fbpx

ملائیشیا کےسابق وزیراعظم مہاتیرمحمد دل کے دورے کے باعث اسپتال منتقل:صحت یابی کے لیے دعائیں جاری

کوالمپور:ملائیشیا کےسابق وزیراعظم مہاتیرمحمد دل کے دورے کے باعث اسپتال منتقل:صحت یابی کے لیے دعائیں جاری،اطلاعات کے مطابق ملائیشیا کے سابق وزیراعظم ، وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی مہاتیرمحمد کو اسپتال کے امراض قلب کے یونٹ میں داخل کیا گیا ہے۔

ادھرعالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مہاتیر محمدکی بیٹی مرینامہاتیرکا کہنا ہےکہ ان کے والدکی حالت بہتر ہے اور وہ علاج کے بعد بہتر ردعمل دے رہے ہیں۔مرینامہاتیر نے مہاتیر محمدکی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے لوگوں سے دعاؤں کی درخواست بھی کی ہے۔

خیال رہے کہ دل کے عارضے میں مبتلا 96 سالہ مہاتیر محمد کا جنوری کے اوائل میں الیکٹو میڈیکل پروسیجر ہوا تھا۔

دو مرتبہ ملائیشیا کے وزیراعظم رہنے والے مہاتیر محمدکا پہلا ہارٹ بائی پاس 1989 اور دوسرا 2007 میں ہوا تھا مہاتیر بن محمد ملائیشیا کے ساتویں وزیر اعظم ہیں جنہوں نے 10 مئی 2018ء کو انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ اس کے قبل وہ اس عہدہ پر 1981ء سے 2003ء تک، 22 سال، فائز رہے۔

ان کا سیاسی سفر 40 سال تک محیط رہا۔ ملائیشیا کی تاریخ میں مہاتیر محمد کا کردار ایک محسن اور دور جدید کے انقلاب کے بانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مہاتیر محمد نے جس طرح ملائیشیا کی تاریخ بدلی قوم کو سیاسی اور سماجی اندھیروں سے نکالا۔ مَلے اور چینی اقوام کی بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرکے انہیں ایک قوم کے وجود کے اندر سمو دیا کیونکہ وہاں دوسری بڑی قوم چینی بولنے والوں کی ہے۔

اس کا سارا کریڈٹ اور فخر اس فلسفہ انقلاب کو جاتا ہے جس کی آبیاری مہاتیر محمد نے کی، آج مسلم امہ کو جو معاشی اور سیاسی مسائل درپیش ہیں، ان کا علاج مہاتیر محمد کے نظریات میں پوشیدہ ہے۔ مہاتیر محمد کے دادا جان کا تعلق پاکستان کے خطہ کوہاٹ سے تھا اور والدہ خالص مَلے (Malay) تھیں اور ایک اسکول میں پڑھاتی تھیں،

مہاتیر محمد بچپن سے انتہائی ذہین تھے اور اعلیٰ قابلیت کے جوہر دکھانے لگے۔ آخر کار سنگا پور سے ڈکٹری کی تعلیم MBBS کے لیے اعزاز کے ساتھ داخلہ لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جب تمام اسکول اور تعلیمی ادارے بند ہو گئے تو مہاتیر محمد نے خاندانی انکم میں اضافے کے لیے ایک کیفے قائم کیا اور حالات کا مقابلہ کیا۔ اپنی والدہ کی نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھتے کہ ”رزق حلال کی برکت سے تم اپنی اور اپنی قوم کی تقدیر بدل سکتے ہو“