fbpx

مجھے فخر ہے، میرا تعلق اس قوم سے ہے. — ثمینہ کوثر

آج ایک تصویر پر نظر پڑی تو میں ایک دم سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ میرا تعلق کس قدر خوش نصیب ، بہادر ، نڈر اور مضبوط حوصلوں والی قوم سے ہے ، جس کے جذبوں کو کبھی بھی شکست نہیں دی جاسکتی ، میری قوم کے جذبوں کو کوئی شکست دے بھی نہیں سکتا ۔ یہ وہ قوم ہے کہ جب اللہ تعالی کی طرف سے زلزلے یا سیلاب کی صورت میں آزمائش آئے تو یہ قوم پھر بھی ثابت قدم رہتی ہے ۔ اگر اس قوم پر اندرونی اور بیرونی طور پر جنگ شروع ہو جائے تو بھی یہ قوم ثابت قدم رہتی ہے ۔ مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ایسی قوم سے ہے جہاں مصیبت بعد میں آتی ہے اور لوگ پہلے متحد ہو جاتے ہیں ، لوگ اپنے ذاتی اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کا دست و بازو بننے کی کوشش کرتے ہیں ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جسے میں نے 2008 ء کے زلزلے میں بھی متحد ہوتے دیکھا تھا ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جسے میں نے ملک بھر میں سیلاب کی وجہ سے ایک بار پھر متحد ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔

ایمان والوں کی یہ پہچان ہے کہ وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آج ایسی ہی ایک تصویر پر نظر پڑی جس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ کاغذ اٹھانے والا ایک بچہ ، محنت مزدوری کرنے والا ایک بچہ ، دن رات محنت کرکے اپنے خاندان کی پرورش کرنے والا بچہ ، اپنی دن بھر کی مزدوری سیلاب زدگان کی امداد میں دے رہا تھا ، یہ تصویر دیکھ کر میرا سر فخر سے بلند ہوگیا اور مجھے اپنی قوم کے ایمان پر رشک آنے لگا کہ جس قوم کے مزدور بچے ایسا مضبوط ایمان لئے پھر رہے ہوں کہ وہ اپنے اوپر دوسرے بہن بھائیوں ، مجبور اور بے بس بہن بھائیوں کو ترجیح دے رہے ہوں یقینا ان لوگوں کا ایمان قابل رشک ہی ہے کیوں کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ایمان کامل ہیں ، قدرتی آفات جب آتی ہیں تو اپنے ساتھ کچھ اچھے اثرات بھی لے کر آتی ہیں ، جب میری قوم کا شیرازہ بکھر رہا ہو ، جب لوگ ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوں ، جب سیاست دان ایک دوسرے کو نوچ کھانے کو تیار ہوں ، جب پوری قوم ایک دوسرے کے ساتھ حسد ، لالچ اور خود غرضی میں مبتلا ہو ، جب بہن بھائی اور بھائی بھائی ایک دوسرے کے جانی دشمن بن رہے ہوں ، جب لوگ ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کی بجائے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کو تیار ہوں ، تو اس وقت وقت اللہ تعالی ایسی آزمائش میری قوم پر بھیج دیتا ہے اور پھر یہی ایک دوسرے کے جانی دشمن ، ایک دوسرے کی مدد کرتے نظر آتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے جانی دشمن اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں ۔ پھر اسی طرح میری قوم کا ہر مزدور ، چاہے وہ بچہ ہو یا بڑا اپنی دن بھر کی محنت اپنے مجبور ، بے بس اور لاچار مسلمان بھائی کو دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔ ہاں مجھے فخر ہے میری قوم پر کہ ان کے ایمان اس طرح مضبوط ہیں کہ یہ مدینہ کے انصار کی طرح مہاجرین کو اپنا بھائی بنا لیتے ہیں ، ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات سمجھتے ہیں ، خود کچھ کھائیں یا نہ کھائیں اپنے بھائی ، اپنے بے بس مسلمان بھائی کو ضرور دیتے ہیں ، ہاں میں نے ایسی ہی مشکلات اور حادثات میں اپنی قوم کو یکجا ہوتے دیکھا ہے ، ان بکھرے ہوئے ذروں کو مضبوط چٹان بنتے دیکھا ہے ،

ہاں میں نے مصیبت کی ہر گھڑی میں اپنی قوم کو رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر سوچتے ہوئے دیکھا ہے ، ہاں میں نے مشکل کی ہر گھڑی میں اپنی قوم کو ذات برادری سے باہر ہر ہر انسان کو اپنا سمجھتے ہوئے دیکھا ہے ، ہاں مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جس کے حوصلوں کو دنیا کی کوئی طاقت کم نہیں کر سکتی ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ایسی قوم سے ہے جیسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہرا سکتی ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جس کا بچہ بچہ دوسروں کے دکھ درد کا سہارا بننا جانتا ہے ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جو مصیبت کی ہر گھڑی میں یکجا ہونا جانتی ہے ۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا تھا کہ 2008ء کے زلزلے میں میرے مجبور ، بے بس اور لاچار بہن بھائی جن کے خاندان زلزلے کی نظر ہو گئے ، جن کے گھر بار ختم ہوگئے ، ان آنکھوں نے خود دیکھا کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری ، وہ آگے بڑھے ، اپنے گھر بنائے ، اپنے خاندان بنائے ، یہ لوگ جو سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ، جن کے مویشی تک ختم ہوگئے ، جن کے پیارے سیلاب نے چھین لیے ، سیلاب جن کے گھر بہا کر لے گیا ، جنہوں نے نے اپنی عمر بھر کی کمائی کو ، اپنے پیاروں کو سیلاب کی نظر ہوتے دیکھا ہے ، یہ لوگ بھی ہمت نہیں ہاریں گے ۔ سیلاب چلا جائے گا لیکن ان لوگوں کی ہمتوں کو اور بھی بلند کر جائے گا ، یہ لوگ ہمت ہارنے کی بجائے ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے ، زندگی کو نئے سرے سے شروع کریں گے ، آگے بڑھیں گے اور پھر ساری دنیا کو بتا دیں گے کہ ہاں ہم پاکستانی ہیں ۔ ہمارے جذبوں ، ہماری ہمتوں اور ہمارے حوصلوں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا کیوں کہ ہم میں وہ لوگ موجود ہیں جو مضبوط ایمان والے ہیں ، جو خود پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ۔