fbpx

مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کےخلاف اپیل کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے دارالحکومت میں مارگلہ ہلز پر قائم مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کےخلاف مونال کی اپیل پر نمبر لگا کراپیل کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔

باغی ٹی وی :دوران سماعت مونال کے وکیل نے نمبرلگانے کے بعد اپیلوں پرآج ہی سماعت کرنے کی استدعا کی، جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آگیا ہے؟ مونال کے وکیل کا کہنا تھا کہ تفصیلی فیصلہ ملا نہ ہی مختصر حکمنامہ کی تصدیق شدہ نقل ملی۔ کیس فائل فیصلہ دینے والے جج کے چیمبر میں ہے اس لیے نقل نہیں مل سکی۔

سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

عدالت فیصلے کی تصدیق شدہ نقل کے بغیر ہی سماعت کر لے، اپیل کیساتھ لگائی گئی فیصلے کی نقل ہائیکورٹ کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے۔

یاد رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے مونال ریسٹورنٹ کو جنوری میں سیل کرنے کا حکم دیا تھا، عدالت نے سی ڈی اے کو نیوی گالف کورس کا قبضہ لینے اورسیکرٹری دفاع ‏کوتجاوزات کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا تھا چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے مارگلہ ہلزنیشنل پارک میں غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کیسز پرسماعت کی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کیسز پر سماعت کے دوران یہ حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ نیشنل پارک ایریا محفوظ شدہ علاقہ ہے، اس میں کوئی سرگرمی نہیں ہو سکتی، نیشنل پارک ایریا میں کوئی گھاس بھی نہیں کاٹ سکتا۔

مونال ریسٹورنٹ کا توسیعی حصہ گرا دیا جائے،سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ جاری

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے استفسار کیا تھا کہ مونال کی 8 ہزار ایکڑ زمین کا دعویٰ کون کر رہا ہے؟ اس عدالت کو نیشنل پارک کا تحفظ کرنا ہے، وہ 8 ہزار ایکڑ زمین اب نیشنل پارک ایریا کا حصہ ہے، جسے اب 1979 کے قانون کے تحت مینج کیا جائے گا مسلح افواج خودمختار ادارے نہیں ہیں، تمام آرمڈ فورسز کو وزارت دفاع کنٹرول کرتی ہے اور سیکریٹری دفاع یہاں موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ یہ عدالت وسیع عوامی مفاد کا تحفظ کرے گی، مسلح افواج کومتنازعہ نہیں بنانے دیگی، وفاقی حکومت کی زمین پرکوئی گھاس بھی نہیں کاٹ سکتا، سب سے پہلے خود کا احتساب کرنا ہے، لاقانونیت کی وجہ سے غریب غریب رہ گیا۔

فورسزکے 3 سیکٹرزمیں قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو نتائج سنگین ہونگے،عدالت

عدالت عالیہ نے حکم دیا تھا کہ مونال کی لیز ختم ہو چکی ہے تو اسے سیل کریں، ساتھ ہی تحفظ ماحولیات کے ادارے کو تعمیرات سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی نشان دہی جلد مکمل کرنے اور ملیٹری ڈائریکٹوریٹ فارمز کا 8 ہزار ایکڑ اراضی پر دعویٰ بھی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیاتھا کہ 8 ہزار ایکڑ زمین مارگلہ نیشنل پارک کا حصہ سمجھی جائے۔

بعد ازاں 13 جنوری کو پاک بحریہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیوی سیلنگ کلب گرانے اور پاکستان نیول فارمز کی اراضی تحویل میں لینے کے ساتھ ساتھ نیول گالف کورس کو کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کی تحویل میں دینے کے فیصلے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی تھی۔

انٹراکورٹ اپیل پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دورکنی اسپیشل بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس پر 7 فروری کو سماعت پرعدالت نے مونال ریسٹورنٹ کا سامان اٹھانے کی مہلت دیے بغیر قبضہ مقامی انتظامیہ کو دینے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس حوالے سے مناسب تحریری حکم نامہ جاری کر دیں گے-