کرونا وائر س: 3 لاکھ سے زائد صحت مند ہوچکے ،بہت بہترطریقہ علاج ہے ،مبشرلقمان

لاہور:کرونا وائرس سے بچاوکےلیے زبردست طریقہ علاج ،3 لاکھ سے زائد صحت مند بھی ہوچکے ،بہت بہتر،سستا طریقہ علاج ہے ،کرونا وائرس سے بچاو کی سلسلے میں عالمی کوششیں جاری ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے معروف صحافی سنیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان نے امید سحربتاتے ہوئے کہا ہےکہ اس خطرناک بیماری کے مریضوں کے لیے خوشخبری کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا طریقہ علاج سامنے آیا ہے کہ جس سے 3 لاکھ سے زائد کرونا کے مریض صحت یاب ہوچکے ہیں

باغی ٹی وی کےمطابق سنیئرصحافی مبشرلقمان نے آج کی تازہ صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2 سو سے زائد ممالک کو اس وقت اس وبا نے لپیٹ میں لیا ہوا ہے ، اس دوران اس وبا سے جان چھڑانے کے لیے کوششیں بھی جاری ہیں‌

 

مبشرلقمان نےکہاکہ اب ضرورت اس امر کی ہےکہ اس بیماری کے ایک کامل علاج ڈھونڈا جائے جس کےلیے کوششیں جاری ہیں ،سوال یہ ہےکہ یہ کب تک ممکن ہوگا ،انہوں نے کہا کہ اس کے لیے بہت وقت درکار ہے ، کیوں کہ جب ویکسن بنے گی تو پہلے اسے جانوروں پر،پھرکامیاب ہونے کی صورت میں انسانوں پرپھراس کی ویکسین کی تیاری کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا جائے گا پھر تب جاکرکچھ کہا جاسکتا ہے

مبشرلقمان نے کہا کہ اس وقت دنیا بھرمیں ساڑھے پندہ لاکھ سے زائد لوگ اس وائرس کا شکارہوچکے ، ایک لاکھ 13 ہزارسے زائد ہلاک ہوچکے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اچھی خبریہ ہے کہ تین لاکھ 20 ہزار سے زائد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں

مبشرلقمان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوائی کلوروکین ہے جسے دنیا صحت یاب بھی ہورہی ہے ،انہوں نے کہاکہ دنیا کے نامور ڈاکٹروں نے ہائیڈروکسی کلوروکوئین کو کرونا کیخلاف موثر ترین دوا قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کے نامور ڈاکٹروں کی جانب سے ہائیڈروکسی کلوروکوئین کو کرونا کے خلاف موثر ترین دوا قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے سروے میں 30 ممالک کے 6ہزار سے زائد ڈاکٹروں کی رائے لی گئی۔سروے میں 37 فیصد نے ہائیڈروکسی کلوروکوئین کو کوروناکے لیے موثر ترین علاج قرار دے دیا۔ڈاکٹروں کو اس سلسلے میں 15 دوائیوں کی لسٹ فراہم کی گئی تھی۔

سر نے علاج کا دعویٰ کر دیا، کس سستی ترین دوائی سے مریض ہوئے صحتیاب؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں ایک مشہور ریسرچ پروفیسر نے کرونا وائرس کے علاج کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ابتدائی ٹیسٹوں میں وائرس سے 6 دن میں بچا جا سکتا ہے

انفیکشن ہسپتال سے تعلق رکھنے والے پروفیسر دیڈیئر راؤلٹ نے جو متعدی بیماریوں کے ماہر ہیں،کو فرانسیسی حکومت نے کرونا وائرس سے ممکنہ علاج بارے کہا تھا

پروفیسر کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے مریضوں کا کلوروکین دوائی کے ساتھ علاج کیا تھا اس سے مریض تیزی سے صحت یاب ہوئے، کچھ مریضوں میں متعدی بیماری برقرار رہی تھی،کلوروکین – جو عام طور پر ملیریا کی روک تھام اور علاج کے لئے عام طور پر استعمال ہوتا ہے – نامی دوائی پلاکینیل کے ذریعہ دیا جاتا تھا۔

مبشرلقمان نے اس حوالےسے بتایاکہ فرانس کے پروفیسر نے یہ علاج ان 24 مریضوں کو پیش کیا جو فرانس کے جنوب مشرق میں کرونا وائرس کے پہلے مریض کے طور پر سامنے آئے تھے،اور انہوں نے رضاکارانہ طور پر خود کو اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ کرونا کے مریضوں کو 10 دن تک 600 ایم سی جی روزانہ دیا جاتا تھا۔ انکی سخت نگرانی کی گئی تا کہ وہ کوئی اور دوائی نہ کھا سکیں کیونکہ دوسری دوائی صحت کے لئے مضر ہو سکتی تھی اور اسکا ردعمل آ سکتا تھا ، کیونکہ دوائی دوسری دوائیوں کے ساتھ بات چیت کرسکتی ہے ، اور بعض معاملات میں اس کے مضر اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔

