مسلمان بھارت میں غیرقانونی مساجد بنا رہے ہیں جو قبول نہیں .بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کی ہرزہ سرائی

نئی دھلی:مسلمان بھارت میں غیر قانونی مساجد بنا رہے ہیں جو کہ قابل قبول نہیں بی جے پی رکن اسمبلی شری پرویش شرما کے مسلمانوں پر الزامات .مسلمان خوف زدہ حکومت نے جائزہ لینےکے لیے کمیٹی قائم کردی اطلاعات کے مطابق بی جے پی ممبر پارلیمنٹ شری پرویش ورما کے دعوے کی جانچ کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی مقرر کردی ہے۔ شری ورما نے دعویٰ کیا تھا کہ مغربی دہلی میں سرکاری زمینوں پر مسجدیں بن رہی ہیں اور یہی صورت حال پورے بھارت میں ہے. بعد میں ایک دوسرے بی جے پی ایم پی شری منوج تیواری نے اس کی تائید کرتےہوئے کہا کہ دہلی کے دوسرے علاقوں میں بھی غیر قانونی مسجدیں بن رہی ہیں۔

کمیشن نے اس معاملہ میں ایک پانچ رکنی کمیٹی بنائی ہے جس کے صدر معروف حقوق انسانی کے ایکٹیو سٹ اویس سلطان خان ہیں اور ممبران شری گور میندر سنگھ مٹھارو، ڈاکٹر ڈنزیل فرنانڈیز ، انکور اوٹو اور رئیس احمد ہیں۔ کمیٹی کو دس دن میں دہلی کے مختلف علاقوں اور بالخصوص مغربی دہلی کے علاقوں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ کمیشن کو دینی ہے۔ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ دہلی میں سرکاری زمینوں پر غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ پرانا ہے لیکن اسے کسی مذہب سے جوڑنا بالکل غلط ہے۔ کمیشن سرکاری زمینوں پر کسی غیر قانونی قبضے کی تایید نہیں کرتا لیکن مسئلے کو جس طرح سے اٹھایا گیا ہے اس سے ایک خاص سماج کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ قابل قبول نہیں ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.