fbpx

موسم، ہم، اور حالات ،تحریر: ارم شہزادی

2021 دسمبر کے وسط تک موسم میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی ہر طرف یہ چامگویئاں ہورہی تھیں کہ شاید اب سردی ویسے نا رہے جیسے چند سال پہلے تک تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ستمبر کے اینڈ سے موسم میں واضح تبدیلی محسوس ہوتی تھی۔لیکن دنیا میں مختلف نیو کلئیر تجربات، بےہنگم ٹریفک سبزہ کی کمی کی وجہ سے موسم گرما میں ناصرف شدت آئی ہے بلکہ وہ زیادہ ماہ پر محیط ہوگیا ہے۔ جو سردی کی رات ستمبر کے آخر تک محسوس ہوتی تھی وہ اب نومبر میں محسوس ہوتی ہے۔یہاں تک کہ نومبر تک پنکھے بھی چلتے ہیں۔ اس بار بھی شدت دسمبر کے آخر سے شروع ہوئی ہے لیکن بہت شدید 2022 کا آغاز شدت سردی سے شروع ہوا۔ بارشیں نا ہونے کی وجہ سے جہاں پہلے خشک سردی کا راج تھا ساتھ نزلہ، زکام، بخار کاوہیں فصلوں کو بھی نقصان ہورہا تھا جنوری کی چار سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے۔ دیہاتوں شہروں میں عوام کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ کسی کو فکر کہ پکوڑوں کے ساتھ بریانی بنائی جائے یا اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہوٹلوں کا رخ کیا جائے ۔گھر رہا جائے یا دوسرے شہروں خصوصا اسلام آباد جایا جائے تو کسی کو فکر کہ رات کا کھانے کا بندوبست کیا جائے؟ کیونکہ موسم کی شدت کسی بھی لحاظ سے ہو غریب کے لیے بہت مشکل لاتی ہے۔نا دیہاڑی ملتی ہے اور نا کوئی مدد کرتا ہے۔ ہم اپنے چاہ تو سارے پورے کرتے ہیں لیکن مدد کرنے کے لیے دو کام کرتے ہیں ایک تو تصاویر لگا کر انکی عزت نفس کو مجروح کرنا اور دوسرا سوشل میڈیا کا، مین سٹریم میڈیا کا اور پرنٹ میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو حکومت وقت کے مشتعل کرنا۔اس میں شک نہیں ہے کہ حکومت وقت کی زمہ داری ہے معاملات کو کنٹرول رکھنا مواقع بنانا لیکن اس کے ساتھ ساتھ بحثیت معاشرہ کا مفید رکن ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہم صرف تصاویر لگا کر یا گالیاں دے کر اپنی فرسٹریشن نکال کر بری الزمہ نہیں ہوجاتے ہیں لیکن ہم نے اپنے اس رویے پر غور ہی نہیں کیا کبھی۔ بس دیکھا دیکھی اپنی خواہشات اور اسائشات کو ضرویات بنالیا ہے۔ اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر کام کرگزرنے کو تیار رہتے ہیں۔جب کہیں ناکام ہوتے ہیں تو اسکا الزام اپنی غلطیوں کو دینے کی بجائے دوسروں کو دیتے ہیں انکے خلاف بات کرتے ہیں اور معاشرے میں انتشار کی صورتحال پیدا کردیتے ہیں۔ جبکہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں نہیں پھیلاتے ہیں۔بات ہورہی ہے موسم کی شدت اور ہمارے رویوں کی کہ کیسے ہم اللہ کے معاملات میں بھی دخل اندازی شروع کردیتے ہیں اس بار کئی سالوں بعد مری میں برفباری اتنی شدید ہوئی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔مری کو ملکہ کوہسار کہاجاتا ہے۔گہرے سبزرنگ کے قدآور، گھنے اور شاداب درختوں میں گھر ی ‘ملکہ کوہسار مری’ میں ان دنوں رش بےپناہ ہے۔ ہزاروں فٹ اونچی وہ چوٹیاں جو دسمبر سے فروری تک برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔

