fbpx

موٹرسائيکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو پٹرول پرسبسڈی دینے کا فیصلہ

وزیرا‏عظم شہباز شریف نے عوام کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔

وزیراعظم کی ریر صدارت اتحادی جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا ،اجلاس میں وزیراعطم نے آئی ایم ایف سے مذاکرات، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر امور پر اعتماد میں لیا، وزیراعظم نے اتحادیوں سے آج کے قوم سے خطاب کے نکات پر بھی مشاورت کی۔

اجلاس میں موٹرسائيکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹارگٹڈ سبسڈی پر اتحادیوں کواعتماد میں لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹارگٹڈ سبسڈی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے دی جائے گی۔
وزیراعظم نے غریب طبقے پر بوجھ نہ ڈالنے سے متعلق ریلیف پیکیج پر مشاورت کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے سوا کروڑ لوگ مستفید ہوں گے۔

وزیراعظم قوم کو ملک کی معاشی صورتحال سمیت اہم معاملات پراعتماد میں لیں گے،،شہباز شریف اپنے خطاب میں سابق حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی تفسیل سے بھی قوم کو آگاہ کریں گے.

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف قوم سے خطاب کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے محرکات بھی قوم کے سامنے رکھیں گے.وزیراعظم اپنے خطاب میں حکومت کی جانب سے لئے گئے سخت فیصلوں کے بارے میں بھی اعتماد میں لیں گے.

وزیراعظم کی اتحادی جماعتوں کے ارکان سے ملاقات ہوئی ہے جس میں ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، بی اے بی کے خالد مگسی اور محسن داوڑ شامل تھے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اضافے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا۔

اتحادیوں کے ملاقات میں بڑے فیصلے کر لیے گئے، حکومت نے اگست 2023ء تک مدت مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے باعث موٹر سائیکل اور رکشہ والوں کے لئے بڑے ریلیف پیکیج دینے کا فیصلہ کیا ہے، پیکیج بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سکیم کے زریعے دیا جائے گا۔ پیکیج سے سوا کروڑ افراد مستفید ہوں گے۔

اتحادیو ں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ غیر یقینی صورتحال سے ملک کو نکالا جائے، جس پر وزیراعظم نے کہا کہ سب کو بتا دیں کوئی غیریقینی صورتحال نہیں مدت مکمل کریں گے، دباؤ میں اکر کوئی انتخابات نہیں ہوں گے، ڈی چوک کسی کو دھرنا نہیں کرنے دیں گے، عمران چھ دن بعد ائیں، مختص جگہ پر احتجاج کا شوق پورا کر لیں۔ دسمبر جنوری تک حکومتی پالیسیوں کے ثمرات سامنے آئیں گے، ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے، وقت اگیا تصادم کی بجائے ملک کے لئے کام کریں۔