مجھے کیوں نکالا؟ ن لیگ سے نکالے گئے رکن اسمبلی نے نعرہ لگا دیا

0
69

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن سے نکالے گئے رکن اسمبلی جلیل شرقپوری نے کہا ہے کہ ملک مزید بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا،پارٹی سے ہمیں ایسے تو نہیں نکالا جاسکتا

جلیل شرقپوری کا کہنا تھا کہ اگروزیراعظم سے پیپلزپارٹی والے ملاقات کریں تو یہ پارٹی خلاف ورزی میں نہیں آتا، وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملنا کوئی غیر قانونی کام نہیں ،نوازشریف کی ٹکراوَ کی پالیسی غیر مناسب ہے،وزیراعلیٰ پنجاب سے کام کے معاملے میں بارہا ملا ہوں پارٹی میں اختلاف رائے ہوتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں پارٹی چھوڑدوں،اگر پارٹی عثمان بزدار کے خلاف حق پر تحریک عدم اعتماد لائے گی تو ساتھ دوں گا،

جلیل شرقپوری کا کہنا تھا کہ حلقے کے کاموں کے سلسلے میں وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے میں کوئی حرج نہیں ،میرے بیانات اگر رانا ثنا اللہ یا کسی اور کو مناسب نہیں لگتے تو اس کا ذمہ دار میں نہیں میں بھی کل یہی کہوں گا کہ مجھے کیوں نکالا،بڑے دل والوں کو چھوٹی سوچ کو دماغ میں جگہ نہیں دینی چاہیے،یہاں نہ جاوَ وہاں نہ جاوَ یہ پالیسی کسی بھی پارٹی کے حق میں نہیں ،منتخب اراکین وزیراعلیٰ اوروزیراعظم سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں،انتخابات سے قبل وزیراعظم سے ملاقات کرچکاہوں،عمران خان سے ملاقات کامطلب یہ نہیں اپنی پارٹی کےخلاف ہوں،سڑکوں پر آنا،احتجاج اور جلسے کرنا مناسب نہیں،چودھری نثار کے رائے کوآج بھی حق بجانب سمجھتا ہوں،چودھری نثار کے معاملے میں بھی نوازشریف کی پالیسی سخت تھی،

جلیل شرقپوری کا مزید کہنا تھا کہ مجھے عمران خان نے بہت پہلے کہا کہ پی ٹی آئی کے لیے کام کریں،میں نے اس وقت کام کیا لیکن تب میرا الیکشن لڑنے کا ارادہ نہیں تھا، پارٹی کے کچھ رہنماؤں نے روکنے کیلئے رابطہ کیا ،رابطہ کرنے والے پارٹی رہنماؤں کوکہا کہ میں نےکچھ غلط نہیں کررہا، اگر میں سمجھتا ہوں کہ ن لیگ کی ٹکراؤ والی پالیسی ٹھیک نہیں تو یہ میری رائے ہے،اگر مجھ سے رکنیت لے لی گئی تو پھر میں بھی کہوں گا کہ مجھے کیوں نکالا،مجھے کوئی پارٹی کا رہنما نہیں ملا جس نے کہا ہو کہ نوازشریف کا فیصلہ درست ہے، میں نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ نیب کو کسی کو گرفتار کرنے کا اختیار ہونا چاہیے،غلط ہے جس طرح شہبازشریف، علیم خان اور حمزہ شہباز کو نیب نے گرفتار کیا، فی الحال جلسے کے بارے میں سوچنا جلد بازی اور غیرجمہوری قدم ہوگا،ابھی نوٹس ملے2 دن ہوئےہیں،7دن بعد سوچوں گا کہ آگے کیا کرنا ہے،

Leave a reply