fbpx

کےالیکٹرک لوگوں کو بلیک میل کرتی ہے:کسی کو کوئی پتہ نہیں کہ اس کا مالک کون ہے؟:سپریم کورٹ

کراچی :پیسہ ،پیسہ اور بس پیسہ یہ ہے کے الیکٹرک کا ماٹو:بلیک میلنگ بھی اورڈھٹائی بھی:سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس ،اطلاعات کے مطابق کراچی کو بجلی کی فراہمی کرنے والے معروف ادارے کے الیکٹرک کے بارے میں آج سپریم کورٹ کے ریمارکس نے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پی ای سی ایچ ایس میں گرین بیلٹ پر کےالیکٹرک کے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک لوگوں کو بلیک میل کرتی ہے اور صرف پیسہ بنا رہی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کے الیکٹرک کو کیا گرڈ اسٹیشن گرین بیلٹ پر ہی بنانا تھا؟ جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے پی ایس سی ایچ ایس کے وکیل سے پوچھا کہ کے الیکٹرک نے آپکو بجلی دینی تھی اس لیے جگہ دے دی آپ نے؟سماعت کے دوران عدالت نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا۔

سماعت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وکیل پی ای سی ایچ ایس نے کہا کہ ہم نے قومی مفاد میں کے الیکٹرک کو نارمل ریٹس پر جگہ دی تھی۔جس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کس بات کا قومی مفاد، کےالیکٹرک کاروبار کر رہا ہے، کونسی عوامی خدمت کر رہا ہے۔

وکیل کے الیکٹرک نے کہا کہ آپ کو محمود آباد اور پی ای سی ایچ ایس کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جی ہمیں معلوم ہے ہم سب کرکٹ کھیلتے رہے ہیں وہاں، لیکن گرین بیلٹ پر گرڈ اسٹیشن بنانے کی اجازات نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کے الیکٹرک والے پرائیویٹ لوگ ہیں پتہ نہیں کہاں سے آئے ہیں، جتنے مرضی گرڈ اسٹیشن بنالیں لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوئی، لوگوں کو صرف دو دو، تین تین گھنٹے بجلی ملتی ہے۔

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا ہمیں ایک ایک انچ کا پتہ ہے کے الیکٹرک کے، جہاں گرڈ اسٹیشن بنائے گئے وہاں کے لوگوں سے پوچھیں وہاں بھی لوڈ شیڈنگ ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کے الیکٹرک کو گرڈ اسٹیشن ہٹانے کے لیے کتنا وقت درکار ہے؟جس پروکیل کوئی تسلّی بخش جواب نہ دے سکا ، جبکہ اس دوران جسٹس قاضی امین نے وکیل کے الیکٹرک سے استفسار کیا کہ کے الیکٹرک گرڈ اسٹیشن کب ہٹائے گی؟ سادہ سی بات ہے آپ ایک نجی ادارہ ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کے الیکٹرک کس کی ہے کسی کو معلوم ہے ہی نہیں، شاید ان کے سی ای او کو پتہ ہو، کے الیکٹرک بورڈز آف ڈائریکٹرز میں صرف یہی کہا جاتا ہے پیسہ پیسہ پیسہ۔

سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کے وکیل کو گرین بیلٹ پر بنا گرڈ اسٹیشن ہٹانے کے معاملے پر ہدایت لینے کے لیے کل تک کی مہلت دیدی۔