پروفیسر راؤلٹ کا کہنا ہے کہ ہم نے کرونا وائرس کے مریضون کا علاج کیا،ہم یہ جاننے کے قابل تھے کہ جن مریضوں کو پلاکینیل (ہائیڈروکائکلروکائن والی دوائی تھی) نہیں ملی تھی ، وہ چھ دن کے بعد بھی متعدی بیماری میں مبتلا تھے ، لیکن ان لوگوں میں سے جو چھ دن بعد ہی پلے کونیل پا چکے تھے ، صرف پچیس فیصد ابھی تک متعدی بیماری میں مبتلا تھے۔

کلوروکین فاسفیٹ اور ہائیڈرو آکسیروکلون اس سے قبل چین میں کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لئے بھی استعمال کی گئی تھی، خبر رساں ادارے کے مطابق عام طور پر ایچ آئی وی کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی ایک اینٹی ویرل منشیات ہے جس کا تجربہ کیا جا رہا ہے.

امریکی سائنسدانوں نے نئی تعلیمی تحقیق میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کلوروکین ایک موثر علاج ہے اور یہ فرانس میں پائے جانے والے نتائج کے مطابق ہوتا ہے۔ کلوروکین کا استعمال انسانوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کے لئے اچھا علاج ہے، ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ کلوروکین لیب میں کورونا وائرس کے خلاف روک تھام کے اقدام کے طور پر بھی قوی صلاحیت رکھتا ہے ، جبکہ ہم کسی ویکسین کے تیار ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

کلوروکین ایک سستی ، عالمی سطح پر دستیاب دوائی ہے جو ملیریا کے لئے استعمال ہوتی ہے. اسے ہر عمر کے مریضوں کو دیا جا سکتا ہے ،دنیا بھر کے محققین کوویڈ ۔19 کے خلاف ویکسین تیار کرنے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ابھی تک ، کسی بھی ملک اور نہ ہی عالمی ادارہ صحت (WHO) – نے کوویڈ 19 کے خلاف سرکاری طور پر کوئی علاج بتایا ہے ، لیکن چین اور جنوبی کوریا میں کلوروکین کے استعمال کو "موثر علاج” کے طور پر پیش کیا گیا ہے

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے گذشتہ ہفتے ہی کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے ہائیڈروکسی کلوروکین کے استعمال کی اجازت دی۔سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 51 فیصد ڈاکٹر اینل جیسک اور 41 فیصد ازیتھر ومائی سن تجویز کرتے ہیں۔

امریکہ نے بھارت کو اس دوائی کی سپلائی کے لیے دباوبڑھایا ہے برطانیہ میں بھی یہ دوائی استعمال کی گئی ، جاپان میں ایک دوائی کو استعمال کیا گیا جس میں چاردن بعد مریض صحت ہوگئے ،

انہوں نے کہاکہ ایبولہ اورسارس جیسی امراض کے خلاف اس کو موثرپایا گیا ،اس کے بعد اس کے استعمال کے قابل بنایا گیا قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لئے ہائیڈروکسی کلوروئین اور ایزیتھرو مائی سین دوائیاں فائدہ مند ثابت ہونے لگی ہیں،مریضوں کو ان ادویات کا پانچ دن کا کورس مکمل کرایا گیا، اب تک اٹھارہ مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق اینٹی ملیریا کیلئے استعمال ہونے والی دو دوائیوں ہائیڈروکسی کلوروئین اور ایزیتھرو مائی سین کو کورونا وائرس کے مریضوں پر استعمال کرنے کے کامیاب نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے تمام ممالک سے اس دوائی کے حوالے سے سیمپل لے لیئے ہیں اوراس پرحتمی کام جاری ہے ، چین میں بھی اس دوائی کا استعمال کیا گیا ، جس کے بہترنتائج حاصل ہوئے ہیں‌

سنیئر صحافی نے انکشاف کیا کہ اس دوائی سے صحت مند ہونے والے مریضوں کے پلازما کو مزید علاج کے لیے استعمال کریں ، جرمنی میں ایسے ہی پلازما کے طریقہ کار کواپنا یا ، نیویارک میں بی اس پلازما کو آزمایا گیا

پاکستان میں بھی اس طریقہ علاج کو آزمایا جارہا ہے، ڈاکٹرشمسی نے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ پلازما کے طریقہ علاج کو آزمانے کے لیے باقاعدہ سلسلسہ شروع کیا جائے ، مبشرلقمان نے بتایا کہ پاکستان میں پہلے صحت مند ہونے والے مریض یحیٰ جعفری نے اپنا پلازما عطیہ کرنے ا علان کیا ہے ،

مبشرلقمان نے کہا کہ اس کے لیے سرکاری اجازت ضروری ہے ، لیکن ہمارے ہاں‌تو صوبائی اوروفاقی حکومتیں اپنے اپنے مسائل میں مبتلا ہیں جس کے لیے بہترطریقہ کارآزمانا چاہے تاکہ اس بیماری سے جلد از جلد نجات مل سکے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.