ورلڈ ہیڈر ایڈ

موجودہ صورتحال میں مودی سرکارکے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے،وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آرٹیکل 370 کی واپسی ،مقبوضہ کشمیرسے کرفیواٹھائے بغیر بھارت سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں .

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طورخم بارڈر کی افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ ڈیل ہونے کے بعد میں نے طالبان سے ملنا تھا، یہ بات فائنل تھی اب بھی کوشش کریں گے کہ مذاکرات آگے چلیں، پیرکوامریکی صدرڈونلڈٹرمپ کےساتھ میری ملاقات ہوگی،

وزیراعظم نے طورخم بارڈر24 گھنٹے کھلا رکھنے کا افتتاح کردیا

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ بھارت کے اوپر قبضہ ہو گیا ہے، دنیا کے معاشرے میں ماڈریٹ لوگ ہوتے ہیں، بھارت پر ہندووں کا قبضہ ہو گیا ہے، انتہا پسند ذہبن کی کشمیر میں 45 دن کرفیو رکھ سکتا ہے، آر ایس ایس کی پالیسی مسلمانوں سے نفرت کی ہے، بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں سے جو کچھ ہورہا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہاں نارمل حکومت نہیں، جب تک خصوصی حیثیت والا قانون نہیں اٹھاتے بات چیت نہیں ہو گی. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کی آواز اٹھاؤں گا ،جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیرمنفرداندازمیں اٹھاوَں گا،موجودہ صورتحال میں مودی سرکارکے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے،

جو مرضی ہو جائے کسی کو این آر او نہیں دینا، وزیراعظم کا ایک بار پھر دبنگ اعلان

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی پاکستان سے بھارت جا کر کشمیر کے لئے لڑے گا یا جہاد کرے گا تو وہ کشمیریوں سے دشمنی کرے گا، انہوں نے 9 لاکھ فوج رکھی ہوئی ہے ان کو بہانہ چاہئے، وہ کہتے ہیں کہ کشمیری ہمارے ساتھ ہیں پاکستان لوگ بھیج رہا ہے، اگر یہاں سے کوئی بھی گیا تو بھارت کو موقع مل جائے گا اور وہ دنیا کے سامنے واویلا کرے گا کہ پاکستان کشمیر کا مسئلہ خراب رہا ہے، 1965 کے بعد پہلی بار کشمیر پر سلامتی کونسل میں بات ہوئی. اگر کسی نے یہاں سے کوئی حرکت کی تو وہ پاکستان اور کشمیر کا دشمن ہو گا

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ 2300 ارب روپیہ قبائلی علاقے کے لیے رکھا ہے، ہماری کوشش ہے کہ کسی طرح مہنگائی نہ ہو،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.