جے یو آئی نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا، مولانا کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان

0
196
molana juif

جمعیت علمائے اسلام نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو اپوزیشن میں بیٹھنے کی دعوت دی ہے .

پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں تو 9مئی کا بیانیہ دفن ہوگیا ہے کیونکہ عوام نے قوم کے غداروں کو ووٹ دئیے ہیں الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے میں ناکام ہوگیا ہے دھاندلی کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے ہمارا اختلاف تحریک انصاف کے جسموں سے نہیں ذہین سے ہے وہ بھی ختم ہوجائے گا ۔

بدھ کے روز مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جمیعت علمائے اسلام نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کردیاہے موجودہ انتخابات نے 2018کی دھاندلی کا بھی ریکارڈ توڑ ڈالا ہے انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال رہا ہے اور پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے انہوں نے کہاکہ ایسا لگ رہا ہے کہ اب فیصلے ایوان میں نہیں بلکہ میدان میں ہوں گے انہوں نے کہاکہ جے یوآئی کی مجلس عاملہ نے مجلس عمومی کو سفارش کی ہے کہ جمعیت کی سیاست کے بارے میں فیصلہ کرے اور ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے پاک ماحول میں الیکشن کو شفاف بنایا جاسکے، جے یوآئی جان بوجھ کر کو شکست سے دوچار کیا گیا ہمارا جرم یہ تھا کہ ہم افغانستان میں پر آمن حکومت کے قیام اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کر رہے تھے جو امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو قبول نہیں تھے

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جے یوآئی نے فلسطینیوں اور حماس کے موقف کی حمایت کی ہے اسی وجہ سے اسرائیل اور پوری دنیا میں اسرائیلی لابی بھی ہمارے خلاف تھی انہوں نے کہاکہ جے یوآئی ایک نظریاتی قوت ہے جو کسی مصلحت یا سمجھوتے کا شکار نہیں ہوتی اور اپنے عظیم تر مقصد کیلئے تحریک چلائے گی انہوں نے کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت کی انہوں نے کہاکہ اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے ہیں تو فوج کا 9مئی کا بیانیہ دفن ہوگیا اور قوم کے غداروں کو مینڈیٹ دیا گیا انہوں نے کہاکہ نتائج میں کامیاب اور شکست خوردہ امیدواروں سے بڑی بری رشوتیں لی گئی ہیں میں مسلم لیگ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئین اور اپوزیشن میں بیٹھ جائیں ،

انہوں نے کہاکہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم اسمبلی میں بھی رہے اور باہر تحریک بھی چلتی رہی ہے اس میں کوئی تضاد نہیں ہے. الیکشن کمیشن کا روز اول سے کردار مشکوک رہا ہے اور اب ہماری درخواستوں پر سماعت سے انکار کرکے درخواستوں کو خارج کر رہا ہے ، 22فروری کو اسلام آباد میں 25فروری کوبلوچستان 27فروری کو پشاور 3مارچ کو کراچی اور 5مارچ کو ہم پنجاب کی صوبائی مجلس عمومی کے ساتھ میٹنگ کریں گے، پی ٹی آئی کے ساتھ ہمارے اختلافات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ہمیں ان کے جسم سے کوئی جھگڑا نہیں ہے ان کے دماغوں سے جھگڑا ہے اور وہ ٹھیک ہوجائے گی ، الیکشن کمیشن دن کو بھی رات ثابت کرنے کی بات کرتا ہے، محمود خان کے مقابلے میں دستبردار امیدوار جو گھر میں سویا ہوا تھا اس کو بتایا گیا کہ آپ جیت چکے ہیں، ہم مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے تابعدار نہیں ہیں،یہ مرکزی مجلس عاملہ کا بیان ہے،ہم نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ پارلیمنٹ میں اپنی حیثیت کے ساتھ جائیں گے اور کسی بھی پارٹی کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کریں گے،جماعت نے نظرثانی کی کوئی گنجائش نہیں رکھی ہے ، میں ماضی میں نہیں جانا چاہتا ہوں اور جو میں نے کہاہے وہ ہم پر گزری ہے ہم نے انتخابی کمپین نہیں کی ہے اور ہمیں دھمکیاں دی جارہی تھی اس قسم کے حالات میں ہم نے الیکشن میں حصہ لیا ہے ہماری بات کسی نے نہیں مانی ہے اور اب ہم بھی کسی کی بات نہیں مانیں گے.

مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم میدان میں آئیں گے اور ہم نے کسی اور تیور کے ساتھ بات کی ہے، ہم بلوچستان جائیں گے ہماری جماعت نے حکومت سازی کی بات نہیں کی ہے ہم دیگر جماعتوں کو اپنے موقف سے اگاہ کریں گے ،ہ ہمارے دورہ افغانستان کے حوالے سے یہ تبصرے آرہے ہیں کہ اس کو ہمارا جرم قرار دیا گیا اور ہمیں انتخابات میں جان بوجھ کر ہرایا گیا ہے،ہم اسمبلیوں سے استعفیٰ نہیں دیں گے،ہم اگلی تحریک کا شیڈول اور طریقہ کار جماعت کی مشاورت کے ساتھ جاری کریں گے تاہم موجودہ حکومت اور اسمبلیوں کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے تو ہمارا ساتھ دیں اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دھاندلی نہیں ہوئی ہے تو بیٹھا رہے ، اہ پشائور میں خالص افغانی باشندے کو جتوایا گیا ہے،اگر اسٹیبلشمنٹ سیاست سے دستبردار ہوجائے تو ہمارے سروں کا تاج ہے اور اگر سیاست کرے گی تو ہم بھی سیاست سے جواب دیں گے.

واضح رہے کہ گزشتہ روز ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کے وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کی پریس کانفرنس میں حکومت بنانے کے اعلان کے بعد مولانا فضل الرحمان سے انکی رہائشگاہ جا کر ملاقات کی تھی، شہباز شریف سے صحافیوں نے سوال بھی کیا تھا جس پر انکا کہنا تھا کہ میرا مولانا فضل الرھمان سے رابطہ ہوا ہے وہ پارٹی اجلاس میں مصرو ف تھے اس لئے آج نہیں آ سکے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی، آج مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کر دیا

گزشتہ روز حکومتی اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حکومتی اتحاد میں نظر نہیں آئے تھے ، پی ڈی ایم کی ڈیڑھ سالہ حکومت میں مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد محمود وزیر تھے تو وہیں جے یو آئی کے سینیٹر طلحہ محمود بھی وزیر تھے تا ہم کل ہونے والے اتحادیوں کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نظر نہیں آئے اور نہ ہی انکا کوئی نمائندہ نظر آیا، انتخابات کے بعد شہباز شریف نے دو بار مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، نواز شریف نے بھی دوبار رابطہ کیا لیکن مولانا فضل الرحمان سے ن لیگی قیادت کی ابھی تک ملاقات نہیں ہو سکی،

میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

Leave a reply