ورلڈ ہیڈر ایڈ

مولانا کا آزادی مارچ،ملک کے بڑے سجادہ نشین نے کی حمایت

اکتوبرمیں جمعیت علمائے اسلام ف کے زیراہتمام آزادی مارچ کو کامیاب بنانے کے لئے کمیٹیوں نے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام ف تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اسلام آباد کی جانب مارچ کرنا چاہتی ہے، اس ضمن میں مولانا فضل الرحمان نے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، مارچ کو کامیاب بنانے کے لئے چیئرمین علما ومشائخ رابطہ کمیٹی خواجہ مدثرتونسوی نے سجادہ نشین درگاہ کوٹ مٹھن سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں مولانا فضل الرحمان کا پیغام دیا گیا

سجادہ نشین درگاہ کوٹ مٹھن پیرمعین الدین محبوب کوریجہ نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے بھجوائے گئے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ آزادی مارچ میں مریدین،متعلقین ومتوسلین سمیت بھرپورشرکت کرونگا.

مولانا فضل الرحمان سے پہلے دے گی پیپلز پارٹی دھرنا.اعلان کر دیا

مولانا فضل الرحمان کا لانگ مارچ، ن لیگ اختلافات کا شکار، اراکین اسمبلی کا نواز شریف کی بات ماننے سے انکار

مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مولانا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے ساتھ ہوں لیکن اپوزیشن جماعتیں لانگ مارچ میں شریک نہیں ہونا چاہتی کیونکہ مولانا چاہتے ہیں کہ حکومت کے خاتمے تک دھرنا دیا جائے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیا جائے لیکن اپوزیشن جماعتیں متعدد بار کہہ چکی ہیں کہ استعفے مسئلہ کا حل نہیں، ایوان میں رہ کر حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے.

باغی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے رواں ہفتے ملاقات کریں گے اور لانگ مارچ میں شمولیت پر زور دیں گے.

مولانا کا آزادی مارچ، مولانا متحرک، رابطے، ملاقاتیں شروع

مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ کے حوالہ سے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کہہ چکے ہیں کہ فضل الرحمان نےاسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی تو لوگ انھیں خود روک لیں گے ، وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے ان کو سہولیات دی جائیں گے ، کیٹینر اور پانی بھی فراہم کریں گے لیکن اگر قانون ہاتھ میں لیا گیا تو روکیں گے.

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ تو ہوا لیکن اب اپوزیشن جماعتیں مولانا کا ساتھ دینے کو تیار نظر نہیں آ رہی، اگر اپوزیشن جماعتوں نے ساتھ نہ بھی دیا تو مولانا فضل الرحمان اکیلے اپنے کارکنان کے ساتھ نکلیں گے اور یقینی طورپر تاریخی مارچ کریں گے، اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں.

 

مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.

واضح‌ رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے کشمیر کے حوالہ سے کوئی مضبوط کردار دیکھنے میں نہیں‌ آیا ہے حالانکہ وہ کشمیر کمیٹی کے متعدد مرتبہ چیئرمین رہ چکے ہیں اور ان کی وزارت پر کروڑوں‌ روپے کے اخراجات آتے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے اس بات پر سخت تنقید کی جارہی ہے کہ وہ کشمیر کیلئے کو کچھ کر نہیں‌ رہے، جمعہ کے دن یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھی انہوں نے خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن حکومت کے خلاف وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے اور دھرنا دینے کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں،

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.