محبت کس سے کریں؟ تحریر: سعدیہ بنت خورشید

محبت کس سے کریں؟؟؟
(جب ھم دنیا میں کسی سے محبت کرتے ھیں تو سب سے پہلے اس کو جانتے ھیں پہچانتے ھیں پھر مانتے ھیں پھر اسکی محبت کے حصار میں جکڑ جاتے ھیں)
تحریر:- سعدیہ بنت خورشید

جب ھم دنیا میں کسی سے محبت کرتے ھیں تو سب سے پہلے اس کو جانتے ھیں پہچانتے ھیں پھر مانتے ھیں پھر اسکی محبت کے حصار میں جکڑ جاتے ھیں جس کے بعد ھم اس کی ہر بات پہ بلا چون و چراں عمل بھی کرنے لگ جاتے ھیں اور پھر وہ وقت بھی آتا ھے جب ھمیں اس کے بغیر ایک لمحہ گزارنا بھی مثل ِ عذاب لگ رہا ھوتا ھے۔۔
دنیا جہاں چار دن کی ذندگی ھے اور فانی دنیا میں فانی لوگوں کی اپس میں ایسی محبت ھو سکتی ھے تو وہ جو "الحی” ھے اس کے ساتھ محبت کے کیا تقاضے ھوں گے۔۔۔۔؟؟؟

"اللہ سے محبت” یہ سنتے ہی دل میں ایک بہترین احساس جاگزیں ھوتا ھے۔
اللہ سے محبت کے لئے سب سے پہلے اللہ کے بارے معرفت ضروری ھے کہ اللہ کون ھے؟

الله، وہ ذات جس کے اسم الجلالہ میں سے الف حذف کیا جائے تو "لله” بچتا ھے، لله سے لام حذف کیا جائے تو له بچتا ھے، له سے لام کو حذف کیا جائے تو اسم ضمیر "ھو” وجود میں آتا ھے۔۔ "ھو”(( وہ ذات))۔ جو ھمیشہ سے ھے ھمیشہ رہے گی۔
اس اسم گرامی کی وسعت اتنی ہے کہ ہر حرف اسکی ذات کی تعریف کا مؤجب بنتا ھے۔

((ھو علَمُ لذات الواجب الوجود

المستجمع لجمیع صفات الکمال ))

غرضیکہ ہر قسم کی صفات کی حامل ھے و ذات ۔۔۔۔!!

محبت، حب سے ھے۔ مح کا معنیٰ خالص اور بت کا معنیٰ توشہ، محبت یعنی خالص توشہ ۔۔۔!!
محبت ایک انتہائی عظیم اور پاکیزہ رشتہ ھے جس میں چاھنے اور چاھے جانی کی خواہش ھوتی ھے، جس میں ایک طرف کے تعلق کی بجائے طرفین کا مابین بہت گہرا تعلق ھوتا ھے، محبت مانندِ نور ھے.

الله سے محبت کے تقاضے کیا ھیں؟
محبت اطاعت مانگتی ھے جس میں نفی و شریک کی قطعاً گنجائش نہیں ھوتی۔
الله تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:-
((قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی، یحببکم الله))
الله نے اپنے سے محبت کیے جانے کا قاعدہ بھی خود ہی مقرر فرما دیا اور حکم صادر فرمادیا۔ کہ "اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ھو تو میری پیروی کرو بدلے میں اللہ بھی تم سے محبت کرے گا”
کتنا خوبصورت انعام ھے۔۔۔!!! یعنی یہ صرف یکطرفہ محبت نہیں ھے، بلکہ اس کے لئے اصول و ضوابط مقرر فرما دئیے کہ اگر میرے بندے ان ان اصولوں پر پورا اتریں گے تو بدلے میں اس عظیم ہستی کی محبت ملے گی جو آسمانوں اور زمینوں کا نور ھے۔
اسی طرح حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:- من اطاعنی فقد اطاع الله
"جس نے میری اطاعت کی اس نے الله کی اطاعت کی۔”
یعنی کامیابی حاصل کرنی ھے تو اطیعو اللہ و اطیعو الرسول دونوں کو خود پر لازم پڑے گا کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم کے درمیان ایک گہری نسبت ھے جن میں سے کسی ایک کو چھوڑ کے انسان کامیابی و کامرانی کی راہ ہموار نہیں کر سکتا لہٰذا اللہ کی محبت کے حصول کے لئے لئے قرآن اور حدیث کو اپنی عملی زندگی پر لاگو کرنا ھوگا

کیونکہ صرف زبانی کلامی باتوں سے محبت حاصل نہیں ھوجاتی۔ جب محبت کی جاتی ھے تو محب پر لازم ھوجاتا ھے کہ اپنے محبوب کی باتوں کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور اس کے بعد اس میں کسی قیل و قال کی گنجائش نا بچتی ھے
(( لو کان حبک صادقا لاطعته
ان المحب لمن یحب یطیع))
اگر تو سچی محبت کرتا ھے تو اسکی اطاعت کر کیونکہ محبت تو یہی ھے کہ جس سے محبت کی جائے اس کی اطاعت کی جائے۔ اصل محبت ہی یہ ھے کہ فاعل، مفعول به کے احکام کو (سَمِعتُ و اطعتُ)) کہتے ھوئے بجا لائے اور اس میں کسی چون و چرا کی گنجائش نا ھو۔ جن میں برادری، معاشرہ، اور ایسے ہی دیگر عوامل اثر انداز نا ھونے پائیں۔ ایسی محبت جس کے بارے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ھے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ھو سکتا جب تک میں اس کے اہل و عیال سے زیادہ اسکو عزیز نا ھو جاؤں۔ خالصتاً طریقے سے چاھے جانا، محبت اس چیز کی متقاضی ھے کیونکہ محبت اپنے ساتھ شریک برداشت نہیں کر سکتی۔

اس سب کو جان لینے کے بعد محبت قربانیاں مانگتی ھے اور محبت میں ایک مقام وہ بھی آتا ھے جب یہ محبت ابراہیم علیه السلام کو آگ میں چھلانگ لگوا دیتی ھے، اسماعیل اور ہاجرہ علیہما السلام کو جنگل بیابان میں تنہا چھڑوا دیتی ھے، بلال رضی الله عنه کو تپتی ریت پر لٹا دیتی ھے،۔
جب محبوب کی محبت پر بے انتہا یقین کا یہ مقام آتا ھے (ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا)) کا مصداق بنا دیتی ھے۔
"یجعل اللہ مخرجا” کو صرف کہنے کی حد تک نہیں رکھا بلکہ اسکو عملی جامہ پہنا کر آنے والی انسانیت کے لئے اسکو بطور نمونہ پیش کردیا

اور پھر وہ رب ابراہیم کو آگ میں چھلانگ لگوا کے اگ کو ٹھنڈی کردیتا ھے، اسماعیل علیہ السلام کی گردن پہ چُھری کو چلنے نہیں دیتا اور اس کی جگہ جانور کو لٹا دیتا ھے، حبشی بلال کی قدموں کی چاپ کو جنت میں سنا دیتا ھے۔
اللہ سے محبت کتنی عظیم محبت ھے جس میں کسی قسم کا کوئی خسارہ نہیں۔ لیکن سب سے بنیادی اصول جو ھیں ، محبت یقین مانگتی ھے، قربانی مانگتی ھے کہ جب رات کو دوسرے لوگ آرام سے نرم و گرم بستر پر لیٹ کر مزے کی نیند سوئے ھوں تو یہ ( تتجافی جنوبھم عن المضاجع) کا عملی نمونہ بن جائے۔ مؤذن ابھی یہ صدا بلند کررہا ھو حی الفلاح اور یہ کاروبار، گاہک سب کچھ چھوڑ کے کامیابی کو ڈھونڈنے اس مالک کے گھر ( مسجد میں ) چل نکلے۔

من ذاق حب الله ارتویٰ
"جس نے اللہ کی محبت کا ذائقہ چکھ لیا وہ سیر ھوگیا۔”

جو اس محبت کا مزہ چکھ لیتا ھے اس پر دنیا کے سامنے دنیا کے مصائب، تکالیف، تنگیاں کوئی وقعت نہین رکھتیں وہ صرف اس باری تعالیٰ کا ھو کے رہ جاتا ھے جس کی محبت کے سامنے یہ دنیاوی زیبائش بے معنیٰ ھو کر رہ جاتی ھے۔ اور پھر اسی طرح یہ محب اپنے محبوب کو ایک نظر دیکھنے کے لئے ہر وقت کسی نا کسی طریقے سے اس کو یاد کرنے میں مگن رہتا ھے اور آخر تک اس کی اپنے محبوب کے دیدار کی تڑپ کم ھونے کی بجائے بڑھتی چلی جاتی ھے جس وجہ سے اس کو یہ دنیا قید خانہ لگنے لگتا ھے اور وہ اس قید سے رہائی کے انتظار میں برسوں گزار کر آخر کو اپنے اپنے رب کے ساتھ ملاقات کی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ھو جاتا ھے۔
اللہ اپنے سے محبت کرنے والے کو خالی ہاتھ نہیں لٹاتا بلکہ اس کو دونوں جہانوں میں عزتوں، کامرانیوں سے نوازتا ھے۔
الله تعالیٰ ھمیں بھی ان مؤمنین کی صفوں میں شامل کردے جو اللہ سے محبت کرتے ھیں اور ھمارا شمار ان لوگوں میں بھی ھو جن سے اللہ بھی محبت کرتا ھے۔امین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.