fbpx

مفتی منیب الرحمن ساتھیوں کولیکرپاک سرزمین پارٹی کی قیادت سے ملاقات کےلیےپہنچ گئے

مفتی منیب وفد کے ہمراہ پاک سرزمین پارٹی کی قیادت سے ملاقات کےلیے ان کے گھرپہنچ گئے،اطلاعات ہیں کہ یہ ملاقات مصطفیٰ کمال کی طرف سے چند دن قبل مفتی منیب الرحمن کے حوالے سے بہت سے انکشافات کےکے بعد طئے کی گئی ہے،

پاک سرزمین پارٹی ذرائع کے مطابق مفتی منیب الرحمن کی وفد کے ہمراہ پی ایس پی چئرمین سید مصطفیٰ کمال صدر انیس قائم خانی سے حاجی رفیق پردیسی کے گھر ملاقات پی ایس پی کے شہید ساتھی سیف الدین کے لیے دعا مغفرت اور زخمیوں کے لئے صحتیابی کی دعا کی دونوں فریقین کے درمیان باہمی گفتگو کے بعد غلط فہمی دور کر لی گئی

یاد رہے کہ چند دن قبل مفتی منیب الرحمن اور سید مصطفیٰ کمال کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب مفتی منیب نے بغیرتصدیق کے سید مصطفیٰ کمال پرسنگین الزامات لگائے تھے ، جس کے جواب میں سید مصطفیٰ کمال نے سخت جواب دیا

پاک سر زمین پارٹی کا مفتی منیب الرحمٰن کے الزامات کا بھرپورجواب

مفتی منیب الرحمٰن کا مصطفیٰ کمال کو جواب کے نام سے تحریر کے جواب میں ہمیں یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ مفتی منیب الرحمان کی تحریر صریح جھوٹ پر مبنی ہے! ایک سید زادے سید مصطفی کمال پر تہمت لگانے والے نام نہاد مفتی منیب الرحمان نے اگر کبھی قرآن کا مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں علم ہوتا کہ مالک کل کائنات نے کسی معصوم پر بہتان باندھنے کی کیا سزا مقرر کی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَالَّـذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْـرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا (سورۃ احزاب، آیت 58)
"اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر ایسے کام کی تہمت لگاتے ہیں جو انہوں نے نہ کیا ہو اس پر ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا”

خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق آگے بیان کر دے، صد افسوس کہ منیب الرحمن نے مفتی اعظم کے عہدے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔ ایم کیو ایم کے سابق بدنام زمانہ گورنر عشرت العباد المعروف رشوت العباد سے ان کے تعلقات پر کسی کو کوئی حیرت نہیں کیونکہ جملہ عالم جانتا ہے "کند ہم جنس باہم جنس پرواز” انسان اپنے تعلقات کی بنیاد پر ہی پہچانا جاتا ہے جہاں عشرت العباد رشوت العباد کی کنیت سے مشہور ہوئے وہاں مفتی اعظم منیب الرحمٰن سود پر کام کرتے بینکوں کے بھاری بھرکم تنخواہ دار رہےاور سود کے حلال ہونے پر فتوے دیتے رہے واضح رہے کہ اللّٰه پاک نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 279 میں سود کو اللّٰه اور اسکے رسول کیخلاف کھلی جنگ قرار دیا ہے۔

پاک سر زمین پارٹی مفتی منیب الرحمان کو چیلنج کرتی ہے کہ ملائیشیا میں تو کیا دنیا بھر میں کہیں بھی سید مصطفی کمال یا انکے خاندان کے کسی ایک بھی فرد کے ایک روپے مالیت کے اثاثے یا کاروبار ثابت کردیں تو سید مصطفی کمال وہ تمام اثاثے مفتی منیب الرحمان کے نام لکھ کر جہاں مفتی منیب کہیں گے وہاں خود کو پھانسی لگانے کے لیے تیار ہیں؛ پی ایس پی مفتی منیب الرحمان کو اس دنیا میں عوام کی عدالت اور روز محشر الله کی عدالت میں لیکر جائے گی۔ پاک سر زمین پارٹی مفتی منیب کی شکر گزار ہے کہ انہوں نے لَّعْنَتَ اللّـٰهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ لکھ کر خود اپنے آپ پر ہی لعنت بھیج دی ہے کیونکہ وہ خود جھوٹے ہیں۔

