اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان)ضلع بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ کی سب تحصیل اوچ شریف کے سرکاری سکولوں میں تعلیمی سال 2025 کا آغاز کتابوں کے بغیر ہو رہا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت نصابی کتب کی عدم دستیابی نے تدریسی عمل کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جس کے باعث اساتذہ، طلباء اور ان کے والدین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق گورنمنٹ سکولوں میں نویں اور دسویں جماعتوں کے مکمل نصاب کی کتابیں دستیاب نہیں ہیں جبکہ دیگر جماعتوں میں بھی ریاضی، انگریزی اور سائنس جیسے اہم مضامین کی کتابیں ناپید ہیں۔ حیران کن طور پر نئے تعلیمی پالیسی کے تحت نصاب میں تبدیلی کے باوجود سکولوں کو پرانی کتابوں سے پڑھانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جو نہ صرف غیر مؤثر تدریس کا سبب بن رہا ہے بلکہ طلباء کے لیے ذہنی الجھن کا باعث بھی بن رہا ہے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے قائم کردہ بک ڈپو ویران پڑے ہیں اور طلباء روزانہ کتابیں حاصل کرنے کی امید میں سکولوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ انہیں نامکمل اور غیر مطابقت پذیر کورسز کی بنیاد پر تعلیم دی جا رہی ہے، جس سے ان کے تعلیمی معیار پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس مایوس کن صورتحال میں والدین اپنی جیبوں سے بھاری رقم خرچ کر کے بازار سے مہنگی کتابیں خریدنے پر مجبور ہیں جو حکومت کی "مفت تعلیم” کی پالیسی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اساتذہ، والدین اور سماجی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اس مسئلے کا فوری حل نہ نکالا گیا تو طلباء کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو جائے گا اور آئندہ بورڈ امتحانات کے نتائج بھی بری طرح متاثر ہوں گے خاص طور پر جب گرمیوں کی چھٹیاں بھی قریب ہیں۔

عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات، سیکرٹری ایجوکیشن لاہور اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور ضلع بہاولپور سمیت پورے صوبے کے سرکاری سکولوں میں نصابی کتابوں کی مکمل اور بروقت فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ طلباء کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

Shares: