fbpx

موسم سرما کی آمد اور بیماریاں تحریر علی حمزہٰ 

 

جیسا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے۔ چند مقامات پر تو موسم بہت سرد ہے۔ لیکن ساتھ ہی کئی مقامات پر موسم جزوی ہے۔ کہی کہی تو تیز بارش ہے۔ پر کہی کہی دھوپ، لیکن کہی تو برف باری نے موسم کو مزید سہانا بنا دیا ہے۔ پہلی برف باری نے سیاحوں کی دل موہ لیے ہیں۔ آسمان سے گرتے برف کے گالوں نے قدرتی حسن کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ موسم سرما سرد ترین موسم ہوتا ہے۔ کئی علاقوں میں تو پارہ منفی ڈگری میں چلا جاتا ہے لوگ آگ جلا کر گزر بسر کرتے ہیں۔ سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہو جاتی ہیں۔ درجہ حرارت منفی میں چلا جاتا ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہے جس سے موسم خوشگوار اور ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ سرد ترین علاقوں میں خوب برف پڑتی ہے پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ جو دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لیتے ہیں۔ جھیل اور چشمے جم جاتے ہیں۔ جو الگ ہی منظر پیش کرتے ہیں۔ جن علاقوں میں برف باری ہوتی ہے ان علاقوں میں کچھ سرمائی کھیل بھی کھیلے جاتے ہیں۔ جن کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کی بڑی تعداد ان علاقوں کا رخ کرتی ہے اور لطف اندوز ہوتی ہے۔

موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ غذا اور ملبوسات میں بھی تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اونی کپڑے، سویٹر، جوتوں اور گرم شالوں کا انتخاب اہم ضرورت بن چکا ہے۔ مہنگائی کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کیا خریدا جائے کیا نہیں۔

اس موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کافی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ بدلتے موسم کے اثرات مضر صحت بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے آپ کو اس موسم کے مطابق ڈھال لیں اور اس کی ضروریات کو پورا کرتے رہیں تو آپ کو اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے کوئی نہیں روک سکتا۔

اس موسم میں اپنے آپ کی حفاظت بھی اولین ترجیح ہے۔ کھانسی، زکام اور بخار اس بدلتے موسم میں عام ہیں۔ موسم سرد ہونے پر لوگوں کے کھانے پینے اور پہننے کے معمولات میں چھوٹی بڑی کئی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ ویسے ہی، کچھ بیماریاں بھی لوگوں کو سردیوں میں زیادہ تنگ کر سکتی ہیں۔ فیملی میڈیسن کے ماہرین ہر عمر کے مرد و خواتین کی تمام بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔

عام طور پر نزلہ زکام، گلا خراب ہونا، دمہ، جوڑوں میں درد، ہاتھ پاوٴں خاص طور پر انگلیاں ٹھنڈی ہو جانا، جِلد کا خشک ہو جانا، فلو کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ، ہونٹوں پہ اور ان کے گرد چھالے اور اُلٹیاں سرد موسم کی کئی عام بیماریاں ہیں۔ سردیوں میں کچھ لوگوں کے جوڑوں میں درد کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں ان کو چاہیے کہ گھر سے باہر کم نکلا کریں۔ 

سردی کے موسم میں ٹھنڈ لگنے سے جسم میں کپکپی جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سینے میں ٹھنڈ لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ خاص طورپر اس سے چھوٹے بچے اور بزرگ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان کے سینے میں درد ہونے لگتا ہے ۔ پچاس سال سے زائد عمر کے افراد میں سردی کی شدت جب سینے پر پڑتی ہے تو اس سے ان کو فالج کے حملے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔ اس حالت میں جسم کو ٹھنڈے ماحول اور ٹھنڈے پانی سے بچانا چاہئے اور گرم کپڑوں کے ذریعے سینے کو اچھی طرح ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی  گرم  چیزوں کا بھی استعمال کرنا چاہئے ۔ سردموسم میں دمہ یا سانس کے امراض میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خشک موسم سانس کے مریضوں پر بری طرح اثرانداز ہوتا ہے اور انہیں سردیوں میں خاص طورپر دیکھ بھال اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ خشک موسم میں زیادہ باہر نکلنے کے بجائے گھر پر ہی رہنے کو ترجیح دی جائے اور اگر ضرورت کے لئے گھر سے باہر نکلنا مقصودبھی ہوتو ناک اور منہ کو کسی گرم کپڑے سے اچھی طرح سے ڈھانپ کر نکلا جائے اور نکلتے وقت انہیلر اور ضروری ادویات ضرور ساتھ رکھ لی جائیں جوفوری طبی امداد کے وقت کام آ سکیں۔

اپنی صحت کی حفاظت ہم سب کیلئے بہت ضروری ہے گرم غذائیں کھائیں اور گرم ملبوسات کا استعمال کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ خدا حافظ