ایک طرف ٹی ایل پی کے احتجاجی مظاہرے تودوسری طرف مفتی منیب نے کال دے دی

مفتی منیب کا دوسرا نام قبضہ مافیا ہے، لیاری ایکسپریس وے کی تیاری کے دوران مصطفیٰ کمال سے اپنے لیے تیسر ٹاؤن میں پلاٹ کی بھیک مانگنے والے اس نام نہاد مفتی منیب الرحمان کی جعل سازی اس بات سے بھی عیاں ہو جاتی ہے کہ جس مدرسے اور ادارے کی یہ آج سربراہی کررہا ہے وہ مرحوم مفتی شجاعت علی قادری(مرحوم) کی ملکیت تھی، مفتی شجاعت علی قادری کا بیرون ملک سرکاری دورے سے واپسی پر انتقال ہوگیا، انکے انتقال کے بعد اس نام نہاد مفتی منیب الرحمن نے مفتی شجاعت قادری کے صاحبزادے کو ملک بدر کروا کر مرحوم مفتی شجاعت علی قادری کے مدرسے اور ادارے پر پہلے ممتحن بن کر قبضہ کیا اور بعد میں مرحوم مفتی شجاعت کے صاحبزادے کو ملک بدر کروا کر یہ نام نہاد مفتی منیب الرحمان مرحوم مفتی شجاعت علی قادری کے مدرسے اور ادارے پر مکمل قابض ہوگیا اور حال ہی میں اورنگی میں ایک سرکاری زمین کے ٹکڑے پر قبضہ کرکہ اس پر بینر لگا کر وہاں ادارہ قائم کررہے ہیں(تصویر ساتھ ہے).

 

طاہراشرفی نےچاند کی تصویرشیئرکردی:رویت ہلال کمیٹی کافیصلہ درست تھا:مفتی منیب فقط…

حکمرانوں کے آگے کلمہ حق بلند کرنے کا دعویٰ کرنے والے منیب الرحمن الله سے زیادہ الطاف حسین سے ڈرتے رہے، 40 سال الطاف حسین رحمت اللعالمین محمدﷺ کی امت کو ایک دوسرے سے لڑوا کر قتل کرتا رہا، ایک روز میں 22 جوان موت کے گھاٹ اتارتا تھا تب اس نام نہاد عاشق رسول محمدﷺ کا کلمہ حق کدھر غائب ہوگیا تھا۔ نام نہاد مفتی اعظم مفتی منیب الرحمان اپنے کوورڈینٹر کو سرکاری عہدہ دلانے کے لیے امت کے قاتل الطاف حسین کی منت سماجت کرتے رہے، حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کا ڈھونگ رچانے والے مفتی منیب ساری زندگی رؤیت ہلال کمیٹی کے سربراہ کے طور پر سرکاری تنخواہ اور مراعات پر پلتے رہے۔ جب سائنس کی رو سے انکے پسند اور ناپسند پر مبنی رؤیت کو چیلنج کیا گیا تو اتنے حواس باختہ ہوگئے کہ بجائے اسکے کہ علم سے جواب دیتے، معاملے کو ذات پر حملہ تصور کرتے ہوئے الله کے عطا کردہ علم سائنس اور وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کو ہی مغلظات بکنے لگے۔ محترم کو خود نمائی کا اتنا شوق ہے کہ اگر رویت ہلال کمیٹی کا کوئی رکن ان سے پہلے کسی میڈیا والے سے بات کر لے تو اپنی شدید ناراضگی کا برملا اظہار کرتے تھے۔

 

 

 

واضح رہے سید مصطفی کمال سید زادے ہیں اور امام احمد رضا خان رحمۃ الله علیہ کے فتوے کے مطابق سید کے خلاف بات کرنا کفر کا درجہ رکھتا ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن بریلوی مکتبہ فکر کی ناصرف نمائندگی نہیں کرتے بلکہ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء گرامی اور مفتیان قدر کی کثیر تعداد مفتی منیب الرحمان کو سرے سے مفتی ہی تسلیم نہیں کرتی؛ مفتی منیب بریلوی مسلک کا چہرہ مسخ کرنے اور اتحاد بین مسلمین کو پارہ پارہ کرنے کے ذمہ دار ہیں،

