اداکار محسن عباس کی اہلیہ کے الزامات پر جوابی پریس کانفرنس، طلاق کے دہانے پر کیوں پہنچے؟ صاف بتا دیا

اداکار اور میزبان محسن عباس نے اپنی اہلیہ فاطمہ سہیل کی جانب سے تشدد اور بے وفائی کے الزامات عائد کئے جانے سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ایسے گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں جہاں خواتین کی عزت کی جاتی ہے، کئی جھوٹ بھی سامنے آئے وہ مجھے کہیں کا بتا کر کہیں اور چلی جاتی تھیں، شادی کے چند روز بعد ہی ان کے جھوٹ سامنے آنے لگے تھے، میری والدہ کے انتقال پر یہ میرے پاس فیصل آباد آئی تھیں،

اداکار محسن عباس کا اہلیہ پرمبینہ تشدد، بیگم نےتصاویر وائرل کر دیں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محسن عباس نے کہاکہ شادی کے چند ماہ بعد ہم دونوں کو احساس ہوگیا تھا یہ شادی نہیں ہونی چاہیےتھی، ان کے والد بھی اس کے گواہ ہیں، اپنی بیٹی کاجھوٹ پکڑےجانےپروہ مجھےکہتےپترایک گناہ تےخداوی معاف کردیندااے، ان کو غلط بیانی کرنے اور جھوٹ بولنے کی عادت تھی،

اداکاروں کے اختلافات میں اضافہ ، تشدد اور مار پٹائی معمول بن گیا

محسن عباس نے کہاکہ میں نے کبھی اپنی پرسنل لائف کو کبھی میڈیا پر نہیں اچھالا، ان کی طرف سے اکثر یہ حرکتیں ہوتی رہتی تھیں، میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم طلاق کے دہانے پر کیوں کھڑے ہیں، 4سال کی شادی میں ہم میاں بیوی ایک سال ہی ساتھ رہے ہیں،

محسن عباس کا کہنا تھا کہ انھوں نے جو تصاویر شیئر کی ہیں وہ 2018 کے ہیں، یہ تصاویر سیڑھیوں کے پھسل کر گرنے کے بعد کی ہیں، جہاں انھوں درخواست دی ہے وہ تھانا ان کو بلا رہا ہے، وہ وہاں پیش نہیں ہورہیں، میں تھانےسےہوکرآرہاہوں اپنابیان رکارڈ کراکےآرہا ہوں، وہ تھانے میں اپنی میڈیکل رپورٹ پیش کردیں، پولیس میرے خلاف کاروائی کردیگی ، میرا سوشل میڈیااکاونٹ ہیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، میرے فیس بک اکاونٹ سےجوکچھ بھی ہورہا ہے وہ میں نہیں کررہا، میں نے ہمیشہ یہ سیکھا ہے کہ گھر کی بات گھر میں رہنی چاہیے، اب ساتھ رہنے کا کوئی جوازنہیں بچا ، طلاق ہی آخری حل نظر آتا ہے، جب جھوٹ بولا جائے تو غصہ بھی آتا ہے اور بدزبانی بھی ہوجاتی ہے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.