fbpx

‏موٹروے واقعہ اور معاشرتی تضاد، تحریر: فروا نزیر

جیلوں میں مردوں کے علاوہ بے شمار ایسی خواتین ہیں جو چند ہزارروپے نہ ہونے کی وجہ سے قید کاٹ رہی ہیں،کچھ عرصہ پہلے ایک خاتون کی خبر آئی کہ کئی سال سے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے جیل کاٹ رہی تھی ،جوانی میں سزا ہوئی اور 45سال کی عمر میں اسے اعلیٰ عدالت نے باعزت بری کر دیا ،کسی لبرل ،فیمینسٹ نے کوشش کی کہ ان کی ادائیگی کر کے ان کو رہائی دلائی جائے ،یانظام انصاف کو تیز اور موثر بنانے کی جدوجہد کی ہو؟ایسا نہیں ہوا،حالیہ معاملے میں خاص بات یہ تھی کہ خاتون کا تعلق ایلیٹ کلاس سے تھا،دوسرا یہ واقعہ موٹروے پر ہوا جو کہ اشرافیہ ہی استعمال کرتی ہے اور یہ ان کیلئے قابل قبول نہیں تھا کہ ان کے راستے غیر محفوظ ہوں ،عوام سے الگ رہنے کیلئے اشرافیہ نے گیٹڈ کمیونیٹز پہلے ہی بنالیں ہیں جہاں انہوں نے اپنی مرضی کا پاکستان بنایا ہوا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت عملی طور پر دو پاکستان ہیں ،ایک اشرافیہ کیلئے اور دوسراوہ جس میں عوام رہتے ہیں۔جس معاشرے میں ناانصافی اور ظلم ایک خاص حد پار کر جاتاہے تو اس کا ردعمل ظاہر ضرورہوتاہے ،آپ اس کے ایک مظہر کو روکیں گے تو وہ دوسری شکل میں ظاہر ہو گا ۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم جس حد تک بڑ ھ چکی ہے 

اور جتنی تیز ی سے اس میں اضافہ ہورہا ہے،اس میں حالات مزید سنگینی کیطرف جانے کا خدشہ ہے ،اشرافیہ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ نچلے طبقات کو ساتھ لے کر چلے ،حکومت کو پورا ٹیکس دے،جب لوگوں کو شعور نہ دے کر ان پر حکومت کریں گے تو پھر اس طرح کے واقعات جو کہ جہالت ہی کا مظہر ہیں ، بھگتنے پڑیں گے،تمام تدبیریں کام نہیں آئیں گی،دراصل یہ طاقت کا ناجائز استعمال ہے ،جس طرح ایک بیوروکریٹ اپنی کرسی کا غلط استعمال کرتاہے ،کمیشن اور کرپشن کے ذریعے کروڑوں کماتاہے ،ایک بزنس مین پورا ٹیکس نہیں دیتا،اشیا میں ملاوٹ کرتاہے،اپنے ملازمین کو کم تنخواہ دیتاہے،محترم عدنان عادل کے مطابق ایک شاپنگ مال میں ایک سیلز گرل کی چودہ ہزار روپے تنخواہ ہے اور وہ دس گھنٹے کام کرتی ہے ،کیا یہ زیادتی نہیں؟ اس لڑکی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کاروباری شخص یا خاتون نے کبھی یہ سوچا کہ اگر اس کی بچی اسطرح کام کررہی ہوتی تواسے کیسا محسوس ہوتا،ایک پارٹی میں شرکت کیلئے جو خواتین میک اپ پر ایک عام ملازم کی تنخواہ سے زیادہ خرچ کر دیتی ہیں،معلوم کرلیں ، کورونا وبا کے دنوں میں  انہوںنے ہی صرف پندرہ ہزار لینے والے ملازمین کو نکالا ہوگا ۔

سفاکیت ہر جگہ پر موجود ہے ۔ہر کوئی دوسرے کی کمزوری سے فائدہ اٹھا رہاہے ،ایک سیاستدان عوام سے ان کی خوشحالی کا وعدہ کرکے ووٹ لیتا ہے اور اس کے بعد خوشحالی صرف اس کے اپنے خاندان ہی کو نصیب ہوتی ہے، ڈاکو کے اختیار میں کیا ہوتاہے؟وہ شخص جو اس کے قابو آجائے،چاہے تو گولی مار دے یا خاتون ہو تو زیادتی کا نشانہ بنا دے ، اس دن خاتون ان کی درندگی کا شکار ہوگئی ، اس نے بھی عورت کی عزت کی پرواہ کئے بغیراپنے اختیار کا ناجائز استعمال کیا ۔حقیقت یہ ہے کہ جس کا جہاں بس چلتاہے ،وہ اپنے اختیار کا غلط او ر مقروح حدتک ناجائز استعمال کرتاہے۔یہ ہمارا عمومی رویہ بن چکا ہے،جب تک ہم سب اس بات پر متفق نہیں ہونگے کہ ،ظلم ،،،ظلم ہوتاہے چاہے کسی کے ساتھ بھی ہو،اس کے خلاف ایک جیسی شدت کیساتھ آواز نہیں اٹھائیں گے ،اس وقت تک کوئی قانون،ضابطہ جرم کو ہونے سے نہیں روک سکتا۔