fbpx

اسمارٹ فونز کے ساتھ ائیر یا ہیڈ فونز کا استعمال جو قوت سماعت سے محروم کرسکتی

موجودہ عہد کے نوجوانوں کی وہ عام عادت جو قوت سماعت سے محروم کرسکتی ہے.

آج کل اسمارٹ فونز کے ساتھ ائیر یا ہیڈ فونز کا استعمال بہت عام ہے جس کے نتیجے میں ایک ارب سے زائد نوجوانوں کو قوت سماعت سے محرومی کے خطرے کا سامنا ہے۔ یہ انتباہ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے. دی گارڈین کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرنل بی ایم جے گلوبل ہیلتھ میں شائع تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا کہ 12 سے 34 سال کے 24 فیصد افراد ہیڈفونز، ائیر فونز، ائیر بڈز یا مختلف جگہوں پر موسیقی کو غیرمحفوظ والیوم لیول پر سنتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 2019 میں بتایا تھا کہ نوجوانوں کی قوت سماعت کو ڈیوائسز جیسے اسمارٹ فونز، ہیڈ فونز اور ائیر فونز کے باعث خطرے کا سامنا ہے۔ اس تحقیق میں بتایا گیا کہ محض ایک بار بھی غیرمحفوظ والیوم لیول پر موسیقی سننے سے قوت سماعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ ایسا بار بار کرنے سے سماعت میں تبدیلیاں آنے لگتی ہیں۔ محققین کے مطابق اس عادت کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ قوت سماعت سے محرومی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے دوران دنیا بھر میں موسیقی سننے کی عادت کا جائزہ لیا گیا۔ اس مقصد کے لیے محققین نے ڈیوائسز سے پرشور آواز میں موسیقی سننے کی عادت پر 2000 سے 2021 کے دوران ہونے والی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا۔ ایسی 33 تحقیقی رپورٹس میں 18 ہزار سے زیادہ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ محققین نے تخمینہ لگایا کہ 23 فیصد بالغ افراد اور 27 فیصد نوجوان ڈیوائسز سے غیرمحفوظ والیوم لیول پر موسیقی سنتے ہیں۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ یہ تخمینہ غلط بھی ہوسکتا ہے مگر ان اعدادوشمار کے مطابق 67 کروڑ سے ایک ارب 35 کروڑ افراد کو آنے والے برسوں میں قوت سماعت سے محرومی کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ محققین نے کہا کہ تحقیق کچھ حد تک محدود ہے مگر ڈیوائسز یا مختلف جگہوں پر بہت زیادہ تیز آواز میں موسیقی سننے کی عادت قوت سماعت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ تحقیق میں دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر اس حوالے سے پالیسیوں پر عملدرآمد کیا جائے۔