مکالمہ,,,,! از:نساء بھٹی

نساء بھٹی
مکالمہ,,,,!
آدم تو ہے مٹی
یہ ہے حقیر سمجھ لے
ابلیس میرا نام ہے شعلوں سے بنا ہوں!
میں اس سے ہوں بہتر کہ ہوں آگ کا پیکر
یہ سر میرا اس کے کبھی آگے نہ جھکے گا
ہوّں اس سے فروتر , تو میں افضل ہی رہوں گا.
پھر رب نے کہا!
"جا میری جنت سے نکل جا
پھٹکار ہے تجھ پر
یہاں تو اب نہ رہے گا”
کہنے لگا تو رب ہے ذرا بات میری مان
دے مجھ کو ذرا مہلت کے لے آدم مجھے پہچان.
میں اس کی ذریت کو بہکا کہ رہوں گا,
فی نار جہنم انہیں پہنچا کہ دم لوں گا.
آسان ہدف میرا یہ تیرے بشر ہوں گے
پھر ساتھ میرے حشر میں یک صف کھڑے ہوں گے
یوں خوشنما کر دوں گا میں اپنا ہر ہرچنگل
کہ کرتے رہیں گے یہ آپس ہی میں دنگل
آئی یہ ندا!
جا تجھے مہلت ہے حشر تک
جو تیرا ارادہ ہے جا , پورا ذرا کر,
مخلص میرے بندوں کو تو بہکا نہ سکے گا.جو تیرا ارادہ ہے کبھی کر نہ سکے گا.
جو تیری سنے گا,وہ ہوگا میرا کافر
جو کفر کرے گا وہی ہوگا تیرا ہم سر
تم سب کے لئے ہوگا جہنم کا یہی گھر.
روؤ گے وہاں چیخو گے فریاد کرو گے
"پھر عمر رواں دے دے گناہ اب نہ کریں گے”
شعلوں میں گھرو گے,پیو گے جام حمیم
نہ پاؤ گے بلکل مجھے اس روز تم رحیم
تو آج بھی لعین ہے اس روز بھی ہوگا
مردود ہے مردود ہے مردود رہے گا…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.