بین الاقوامی میڈیا پر مفتی منیب الرحمان نواسہ رسول محمد ﷺ، سردار جنت حضرت امام حسین رض کو شہید کرنے والے یزید کے وکیل بن کر پیش ہوئے۔ جبکہ حضرت عمر فاروق(رض) کا قول ہے کہ "دریائے فرات کے کنارے اگر کتا بھی پیاسا مرجائے تو عمر زمہ دار ہوگا” مفتی منیب کے زیر سرپرستی دہشتگردی پھیلاتی تنظیم ٹی ایل پی رحمت للعالمین محمدﷺ کے نام کے نعرے مارتے ہوئے رحمت للعالمین محمد ﷺ کے امتیوں پر سیدھی فائرنگ کی گئی لیکن نام نہاد مفتی منیب الرحمٰن نے ٹی ایل پی کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے پی ایس پی کے کارکن کی شہادت اور مصطفیٰ کمال سمیت کئی کارکنان کے زخمی ہونے پر تعزیت اور ہمدردی تو درکنار؛ انیس قائم خانی کے بیان پر مفتی منیب کا ٹویٹ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مصطفیٰ کمال کا دہشتگرد تنظیم ٹی ایل پی کو دہشتگرد کہنا مفتی منیب کے کلیجے پر تیر بن کر لگا، مفتی منیب کا شمار ان دین کے دشمنوں اور ملک دشمنوں میں ہوتا ہے جو اسلام اور پاکستان کا چہرہ دنیا کے سامنے مسخ کرنے کے زمہ دار ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک سیاسی دہشتگرد جماعت ہے، مفتی منیب اسکے سرپرست اعلیٰ ہیں جو حضرت محمد ﷺ کا نام اپنی گندی سیاست کیلئے استعمال کر رہی ہے۔اس سے بڑی توہین حضرت محمد ﷺ کی نہیں ہو سکتی کہ آپ ﷺ کا نام لے کر آپ ﷺ کا کلمہ پڑھنے والوں کو شہید کیا جائے اور تکلیف پہنچائی جائے۔

دنیاوی ہارجیت سے مرعوب نام نہاد سیاسی مفتی منیب الرحمان ایک سید زادے سید مصطفیٰ کمال کو انتخابات ہارنے کا طعنہ دے کر ناصرف اپنی ذہنی پسماندگی کا ثبوت دے رہا ہے بلکہ تاریخ اسلام میں حضرت امام حسین رضی الله عنہ اور اہل بیت کی شہادت کا بھی مزاق اڑا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یزید نے بھی خانوادہ رسول محمدﷺ کے کٹے ہوئے سروں کو نیزوں کی نوک پر رکھ کر جیت کا جشن منایا تھا لیکن آج اور دنیا میں آخری انسان کے رہنے تک یزید رسوا ہوگیا اور وہ کٹے ہوئے سر سرداران جنت بن گئے۔ یزید جیت کا جشن منا کر بھی ناکام رہا اور خانوادہ رسول محمدﷺ سر کٹا کر ہمیشہ کے لیے کامیاب رہے۔ ہر جیتنے والا کامیاب نہیں اور ہر ہارنے والا ناکام نہیں۔ رب العالمین نے سید مصطفیٰ کمال کو رحمت للعالمین محمدﷺ کی امت کو کراچی میں جوڑنے کا ذریعہ بنایا جسکا تصور بھی مفتی منیب جیسے علماء سو کے لیے محال ہے۔

گزارش ہے کہ لبیک کے نعرے مارنے سے کوئی عاشق رسول نہیں ہوجاتا بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ پاک سر زمین پارٹی سیف الدین صدیقی کے قاتل اور سید مصطفی کمال اور پی ایس پی کے دیگر کارکنان کو زخمی کرنے والوں کی سرپرستی کرنے والوں کو بھی قاتل سمجھتی ہے۔ اللّٰه ہمارا حامی و ناصر ہے۔