سوئیڈن واقعہ:مولانا فضل الرحمان نےملک گیر احتجاج کی کال دیدی

جے یو آئی کے کارکن ہر ضلع میں احتجاجی مظاہرے کریں gy
0
62
moulana faal rehman

سربراہ جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) اور پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے سوئیڈن واقعے کےخلاف اتوار کو ملک گیر احتجاج کی کال دیدی۔

باغی ٹی وی : مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سوئیڈن میں مسلسل اسلامو فوبیا کے واقعات ہورہے ہیں جس سے امت مسلمہ کے ہر فرد کو دکھ پہنچ رہا ہے مغرب تنگ نظری کا مظاہرہ کیوں کررہا ہے، تحمل کا جذبہ ختم ہونے کو آزادی اظہار رائے کا نام دیا گیا، ایسی آزادی اظہار رائے کو مسترد کرتے ہیں قوم سے احتجاج کی اپیل ہے، اتوار کو ملک بھر میں سوئیڈن کےخلاف احتجاج کیا جائے گا، کراچی میں سب سے بڑا مظاہرہ کیا جائے گا جے یو آئی کے کارکن ہر ضلع میں احتجاجی مظاہرے کریں۔

عراق؛ سویڈن سفارتخانہ نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی پر سفیر کو نکلنے کا حکم

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن نے سوئیڈن واقعے پر او آئی سی کے تحت سخت اقدامات پر اتفاق کیا ہے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلفونک رابطہ کیا ہےاس دوران قرآن پاک کی بے حرمتی پر دونوں رہنماؤں نے آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) کے تحت سخت اقدامات پر اتفاق کیا ہے دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ اسلام کی توہین اور مسلمانوں کی دل آزاری کے ناپاک عمل پر عالمِ اسلام سخت نوٹس لے۔

اس حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک اپنے سفیروں کو احتجاجاً سوئیڈن سے واپس بلائیں، وزیراعظم نے وزارتِ خارجہ کو ہدایات جاری کردی ہیں، اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے،علماء اور خطیب سوئیڈن کے اس مکروہ فعل کی مذمت کریں، مغرب نے ہمیشہ اسلام اور اہلِ اسلام کے مقدسات کی توہین کر کے دہشتگرد ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کا اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کاعزم

واضح رہے کہ سویڈش دارالحکومت میں گزشتہ ماہ احتجاج کے دوران ایک شخص نے قرآن پاک کی بےحرمتی کرنے کے بعد اس کے نسخے کو نذرِ آتش کر دیا تھا جس پر مسلمانوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

اس خبر کے پھیلنے کے بعد کہ سویڈش حکام آزادی اظہار رائے کی بنیاد پر مزید اس طرح کے احتجاج کی اجازت دیں گے، سیکڑوں عراقیوں نے سویڈن کے بغداد میں موجود سفارت خانے پر دھاوا بولا اور اسے نذر آتش کر دیا۔

عراق کی حکومت نے حملے کی مذمت کی لیکن سویڈن میں احتجاج کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے اس کے سفیر کو ملک بدر کر دیا، تعلقات منقطع کرنے کا عزم اور سویڈش ٹیلی کام کمپنی ایرکسن کا آپریٹنگ لائسنس معطل کر دیا،اسٹاک ہوم میں عراقی سفارت خانے کے باہر مظاہرے کے وقت، عراقی وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی نے ’بغداد میں سویڈن کے سفیر کو عراق چھوڑنے کی ہدایت کی۔

سعودی عالم نے یوٹیوب سے حاصل ہونے والی کمائی کو حرام قرار دے دیا

ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’یہ فیصلہ سویڈن کی حکومت کی جانب سے قرآن پاک کے نسخے کو نذرِ آتش کرنے، اسلامی مقدسات کی توہین اور عراقی پرچم کو جلانے کی بار بار اجازت دینے کی وجہ سے کیا گیا اسٹاک ہوم میں ایک اور مظاہرے کی پیشگی خبروں نے سیکڑوں افراد کو راتوں رات بغداد کے سفارتخانے میں جمع ہونے پر اکسایا، جنہوں نے دیواروں پر چڑھائی کی اور عمارت کو نذرِ آتش کردیا۔

Leave a reply