معاشرے میں بڑھتے ہوئے انسانیت سوز واقعات بقلم : ندا خان

معاشرے میں بڑھتے ہوئے انسانیت سوز واقعات
بقلم :: ندا خان
پاکستان میں آئے روز معصوم بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات یہاں نا دو سال کی بچی محفوظ ہے
اور نہ 14 سال کا لڑکا اور نہ شادی شدہ عورت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرہ ایسا کیوں بنتا جارہا ہے
حديثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے
” اپنی اولاد کی جلدی شادی کرو” والله اعلم
اور جب اولاد زنا کی مرتکب ہوتی ہے تو اس کا گناہ والدین پر ہوتا ہے والدین انتظار کرتے ہیں کہ بیٹا نوکری کرے گا تو شادی کرے گے، بیٹا بیشک تب تک گناہ کی دلدل میں دھنس
چکا ہو، اور ہمارے پاکستانی چینلوں پر جب واہیات ڈرامے
چلائےجائے اور ہمارے بعض ناول نگار بولڈ اور واہیات ناول
لکھے جنہیں پڑھ کر کوئی بھی شخص نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے غلط راستہ اختیار کرتا ہے
پہلے صرف ایک چینل پی ٹی وی تھا جس میں سبق آموز ڈرامے ہوتے اب جتنے زیادہ چینلوں کی بھرمار ہے اتنی
بےغیرتی پروان چڑھ رہی ہے ناول نگاروں میں ، بانو قدسیہ
مستنصر حسین تارڑ، اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب، جیسے نامور لوگ تھے جو ایسے ناول لکھتے تھے کہ انسان کو پڑھ
کر اچھا محسوس ہوتا تھا اس میں مثبت تبدیلی آتی تھی
میرا ماننا ہے واہیات ناول لکھنے اور ڈرامہ بنانے والوں پر پابندی لگائی جائے ایسے ڈرامے بنانے والوں کے لیئے سزا
مختص کی جائے تاکہ کوئی جرات نہ کرے بے غیرتی پر مبنی ڈارمہ بنانے کی
اور اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پہلے زیادتی کے کیس
میں مجرم کو سرعام سزائے موت دی جاتی تو میرا نہیں خیال کہ دوبارہ کسی کی جرأت ہوتی کہ کوئی معصوم بچوں کو گندی نگاہ سے نہ دیکھتا
آجکل ٹیکنالوجی کا اگر فائدہ ہے تو نقصان زیادہ ہے موبائل فون
بڑے، چھوٹے ہر ایک کہ ہاتھ میں دے دیئے گئے ہیں جو چاہے
مرضی دیکھے، جنسی ہوس کے بچاریوں سے اپنے ہی ہمسائے
کے بچے محفوظ نہیں ہمارے والدین ہمیں بتاتے ہیں کہ پہلے
سب کی بیٹیاں سانجھی سمجھی جاتی تھیں ایک دوسرے کی ماں، بیٹی کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اگر ٹیکنالوجی نے
زندگی آسان کی ہے تو ایک دوسرے کی عزت و احترام ختم کردیا ہے ہر کوئی اپنے اپنے موبائل کی دنیا میں مگن ہے
ایک دوسرے سے بات کرنے کا وقت نہیں والدین کے لیے اولاد کے لیے وقت اور اولاد کے لیے اپنے ماں باپ کے لیے وقت نہیں
والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کی تربیت یہ نہیں کہ کھلایا
پلایا اور اچھے سکول میں داخلہ کروایا یہاں والدین کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی والدین اپنے بچوں پر نظر رکھے دیکھے وہ بند کمرے میں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر یا موبائل ہاتھ میں پکڑ کر کونسی ویب سائٹ کھول کر بیٹھے ہیں ان کے دوستوں سے ملیں کے آپ کے بچے کے کیسے دوست ہیں؟
والدین اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں تاکہ وہ غلط دوستوں سے بچ سکیں والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو دنیوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم لازمی دے تاکہ وہ بہترین انسان بن سکے پاکستان میں اب اسلامی نظام کے نفاذ کی ضرورت ہے
ریاست مدینہ صرف کہنے سے نہیں بنتی محنت کرنی پڑتی ہے بہترین معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے
"زمین الله کی نظام بھی الله کا ”
جب الله کی زمین پر وہ انسان جس کو اشرف المخلوقات کہا گیا فرشتوں سے سجدہ کروایا وہ انسانیت کے درجے سے اتنا گر جاتا ہے کہ کسی کی بیٹی کو ہوس کا نشانہ بنا لیتا ہے۔
جب اللّٰه کی زمین پر فسادات بڑھ جاتے ہیں پھر زمین ہلا دی جاتی ہے پھر انسان کو بتایا جاتا ہے کوئی ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ آیت کا مفہوم ہے
"اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ”

"انسان بڑھتے جا رہے ہیں……..
اور انسانیت ختم ہوتی جارہی ہے”
گزشتہ روز لاہور کی حدود میں گاڑی سے عورت کو نکال کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب عورت نے موٹروے والوں کو فون کرکے مدد کے لیے بلایا تو انہوں نے یہ کہہ کر آنے سے انکار کردیا کہ یہ علاقہ ان کی انڈر نہیں میرا سوال ہے
موٹروے والوں سے کیا ان کی اپنی بہن مدد کے لیے پکارتی تو وہ انکار کرتے؟ محمد بن قاسم کیوں چلا گیا ایک عورت کی پکار پر اس نے کیوں نہیں کہا کہ یہ میرا علاقہ نہیں
اس کا جواب بھی موجود ہے کیونکہ اس اندر غیرت تھی
محمد بن قاسم نے اس عورت کی عزت کو اپنی عزت سمجھ کر حفاظت کی
ہم انسانیت کے درجے سے اس قدر گر چکے ہیں کہ کسی کی
مدد کے لیے ہمیں حدود متعین کرنے پڑتے ہیں ہمیں زرا رحم نہیں آتا کہ کوئی مدد کے لیے پکارے تو اس کی مدد کے لیئے
موجود ہوں
حديثِ کا مفہوم ہے
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
"تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا
الله رب العزت سے دعا ہے کہ
الله سب کو ہدایت عطا فرمائے اور سب کی حفاظت فرمائے
آمین یا ارحم الراحمين۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.