پنڈی سے 39 کلو میٹر دور سطح سمندر سے اسکی بلندی7500 فٹ ہے۔ پہلی تعمیر یہاں 1851 میں ہوئی تھی۔ رقبہ بہت زیادہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک وقت میں پانچ سے دس، ہزار تک گاڑیاں آسانی اور سہولت کے ساتھ آ جا سکتی ہیں مسلہ تب ہوتا ہے جب سیاح بڑی تعداد میں مری داخل ہوتے ہیں ،چونکہ زیادہ دور نا ہونے کیوجہ سے بیرونی سیاحوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک سیاحوں کی بڑی تعداد سارا سال آتی جاتی رہتی ہے خصوصاً موسم گرما کی تعطیلات اور سرما کی تعطیلات میں۔ موسم گرما میں موسم خوبصورت رہتا ہے گوکہ مشکلات ہوتی ہیں جب تعداد تجاوز، کر جائے۔ لیکن حالات کنٹرول میں رہتے ہیں مسلہ تب بنتا ہے جب موسم سرما میں برفباری میں لوگ زیادہ تعداد میں مری پہنچتے ہیں فیملی کے ساتھ۔ اور یہ تعداد ہزاروں سے لاکھوں افراد تک جب پہنچتی ہے تو نا صرف انتظامیہ کے لیے مشکل ہوتی ہے بلکہ فیمیلز کے لیے بہت مشکل حالات بن جاتے ہیں جیسا کہ ابھی ہورہا ہے۔ نارمل حالات میں بھی جب گاڑیوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرجائے تو مشکل ہوتی ہےوہاں۔ اب دس ہزار کے بجائے بجائے ایک لاکھ تک جا پہنچی ہے تو ٹریفک جام ہو گیا ہے لوگوں کو سڑکوں پر دن رات گزارنا پڑرہے ہیں اور یہ بچوں کے لیے خاص طور پر مشکل حالات ہوتے ہیں۔ اس بار برفباری شدید ہورہی ہے اور برفباری دیکھنے کے شوقین افراد نے بغیر موسمی حالات کا اندازہ کیے فیملیز سمیت اندھا دھند مری پہنچے جس برفباری کا تو پتہ نہیں انجوائے کرسکے یا نہیں لیکن حالات بہت مشکل دیکھے۔سڑکوں پر رات گزارنی پڑی، ہوٹلوں کی بکنگ نا ملی اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی میں تعطل نے بہت پریشان کیا۔ انتظامیہ کئی دن سے مسلسل منع کررہی تھی کہ مزید گنجائش نہیں ہے اور برفباری شدید ہے اس لیے مزید لوگ نا آئیں لیکن جذباتی قوم جس کام پے لگ جائے نفع نقصان سوچے بغیر دوڑ پڑتی ہے۔ اس موسمی حالات میں جہاں 18،19 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے وہیں ابھی بھی سڑکوں پر پھنسی ہوئی ہے عوام۔ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے علاقہ کو آفت زدہ کراردےدیا گیا ہے فوج بھی طلب کرلی گئی ہے۔ جو کہ ریسکیو آپریشن جاری کیے ہوئے ہیں۔ برف ہٹائی جارہی ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اپنی غلطی تسلیم کرنے بجائے عوام انتظامیہ کو ہی برا بھلا کہہ رہی ہے۔ اور مری روڈ پر الجھ رہی ہے کہ مری جانے دیا جائے جبکہ پنڈی کمیشنر نے مری روڈ جانے کے لیے بند کردیا ہے۔ یہ برفباری تو فروری کے آؤاخر تک رہنی ہے اپنی جانوں کو مشکل میں نا ڈالیں احتیاط اور صبر سے کام لیں۔ اگر عوام اس طرح بغیر سوچے سمجھے رش نا لگاتی تو شاید اتنی مشکلات نا پیش آاتیں۔ جان ہے تو جہاں ہے اپنی حفاظت کریں لوگوں کے لیے آپ محض گنتی یا تعداد ہیں لیکن اپنی فیملی کے لیے سب کچھ ہیں۔ کچھ دن ٹھہر کے پروگرام بنائیے تاکہ نا آپ مشکل میں ہوں اورناہی انتظامیہ۔ کیونکہ سمھبالنا تو انہوں نے ہی ہے نا۔ جو پھنسے ہوئے ہیں انکے لیے دعا کریں کہ خیر و عافیت سے گھر لوٹیں۔ اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
@irumrae