fbpx

مولانا فضل الرحمان عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار کی چارج شیٹ جاری کردی

پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار کے حوالے سےچارج شیٹ جاری کردی-

باغی ٹی وی : چارج شیٹ میں کہا گیا کہ عمران نیازی اس قوم کا میر جعفر اور میر صادق ہے اور اپنے ایجنڈے کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہےاپنے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو پوری دنیا میں رسوا کررہا ہے، اس نے ساڑھے تین سال ملک کو تباہ و برباد کردیا، ملک کو معاشی اور اخلاقی طور پر تباہ جبکہ سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار کردیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا ہمارے دفاعی ادارے کے خلاف بیانات کا مقصد فوج کو تقسیم کرنا ہے، ہم نے ادارے کی کسی فرد کی رائے یا اس کے کسی اقدام سے اختلاف کیا ہے لیکن فوج کی بحیثیت دفاعی ادارہ ہمیشہ احترام کیا ہےعمران خان کے بیانات فوج میں انتشار ڈالنے کے لیے ہیں، ایلیٹ کلاس کی ایک لابی اس کے پیچھے ہے، ہم ملک اور ملکی اداروں کو تباہ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے اداروں اور اس کے جغرافیائی سرحدات کی حفاظت کریں گے، اسلامی سربراہی کانفرنس میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی اور اب وہ ایک خاص قسم کی لابی کی پشت پناہی سے دفاعی ادارے کو تقسیم کرنا چاہتا ہے جو بہت بڑا جرم ہے، امریکا کی آنکھوں میں کھٹکنے والا سی پیک منصوبہ امریکا کے کہنے پر ساڑھے تین سال منجمد کئے رکھا۔

قبل ازیں قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ایبٹ آباد جلسے کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئےکہا تھا کہ انہوں نے سراج الدولہ اور میرجعفر کا نام لے کرجو مثال دی اس سے بری حرکت نہیں ہوسکتی، عمران خان نے کہا تھا سراج الدولہ کے سپہ سالار میر صادق اور میر جعفر غدار نکلے، عمران نیازی نے ادارے کے بارے میں جو زہر اگلا وہ پاکستان کے خلاف سازش ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ قوم تقسیم درتقسیم ہوچکی ہےزہر گھول دیا گیا ہے، عمران خان نے جو کل بات کی وہ انتہائی خطرناک ہے، نواب سراج الدولہ کے سپہ سالار کی بات ککےعمران خان نےاداروں کوبراہ راست نشانہ بنایاپاکستان کوامریکی دھمکی کی تاریخ توبہت پرانی ہےاس میں سازش کاعنصرکہاں سے نکلا اگر عمران خان کو آئین و قانون کے ذریعے نہ روکا گیا تو خدانخواستہ یہ ملک لیبیا اور شام کی تصویر بن جائےگا-

جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاک فوج اور قیادت کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کی دانستہ کوششیں کی گئی ہیں، کچھ سیاسی شخصیات، چند صحافی اور تجزیہ کار سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر افواج کو سیاست میں گھسیٹ رہےہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ حقیقت کےبرخلاف ، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز بیانات نہایت نقصان دہ ہیں، ملک کے بہترین مفاد میں مسلح افواج کو ایسے غیرقانونی اور غیر اخلاقی عمل سے دور رکھا جائے توقع ہے سب قانون کی پاسداری کریں گے، افواج کو بہترین ملکی مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھیں۔

آصف علی زراداری کا کہنا تھا کہ قومی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلوانے کے علاوہ عمران خود جلسوں میں جھوٹ پر مبنی سازشی بیانیے کے ذریعے لوگوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے جو قابل مذمت ہے، عمران خان کرسی کی خاطر نفرت پھیلا کر نہ صرف پاکستان کا نقصان کر رہا ہے بلکہ قومی اداروں کا بھی نقصان کر رہا ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ عمران کی انہی حرکتوں کی وجہ سے پچھلے پونے چار سال میں ملک آگے جانے کے بجائے پیچھے کی جانب گیا، اس نے اداروں کو بدنام کرنے اور ان میں نفاق ڈالنے کے لئے جو مہم چلائی ہے وہ پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے اور اس کا فائدہ ملک دشمن قوتوں کو پہنچے گا، پاک فوج نہ صرف پاکستان کی سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ آئین اور جمہوریت کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داری ہے لہذا اسے سیاست میں گھسیٹنے اور متنازع بنانے کی کوشش ملک سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔

آصف زرداری نےکہا تھا کہ عمران خان اقتدار سےبے دخل ہونے کے بعد باؤلے پن کا شکار ہوکر نہ صرف فوج کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہےبلکہ وہ آئین کو پامال کرنے پر بھی تلا ہوا ہےدوسروں کو غداری کےطعنے دینے والا عمران نیازی خود میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کو داؤ پر لگانے کی ناکام کوشش میں لگا ہے جس کا خمیازہ اسے خود بھگتنا ہوگا عمران خان کی جانب سے احتساب سے بچنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے، عوام کی منتخب پارلیمنٹ کے ہاتھوں ایک آئینی عمل کے ذریعے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد عمران ذہنی توازن کھو چکا ہے اور اب قومی اداروں پر حملہ آور ہورہا ہے۔