ورلڈ ہیڈر ایڈ

مودی جہاں بھی جائے گا پیچھا کریں گے، علی امین گنڈا پور

وفاقی وزیر برائے اُمور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پورنے کہا ہے کہ غاضب بھارت کو کشمیرپر غیر قانونی قبضہ چھوڑنا پڑے گا

اسلام آباد ۔ 22 ستمبر (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے اُمور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پورنے کہا ہے کہ غاضب بھارت کو کشمیرپر غیر قانونی قبضہ چھوڑنا پڑے گا ، ہوسٹن میں سفاک مودی کے خلاف بڑا احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں اور ہندو فاشسٹ ایجنڈے کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں انٹرنیشنل ہیومینٹرین فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں پاکستانی کشمیری اور مقامی کمیونٹی نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔

امریکی میڈیا وزیراعظم کی صلاحیتوں کا معترف،مودی کا اڑایا مذاق

انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دُنیا کے تمام ممالک میں مودی حکومت کے فاشسٹ نظریے کے خلاف دُنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں پاکستان کی حکومت کی کامیاب سفارت کاری کی بدولت پہلی دفعہ دُنیا کے پچاس سے زائد ممالک مسئلہ کشمیر پرپاکستانی موقف کی تائید کررہے ہیں اور مختلف یورپی اور امریکن پارلیمنٹ میں بھی مقبوضہ کشمیر پر ہندو انتہاپسندی پر بات ہو رہی ہے ۔

علی امین خان گنڈا پور نے کہا کہ مودی جہاں بھی جائے گا اس کا پیچھا کریں گے اور اُس کو مقبوضہ کشمیر پر قبضہ ہر حال میں چھوڑنا پڑے گا۔انہوںنے کہا کہ جتنے افراد مودی کے جلسے میں ہوں گے اس سے دوگنی تعداد میں لوگ اس کے انتہا پسند رویے اور فاشسٹ ازم کے خلاف مظاہرہ کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنا تاریخی خطاب کریں گے اور اقوام عالم کو مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم اور انسانیت سوز اقدام سے آگاہ کریں گے اور کوشش کریں گے کہ دُنیا بھارت کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے اپنا غاصانہ قبضہ فوری طور پر ختم کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت کا حق دے۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی ملاقات ہوئی ہے،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں افغان امن عمل پرتبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ پاکستان افغان امن عمل کوکامیاب بنانےکیلئےہرممکن کوشش کررہاہے، پاکستان نے افغان طالبان سمیت تمام فریقین کو ایک میز پر اکٹھا کیا، امید ہے فریقین کے درمیان مذاکرات جلد بحال ہوجائیں گے،

وزیراعظم عمران خان نے طالبان سےآخری لمحےمیں بات چیت یکطرفہ ختم کرنےپراظہارافسوس کیا، دونوں رہنماؤں کی طرف سے افغان امن عمل کے لیے گفتگو کے دوبارہ آغاز کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.