنہیں بنگلہ دیشی قرار دیدیا گیا ہے۔

حکومتی اہلکاروں نے نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کی حتمی فہرست سے ان لوگوں کے نام نکال دیے گئے جو یہ ثابت نہ کرسکے کہ وہ 24 مارچ 1971 کو یا اس سے پہلے آسام پہنچے تھے۔ ان میں کچھ ہندو بھی شامل ہیں۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ لوگ بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر نقل مکانی کرکے آسام میں آباد ہوگئے تھے۔ ان 19 لاکھ افراد کو اپیل کیلئے چار ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

 

 

بھارتی اقدام سے اب مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے 19 لاکھ سے زیادہ افراد نہ صرف بے گھر ہو گئے ہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اب انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا جس کے لیے پہلے سے ہی آسام میں دس جیلوں کی تعمیر جاری ہے۔ ایک جیل میں تین ہزار افراد تک کو قید کرنے کی گنجائش ہے۔ مودی سرکار نے ریاست آسام میں ممکنہ احتجاج کو طاقت کے زریعے دبانے کا منصوبہ بھی بنایا ہوا تھا۔

علاقے میں صورتحال پر قابو رکھنے کیلئے 60 ہزار پولیس اہلکار اور 19 ہزار پیرا ملٹری اہلکار تعینات کر دئیے گئے۔ احتجاج کرنے والوں کو ملک بدرکردیا جاتا ہے ، پولیس اس قدر ظلم کرتی ہے، جس طرح آج ایک شہری کو بھارتی پولیس نے جس طرح ظلم کا نشانہ بنا کرجان سے مار دیا ریاست آسام بھارت کے شمال مشر ق میں واقع ہے ، اس کا دارالحکومت دسپور ہے ۔ یہ ریاست گھنے جنگلوں اور سرسبز پہاڑوں کی سرزمین کہلاتی ہے ۔

آسام کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب چونتیس فیصد بتایا جاتا ہے۔ آسام کے اکثر مسلمان بنگالی زبان بولتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ بنگالی ہیں۔آسام میں مسلمانوں کی شہریت کا معاملہ گزشتہ39برس سے انتہائی سنگین چلاآ رہا ہے ۔ ماضی میں ایسے لاتعداد واقعات رونماہو چکے ہیں جب ریاستی اداروں کی ہلہ شیری سے متشدد ہندو تنظیموں نے مسلمان آبادیوں پر حملے کئے جن میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے ا ور ان کی جائیدادیں برباد ہوئیں۔ مسلمانوں کو مختلف ادوار میں بنگالی ہونے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتاراجاتا رہا ہے ۔

آسام کے مظلوم مسلمان 1983ء کے فسادات کو یاد کر کے آج بھی خون کے آنسو بہاتے ہیں جب ہندو تنظیموں نے صرف چند دنوں میں چار ہزار کے قریب مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، عورتوں کی عصمت دری کی اور ان کی املاک کو لوٹاگیا ۔ اس واقعے کے متاثرین آج تک خوارہو رہے ہیں لیکن بھارتی عدالتیں انہیں انصاف فراہم کرنے سے کلی طور پر انکاری ہیں ۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!