fbpx

مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان حریم شاہ اور صندل خٹک کے حوالہ سے جاری ویڈیو میں کا ہے کہ حریم شاہ اور صندل خٹک کے جہاز پر پہنچنے کے واقعہ کی جب میں نے پولیس رپورٹ کی تو میں نے ان دونوں لڑکیوں کے ساتھ میں نے فیاض الحسن چوہان کا نام بھی لکھوایا،اور ایک نا معلوم کیونکہ وہ تو سامنے تھے لیکن ویڈیو کوئی اور بنا رہا تھا، پہلے دو تین دن پولیس ایس ایچ او نے بڑی کاروائی کی اور کہا کہ ہم فلاں فلاں ایوی ایشن کمپنیوں کے مالکوں‌ کو مل کر آئے ہیں،ہم یہ کر رہے ہیں فلاں یہ کر رہا ہے،تو میں نے کہا کہ یہ بتائیں کہ وہ اندر کیسے آئیں اور جہاز میں کیسے داخل ہوئیں تو ایس ایچ او نے کہا کہ وہ آئی ہیں اور ہمارے پاس اور وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ ہمیں تو مبشر لقمان نے اجازت دی ہے تو میں نے کہا کہ نہ میں کبھی ان سے ملا ہوں، نہ بات ہوئی ،نہ ملاقات ہوئی، نہ کبھی میسج ایکسچینج ہوا،تو میں نے اجازت کہاں سے دے دی، اجازت نامہ تو تحریری ہوتا ہے اس کے بغیر تو سول ایوی ایشن اجازت نہیں دے گی کہ کسی کے جہاز میں آپ جائیں، جہاز کھولیں، پائلٹ سیٹ پر بیٹھیں، قصہ مختصر یہ کہ مجھے ایس ایچ او نے کہا کہ ابھی تو آٹھ محرم چل رہی ہے اور ہماری ڈیوٹیز ہیں، دو چار دن محرم کے نکال لیتے ہیں اس کے بعد تفتیش کریں گے میں نے کہا ٹھیک ،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے کسی کو کال نہیں کی،اور کسی کو فون نہیں کروایا کہ مبشر لقمان کا چوری کا ایشو ہوا اور یہ تعلقات استعمال کر رہا ہے، دوستوں کو کہہ رہا ہے، اس کے بعد کیا ہوا کہ ایس ایچ او نے تین چار دن کے بعد جب وہ فون نہیں کر رہا تھا تو میں نے خود اسے فون کیا تو وہ کہنے لگا کہ سر میں آپ کی بڑی عزت کرتا ہوں،تو یہ رپورٹ اس میں بہت گند ہے ،آپ اس گند میں نہ پڑیں،اس کی تفتیش رہنے دیں تو میں نے کہا کہ ہیلو،گند میں نہ پڑوں ،میرے گھر میں چوری ہوئی ہے، کوئی تالہ توڑ کر میرے گھر آیا اور آپ کہتے ہیں کہ گند میں نہ پڑوں، گند تو ہے یہاں، اب آپ مجھے بتائیں کہ کیوں ، اس پرایس ایچ او نے کہا کہ دو تین میڈیا والے بھی کہہ رہے ہیں کہ ان لڑکیوں کو کچھ نہیں کہنا خاص کر حکومت والے بھی ایک دو لوگ ہیں ہمیں بڑا انہوں نے کہا ،اب میں یہ پرچہ نہیں کر سکتا. تو میں نے کہا کہ میں نے ایف آئی آر کے لئے درخواست دی ہوئی ہے ،رپورٹ روزنامچے میں لکھی ہوئی ہے،اور وہ لکھی ہوئی ہے تو اس پر پرچہ کیوں نہیں کٹا تو ایس ایچ او کہنے لگا کہ ہم نے لڑکیوں کو بلایا تھا بات کی تھی ،ا ب یہ بات ایس پی صاحب کے اختیار میں ہے، ایس پی صاحب پرچہ کریں گے کیونکہ انہوں نے مجھ سے اختیار لے لیا ہے.

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب میرے پاس دو آپشن تھے کسی وزیر کو جو واقف تھے انکو کہتا کہ اس میں پڑ جاؤ، عمران خان سے میرا ذاتی تعلق ہے میں عمران خان کو کہتا کہ اس میں پڑ جاؤ،پولیس کیس کرواؤ، میں وزیراعظم کو ایسا کہتا تو یہ صحیح نہیں تھا، لیگل ٹیم جو کھرا سچ اور باغی کے ساتھ ہے، ایک قابل احترام چیمبر میں نے ان سے درخواست کی وہ آئے اور کہا کہ ہمیں پولیس کو ایک نوٹس دینا ہے، لیگلی نوٹس دیں گے پولیس کو بھی اور لڑکیوں‌کو بھی اس کے بعد ہم کچھ کر سکتے ہیں، ہم نے یہ کیا، اس کے بعد لوئر کورٹس میں ایک کرمنل درخواست فایل کی کہ پولیس ہماری مقدمہ کے اندراج میں مدد نہیں کر رہی اب لوئر کورٹ نے پولیس والوں کو بلانا شروع کر دیا،پولیس والے آج کل کا کہہ رہے تھے مختلف بہانے عدالتوں میں کرتے رہے اور آج تک مقدمہ درج نہیں ہوا.

حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

نوٹ. حریم شاہ کو بے نقاب کرنے کے حوالہ سے اگلی رپورٹ کا انتظار کیجئے