fbpx

وہ بڑی خبریں جو میڈیا نہیں دے رہا،حامد میر میڈیا کی آزادی اور حکومتی خواہش، مبشر لقمان کا دو ٹوک پیغام

وہ بڑی خبریں جو میڈیا نہیں دے رہا،حامد میر میڈیا کی آزادی اور حکومتی خواہش، مبشر لقمان کا دو ٹوک پیغام

باغی ٹی وی : سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ جس شعبے پچھلے سالوں میں ترقی کی ہے وہ جسم فروشی یا عصمت فروشی ہے . لوگ اب بہت زیادہ اس پیشے سے وابستہ ہو گئے ہیں‌. اس مکروہ پیشے میں لوگ شوق سے نہیں‌آرہے بلکہ وہ مہنگائی سے تنگ ہو کر اور مجوری کی صورت میں آرہے ہیں.

لوگوں‌کے پاس بجلی کے بل ادا کرنے کے پیسے نہیں ہے کوئی اگر بیمار ہوجائے تو اس کے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ اپنا علاج کرا سکے ، ان حالات میں لوگ مجبور ہوکر اس کام کو اپنا رہے ہیں.

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لوگ یہ شوق سے نہیں‌کرتے بلکہ مجبوری میں کرتے ہیں‌، ان کا کہنا ہے میں ڈی ایچ اے میں رہتا ہوں اس سے پہلے ڈی ایچ اے تھانوں میں گھریلو خواتین کے کیس سب سے زیادہ آتے تھے جو کہ زیادتی کے تھے لیکن کے لیے کوئی پرچہ نہیں‌کاٹا جاتا تھا .

اب ایسے کیس نہیں آتے وہ اس لیے کہ وہ سمجتھی ہیں‌ کہ اگر یہ رستہ ہی ہے تو پھر اسی کو کیوں نہ اپنایا جائے .

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکا نے اب پاکستان سے اڈے نہیں‌ مانگ رہا . کیونکہ ن کے پاس وہ پہلے ہی ہیں اور ان کے جہاز وہاں لینڈ کرتے ہیں‌.

اصل مطالبہ یہ ہے کہ وہ نیول موجودگی مانگ رہا ہے اور چین کو یہ قابل قبول نہیں ہے .مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک خبر اور بھی ہے کہ جب عمران خان اور ان کا وفد جب سعودی عرب گئے تھے تو ان کی بھارتی لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی پتہ نہیں یہ خبر درست ہے یا کہ غلط ہے بہر حال یہ خبر ضرور ہے .

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک خبر اور بھی ہے کہ جسے بلو مرگ نے شائع کیا ہے وہ یہ ہے جب بنگلہ دیش بنا تو اس وقت پاکستان کی معیشت بنگلہ دیش سے ستر گناہ بہتر تھی اب بنگلہ دیش کی معیشت پاکستان سے 45 فیصد بہتر ہے . اور بلو مر گ نے یہاں ایک کاری ضرب بھی لگائی ہے کہ 2030 میں پاکستان کو بنگلہ دیش سے قرضہ بھی لینا پڑے تو بنگلہ دیش قرضہ دینے کی پوزیشن میں ہو گا.

حکومت نہیں چاہتی کہ ایسی خبریں سامنے آئے اور مین سٹریم میڈیا میں آئے اور اگر آئے بھی تو اس پر فوکس نہیں کیا جاتا اور جلدی سے گزر جاتے ہیں حکومت نے میڈیا پر جو پالیسیاں لائی ہیں وہ باکل بھی میڈیا کے حق میں نہیں اس سے میڈیا کے لوگوں کو مزید بے روز گار کیا جا رہا ہے وہ اس لیے نہیں کہ گورنمنٹ کے اشتہار بند ہیں‌ حکومتی اشتہار صرف من پسند لوگوں کے لیے تھے .
میڈیا پر جیسی پابندیاں اب ہیں‌ وہ پہلے نہیں‌تھیں . اب میڈیا پر ایسی قدغنیں لگائی جارہی ہیں جس کی کوئی مثال نہی‌ملتی .