fbpx

مبارک ہو کہ اب کلمہ پڑھنے والے کلمہ پڑھنے والوں کا خون نہیں بہائیں گے، مصطفیٰ کمال

پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین اور امید وار برائے این اے 249 سید مصطفی کمال نےکہا کہ لسانی سیاست کرکے ہمیں شکست کے طعنے دینے والے آج خود بند گلی میں داخل ہوگئےہیں جبکہ پاک سرزمین پارٹی ہر گلی، محلے اور لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔ پی ایس پی کے این اے 249 سے انتخاب لڑنے کی وجہ سے آج بدعنوان حکمرانوں نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے یہاں ترقیاتی کام کا آغاز کردیا، سوال یہ ہے کہ یہ کام پہلے بھی کیے جا سکتے تھے، انتخابات کا انتظار کیوں کیا گیا۔ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والوں کو اس حلقے سے پچھلے کئی سال سے ووٹ مل رہا ہے، لیکن وہ کبھی پلٹ کر یہاں نہیں آئے کہ دیکھیں کہ بلدیہ کی عوام کس حال میں ہے۔ بلدیہ والوں، ہمیں ووٹ دے کر تم آرام سے سوجانا کیونکہ مصطفیٰ کمال اپنی راتوں کی نیند، اپنے گھر، دوست اور رشتےداروں کو چھوڑ کر تمہارے علاقے کی کسی گلی میں تمہارے آنے والے دن کی صبح بہتر بنانے کیلئے کام کرتا ہوا نظر آئیگا۔ آج پی ایس پی کی مقبولیت دیکھ کر مخالفین نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیئےکہ الیکشن ملتوی کریں۔آج کاجم غفیر دیکھکرہائیڈرنٹس مافیا کی نیندیں اڑ چکی ہیں اور انہوں نے سیاسی شعبدہ بازوں سے گٹھ جوڑ کرلیا ہے لیکن میں بتادوں کہ پی ایس پی نے تم سب کی دکانیں بند کردیں ہیں، اب تم میں سے کوئی نہیں بچے گا.
انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایک سال بعد بھی الیکشن ہو تو پاک سر زمین پارٹی یہیں عوام کے درمیان رہے گی۔ بلدیہ کے بعض علاقوں میں سال بھر میں 6 گھنٹے کے لیے پانی آتا ہے، یہ تھر کا ریگستان نہیں بلکہ شہر کراچی ہے جو 70 فیصد ریوینیو کما کر دیتا ہے۔لوگوں کے پاس پہلے متبادل آپشن نہیں تھا لیکن اب پاک سرزمین پارٹی کھڑی ہو چکی ہے۔ کوئی مہاجروں کا نام لے کر پنجابیوں کو ڈراتا تھا،کوئی پختونوں کو ڈراتا تھا، لیڈر آتے تھے نوجوانوں میں نفرت بھرتے تھے اور چلے جاتے تھے، پیچھے نوجوان مرتے تھے، شہر تباہ ہو رہا تھا۔ آج پی ایس پی کے اسٹیج پر سندھی، پنجابی، پختون، کشمیری، مہاجر، دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سنی سب موجود ہیں۔ یہی مستقبل کا پاکستان اور میرا خواب تھا جس کے لیے واپس آیا۔ آج لوگوں کو مارنے والے خود ختم ہو گئے، میرے ساتھ 40 سال بعد اردو بولنے والے، پختونوں کے علاقے میں گئے اور پختون اردو بولنے والوں کے علاقے میں آئے ہیں۔ ہم نے ساری سیٹوں کو لات مار کر یہ کارواں شروع کیا ہے، عوام کو ہماری بات سمجھ آگئی ہے اور نام نہاد لیڈروں کی سیاست کو ختم کر دیا ہے۔ بلدیہ کی عوام نے کراچی سے عصبیت کی سیاست کو دفن کر دیا ہے، عوام کو مبارک ہو کہ اب کلمہ پڑھنے والے کلمہ پڑھنے والوں کا خون نہیں بہائیں گے، اس شہر میں اوسطاً 22 افراد کلمہ پڑھنے والے کلمہ پڑھنے والوں کے ہاتھوں زبح ہوتے تھے۔ نہ مارنے والے کو وجہ پتا تھی نہ مرنے والوں کو۔ ہمیں ایسی سیٹیں نہیں چاہئیں جو بھائی کو بھائی سے لڑا کر حاصل ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے 249 کی انتخابی مہم کے تحت چاندنی چوک، یوسی 30، سعیدآباد بلدیہ ٹاؤن میں عظیم الشان انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صدر پی ایس پی انیس قائم خانی دیگر مرکزی زمہ داران بھی موجود تھے۔ سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ میں نے بلدیہ ٹاؤن کو ایسا نہیں چھوڑا تھا، 60 لاکھ گیلن پانی کی لائن ڈال کر ہر گھر تک پانی پہنچایا میرے جانے کے بعد بلدیہ کی لائن پر 178 غیر قانونی کنکشن اور 25 ہائیڈرنٹس بنے۔ یہاں کے منتخب نمائندے ارب پتی بن گئے۔ جبکہ میرے پاس پورا شہر تھا لیکن میرا کوئی ہائیڈرنٹ، شادی ہال نہیں ہے۔ اس موقع پر دارالعوام جامعہ صوفیاء کے مفتی طاہر نے خطاب کرتے ہوئے بھرپور حمایت کا اعلان کیا، پی ایس پی کے وائس چیئرمین حفیظ الدین نے کہا کہ این اے معرکہ پاکستان کی تاریخ میں نیا باب رقم کرے گا، سید مصطفیٰ کمال اس شہر کا بیٹا اور پاکستان کا مجاہد ہے، پاکستان کی تمام اکائیاں ایک ساتھ کھڑے ہوکر کہیں گی کہ مصطفی کمال ہمارا لیڈر ہے۔ پاک سرزمین پارٹی کے رہنما ملک نثار نے کہا کہ سید مصطفیٰ کمال کے نظریے کو سمجھا اور مسلم لیگ ن کو خیر باد کہہ کر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہو گیا، 40 سال مسلم لیگ ن کو دیئے لیکن اب سمجھ چکے وہ پنجاب کی جماعت ہے اور کراچی کو سید مصطفیٰ کمال کی ضرورت ہے۔ پاک سرزمین پارٹی نیشنل کونسل کے رکن اور ڈسٹرکٹ ویسٹ کے صدر ہمایوں عثمان راجپوت نے کہا کہ جب حلقے میں اترے تو پتہ چلا کہ کہیں 10 سال سے پانی نہیں آیا تو کہیں 8 سال سے نہیں آیا۔ موت زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے ہم نے غریبوں کے پانی کا سودا نہیں ہونے دینا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.