fbpx

محسن بیگ کے خلاف درج مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات خارج

اے ٹی سی اسلام آباد، صحافی محسن بیگ کے خلاف درج مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات خارج کر دی گئیں

انسداد دہشتگری عدالت اسلام آباد کے جج راجہ جواد عباس حسن نے کیس سیشن عدالت کو منتقل کر دیا ،محسن بیگ کی جانب سے لطیف کھوسہ ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ دہشت گری کا کیس نہیں بنتا نہ ہی دہشت گری دفعات لگتی ہیں ،اے ٹی سی اسلام آباد نے ملزمان کو 24 جون کو سیشن جج کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کر دی

واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دنوں میں محسن بیگ کے گھر میں سول کپڑوں میں چھاپہ مارا گیا تھا ، محسن بیگ کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور تھانے میں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا بعد ازاں محسن بیگ پر ہی دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا، آج عدالت نے محسن بیگ کیس سے دہشت گردی کی دفعات ختم کر دی ہیں

محسن بیگ کی گرفتاری کے بعد پولیس نے محسن بیگ کے گھر پر بعد میں بھی چھاپے مارے تھے، حکومتی وزرا نے محسن بیگ کو ایک دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم اسلام آباد سمیت ملک بھر کی صحافی برادری محسن بیگ کے ساتھ کھڑی رہی اور حکومتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا،

محسن بیگ کو عدالت نے ضمانت پر رہا کیا،گزشتہ سماعت پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی محسن بیگ کے گھر ایف آئی اے کے چھاپے اور تشدد کی فریش انکوائری کا حکم دیا تھا

کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا