fbpx

مجھے بار بار رگڑا لگایا جا رہا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی

وکیل وفاقی حکومت عامر رحمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی غلطی نہیں، عدالت نے سوچ سمجھ کر حقائق اور قانون کے مطابق فیصلہ دیا تھا، سرینا عیسٰی کو ایف بی آر رپورٹ بھجوانے سے پہلے سماعت کا موقع دیا گیا،انصاف کا اختیار استعمال کرتے ہوئے عدالت کوئی بھی حکم جاری کر سکتی ہے، آرٹیکل 187 کے تحت حکم دیتے ہوئے کسی فریق کو سننا ضروری نہیں،ہاوَسنگ سوسائٹیز کے فرانزک آڈٹ کا حکم بھی متعلقہ افراد کو سنے بغیر ہی دیا گیا تھا،عدالت آرٹیکل 187 کا اختیار تنازعات کے حل کے لیے بھی استعمال کرتی ہے، عدالت کو آرٹیکل 187 کے تحت ڈیڈ لائنز دینے کا بھی اختیار ہے، جو معلومات سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہیں وہ کالعدم نہیں ہو سکتی ،درخواست گزار کے وکیل نے خود معاملہ ایف بی آر بھجوانے کی بات کی،

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ غلط بات کر رہے ہیں میرے وکیل نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا،کیا انکو جو مرضی کہنے کا اختیار ہے؟ جسٹس منظور ملک نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں، عامر رحمان نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرا کام دلائل دینا ہے قبول کرنا نہ کرنا عدالت کا اختیار ہے، جسٹس منظور ملک نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے خوبصورت ٹائی پہنی ہوئی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا موڈ اچھا ہے اسے اچھا ہی رہنے دیں،جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ عامر رحمان ویسے بھی دھیمے مزاج کے آدمی ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایک ریفرنس فائل کیا ،حکومتی ریفرنس سپریم کورٹ نے خارج کر دیا،ایف بی آر کو معاملہ سپریم کورٹ نے خود بھجوایا،آپ نے کوئی نظرثانی اپیل بھی نہیں کی،آپ کا اس معاملے میں کیا رول ہے؟کیا آپ کو سننا ضروری ہے؟

سرکاری وکیل عامر رحمان نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ریفرنس آنے پر ہی جوڈیشل کونسل تشکیل پاتی ہے، جوڈیشل کونسل غیر فعال ہو تو اس کا ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہو جائے گا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت نے وفاقی حکومت کا ریفرنس کالعدم قرار دیا تھا،ایف بی آر کو کیس عدالت نے حکومتی درخواست پر نہیں بھجوایا تھا،حکومت کا کیس کالعدم ہو چکا تو حکومتی وکیل کو سننا کیوں ضروری ہے، جن کا کیس ایف بی آر گیا انکا حق ہے وہ چیلنج کرتے،

سرکاری وکیل عامر رحمان نے کہا کہ پانامہ کیس میں عدالت نے مخصوص مدت میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا تھا،اداروں کو مخصوص مدت میں اقدامات کی ہدایت سپریم کورٹ کرتی رہی ہے،عامر رحمان کا غیر متعلقہ بات منسوب کرنے پر جسٹس قاضی فائزنے اعتراض کیا، قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومتی وکیل اپنی باتوں کو میرے منہ میں نہیں ڈال سکتے، جسٹس مظہر عالم نے حکومتی وکیل سے کہا کہ گزشتہ روز بھی آپ کو کہا تھا کہ اختصار سے کام لیں،پورا فیصلہ پڑھنے کے بجائے صرف متعلقہ فیصلے کا حوالہ دیں،عامر رحمان نے کہا کہ سرینا عیسٰی کا کیس ایف بی آر بھجوانے کی وجہ تنازع کا حل تھا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا یہ لکھنا ضروری ہے کہ فیصلہ 187 کے تحت دیا جارہا ہے،عامر رحمان نے کہا کہ عدالت کا اختیار ہو تو فیصلے میں آرٹیکل کا ذکر ضروری نہیں ہوتا،

جسٹس منظور ملک نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کوہدایت کی کہ حکومتی وکیل کو بولنے دیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بڑا تو صرف عدالت میں ہوں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں کوئی بڑا آدمی نہیں ہوں،مجھے بار بار رگڑا لگایا جا رہا ہے،جسٹس منظور ملک نے کہا کہ آپ تحمل کا مظاہرہ کریں اور وکیل کو دلائل دینے دیں، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ہم سب کھلے دل اور ذہن کے کیساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، جسٹس مقبول باقر نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ بہترین دلائل دے رہے ہیں جاری رکھیں،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.