ورلڈ ہیڈر ایڈ

مولانا فضل الرحمان کا لانگ مارچ، ن لیگ اختلافات کا شکار، اراکین اسمبلی کا نواز شریف کی بات ماننے سے انکار

جمعیت علماء اسلام ف کے لانگ مارچ میں اپوزیشن جماعتوں کی شمولیت کا تاحال فیصلہ نہ ہو سکا، نواز شریف نے جیل سے پیغام بھجوا دیا کہ ہم شریک ہوں گے لیکن ن لیگی اراکین اسمبلی متفق نہ ہو سکے ، فیصلہ اے پی سی پر چھوڑ دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ،آزادی مارچ، دھرنا کا اعلان کر رکھا ہے. مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ آزادی مارچ میں شرکت کریں، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کبھی شرکت کی یقین دہانی کروائی جاتی ہے تو کبھی انکار کر دیا جاتا ہے جس کہ وجہ سے مولانا فضل الرحمان ابھی تک فائنل تاریخ کا اعلان نہیں کر سکے.

سابق وزیراعظم نواز شریف جو کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں نے گزشتہ جمعرات کو اپنے داماد کیپٹن ر صفدر کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو پیغام بھجوایا کہ مسلم لیگ ن آزادی مارچ میں شریک ہو گی، جس پر مولانا فضل الرحمان نے ان کا شکریہ ادا کیا.

تا ہم اب مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے فیصلے کی مخالفت کر دی ، مسلم لیگ ن کے سینئرترین رکن، سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے گزشتہ روز پولیس تشدد کے ہاتھوں قتل ہونے والے صلاح الدین کے گھر کا دورہ کیا وہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ میں شرکت کا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کرے گی.

 

مولانا کا آزادی مارچ، مولانا متحرک، رابطے، ملاقاتیں شروع

احسن اقبال کی جانب سے بیان آنے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مولانا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے ساتھ ہوں لیکن اپوزیشن جماعتیں لانگ مارچ میں شریک نہیں ہونا چاہتی کیونکہ مولانا چاہتے ہیں کہ حکومت کے خاتمے تک دھرنا دیا جائے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیا جائے لیکن اپوزیشن جماعتیں متعدد بار کہہ چکی ہیں کہ استعفے مسئلہ کا حل نہیں، ایوان میں رہ کر حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے.

باغی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے رواں ہفتے ملاقات کریں گے اور لانگ مارچ میں شمولیت پر زور دیں گے.

مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ کے حوالہ سے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کہہ چکے ہیں کہ فضل الرحمان نےاسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی تو لوگ انھیں خود روک لیں گے ، وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے ان کو سہولیات دی جائیں گے ، کیٹینر اور پانی بھی فراہم کریں گے لیکن اگر قانون ہاتھ میں لیا گیا تو روکیں گے.

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ تو ہوا لیکن اب اپوزیشن جماعتیں مولانا کا ساتھ دینے کو تیار نظر نہیں آ رہی، اگر اپوزیشن جماعتوں نے ساتھ نہ بھی دیا تو مولانا فضل الرحمان اکیلے اپنے کارکنان کے ساتھ نکلیں گے اور یقینی طورپر تاریخی مارچ کریں گے، اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں.

 

کشمیر پر خاموشی اور حکومت کیخلاف دھرنے کا اعلان، مولانا فضل الرحمن کو تنقید کا سامنا

مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.

واضح‌ رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے کشمیر کے حوالہ سے کوئی مضبوط کردار دیکھنے میں نہیں‌ آیا ہے حالانکہ وہ کشمیر کمیٹی کے متعدد مرتبہ چیئرمین رہ چکے ہیں اور ان کی وزارت پر کروڑوں‌ روپے کے اخراجات آتے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے اس بات پر سخت تنقید کی جارہی ہے کہ وہ کشمیر کیلئے کو کچھ کر نہیں‌ رہے، جمعہ کے دن یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھی انہوں نے خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن حکومت کے خلاف وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے اور دھرنا دینے کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں،

 

مولانا فضل الرحمن کی کشمیر کمیٹی نے کتنے کروڑ خرچ کئے؟ فواد چوہدری نے بڑا دعویٰ کر دیا

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.