ورلڈ ہیڈر ایڈ

مولانا کا آزادی مارچ، مولانا متحرک، رابطے، ملاقاتیں شروع

اکتوبر میں آزدی مارچ کو کامیاب بنانے کے لئے مولانا فضل الرحمان متحرک ہو گئے، ملاقاتیں کرنا شروع کر دیں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد مارچ کے سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا آغاز کر دیا ہے، مولانا فضل الرحمان نے آفتاب شیر پاؤ سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے آزادی مارچ کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا.مولانا فضل الرحمان صاحب سے عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے بھی ملاقات کی اور آزادی مارچ پر تبادلہ خیال کیا.

مولانا فضل الرحمان کی مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات متوقع ہے، مولانا چاہتے ہیں کہ آزادی مارچ کامیاب ہو، دیگر اپوزیشن جماعتیں مارچ کی حد تک تو قائل ہیں لیکن دھرنا دینے کے حق میں نہیں.

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں گرفتاریوں سے مت ڈرایا جائے، ہم نے فرسٹ، سیکنڈ اور تھرڈ پلان مرتب کر لیا ہے، 18 ستمبر کو اسلام آباد کے گھیراؤ کا اعلان کریں گے. امید کرتے ہیں پیپلز پارٹی بھی مارچ کا حصہ بنے گی، کیپٹن ر صفد نے نواز شریف سے ملاقات کے بعد فون کیا اور بتایا کہ نواز شریف نے پارٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ مارچ میں شریک ہوں ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں.

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ استعفوں سمیت دیگر آپشنز پر آزادی مارچ کے بعد غور کرینگے۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ فضل الرحمان نےاسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی تو لوگ انھیں خود روک لیں گے ، وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے ان کو سہولیات دی جائیں گے ، کیٹینر اور پانی بھی فراہم کریں گے لیکن اگر قانون ہاتھ میں لیا گیا تو روکیں گے

واضح‌ رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے کشمیر کے حوالہ سے کوئی مضبوط کردار دیکھنے میں نہیں‌ آیا ہے حالانکہ وہ کشمیر کمیٹی کے متعدد مرتبہ چیئرمین رہ چکے ہیں اور ان کی وزارت پر کروڑوں‌ روپے کے اخراجات آتے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے اس بات پر سخت تنقید کی جارہی ہے کہ وہ کشمیر کیلئے کو کچھ کر نہیں‌ رہے، جمعہ کے دن یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھی انہوں نے خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن حکومت کے خلاف وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے اور دھرنا دینے کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں،

اسلام آباد میں بلاول زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو افطار پارٹی دی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی مولانا کی زیر صدارت ہو گی. اس اے پی سی کے بعد چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی جس میں اپوزیشن جماعتوں کو ناکامی ہوئی، بعد ازاں ایک اور اے پی سی ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد مارچ کریں گے،اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں.

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.