fbpx

وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی

وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی
اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیراعظم کو بیرون ممالک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات کیس کی سماعت ہوئی

وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کی تفصیل کیخلاف دلائل کے لیے مہلت مانگ لی ،وفاقی حکومت نے اٹارنی جنرل کو توشہ خانہ تحائف کی تفصیل بتانے کے خلاف دلائل دینے کی ہدایت کر دی،اٹارنی جنرل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے، سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظورکر لی گئی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، آج پیش نہیں ہو سکیں گے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ گزارش ہے کہ میری درخواست غیرموثر ہی نہ ہو جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپکو کیوں لگتا ہے کہ آپکی درخواست غیرموثر ہو جائے گی،یہ وزیراعظم نہ بھی رہیں تو بھی آپکی درخواست غیرموثر نہیں ہو گی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف وزیراعظم کیلئے نہیں ہر ایک کیلئے ہونا چاہیے،اگر مجھے کہیں سے کوئی شیلڈ ملتی ہے تو ہائیکورٹ میں رکھوں گا ساتھ تو نہیں لے جاؤں گا، بیرون ملک سے ملنے والے تحائف میوزیم میں لگے ہوں تو لوگ بھی خوش ہونگے،وزرا اور سیکریٹری عرب ممالک سے مہنگی گھڑیاں پہنے اور دیگر تحفے لے کر واپس آتے ہیں،ایک ایرانی قالین ملے تو وہ بھی میوزیم میں کیوں نہیں رکھا جانا چاہیے،حساس نوعیت کے تحفے بے شک پبلک نہ کیے جائیں لیکن دیگر کو پراسیس تو شروع کرنا ہو گا، مجھے یقین ہے کہ اگر یہ معاملہ وزیراعظم کے سامنے رکھیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہ آپ کر کیا رہے ہیں،جو لوگ یہ تحفے گھر لے گئے ان سے واپس لے کر میوزیم میں کیوں نہیں رکھے جاتے،

واضح رہے کہ حکومت نے وزیراعظم عمران خان کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے کابینہ ڈویژن نے انفارمیشن کمیشن آف پاکستان کا شہری کو وزیراعظم کے تحائف کی تفصیلات دینے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کابینہ ڈویژن کی درخواست پر سماعت کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عتیق الرحمان صدیقی عدالت میں پیش ہوئے حکومت نے عمران خان کو بطور وزیراعظم ملنے والے تحائف کو کلاسیفائیڈ قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ سربراہان مملکت کے درمیان تحائف کا تبادلہ بین الریاستی تعلقات کا عکاس ہوتا ہے ایسے تحائف کی تفصیلات کے اجرا سے میڈیا ہائپ اورغیر ضروری خبریں پھیلیں گی بے بنیاد خبریں پھیلانے سے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے جبکہ ملکی وقار بھی مجروح ہو گا

وزیراعظم عمران خان کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار پر پیپلز پارٹی کا رد عمل سامنے آیا ہے، پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ایک نہیں دو پاکستان۔ حکومت نے وزیر اعظم کو بیرون ملک دوروں میں ملنے والے تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس چل رہے ہیں۔ تحریک انصاف جوابدہی اور شفافیت سے کیوں ڈر رہی۔ دوسروں کی باری پر یہ انقلابی بن جاتے ہیں کابینہ ڈویزن اب کہہ رہی کہ تحائف کی تفصیلات بتانے سے پاکستان کے ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر ہونگے، یہ وہی حکومت ہے جس نے گزشتہ سال ماضی کی حکومتوں کو بیرون ممالک دوروں کے دوران ملنے والے تحائف کی نیلامی کا فیصلہ کیا تھا۔ نیا پاکستان بنانے والے احتساب سے اتنا خوفزدہ کیوں ہین؟

@MumtaazAwan

پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنے والوں کو سزائے موت ہونی چاہیے، چیف جسٹس

وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

حکومت دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف نہ بتا کر کیوں شرمندہ ہورہی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