fbpx

سندھ بلدیاتی الیکشن:مختلف مقامات پر ہنگامہ آرائی،متعدد افراد زخمی

نواب شاہ،یونین کمیٹی 6 وار ڈ 1 نادر شاہ ڈسپنسری پولنگ اسٹیشن پرپولنگ کا عمل بند کر دیا گیا-

باغی ٹی وی :نواب شاہ میں ایک سیاسی جماعت کے امیدوار کا نشان تبدیل کر دیا گیا جس کے بعد سیاسی جماعت کے کارکنوں نے پولنگ اسٹیشن کو بند کردیا اور کشیدگی کی وجہ سے پولیس کی بھاری نفری طلب کرلی گئی –

امیدوار نے کہا کہ نواب شاہ میں جنرل کونسلر کے نشست کے آزاد امیدوار کا انتخابی نشان تبدیل، زرداری کا ووٹ میرے وارڈ میں ہے ، مجھے بیٹھ جانے کیلئے کئی آفرز ہوئیں ، 5 نوکریاں دینے کا کہا لیکن میں نہیں بیٹھا رات 12بجے کے بعد میرا نشان تبدیل ہوگیا۔


کندھ کوٹ وراڈ نمبر 10 کی پولنگ اسٹیشن پر 2سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں تصادم کے دوران کرسیوں اور لاٹھیوں کے وار سے20سے زائد افراد زخمی ہو گئے اور تصادم کے دوران سیکڑوں موٹرسائیکلیں توڑ دی گئیں-

کندھ کوٹ میں یوسی ددڑ کی پولنگ اسٹیشن ٹوڑی بنگلو پر مبینہ طور پر 10پولنگ اہلکار اغوا ہو گئے مسلح افراد نے ووٹرز کو حراساں کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی اور عملہ اغوا کرلیا-

دوسری جانب گھوٹکی، ڈہرکی ہائی اسکول کی لیڈیز پولنگ اسٹیشن پر مرد ایجنٹ بٹھانے پر ووٹرز نے احتجاج کیا گھوٹکی،پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ کا عمل روک دیا گیا کشیدگی کے باعث پولیس پہنچ گئی-

رانی پور کے وارڈ نمبر 5 علی آباد وسان میں آزاد امیدوار کو غلط نشان الاٹ ہونے پر ووٹنگ کا عمل روک دیا گیا۔

خیرپور کی میونسپل کمیٹی وارڈ نمبر 27 میں بھی امیدوار کو غلط نشان الاٹ ہونے پر پولنگ کا عمل ایک گھنٹے تک رکا رہا تاہم پریزائڈنگ افسر کی مداخلت کے بعد ووٹنگ کا عمل شروع کیا گیا۔

جیکب آباد وارڈ نمبر 2 کے پولنگ اسٹیشن جلال الدین روڈ میں ووٹنگ کا عمل تاخیر سے شروع ہوا جس کی وجہ الیکشن کمیشن کی جانب سے لسٹ مہیا نہ کیا جانا تھا۔


دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما علی حیدر زیدی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم سے ابھی بات ہوئی!ان کے بیٹے ارباب عنایت اللہ پر ابھی زرداری مافیا کے غنڈوں نے تھرپارکر کے علاقے کلوئی، مٹھی میں پولنگ سٹیشن پر حملہ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے، ای سی پی کہیں نظر نہیں آئے، سوائے سندھ پولیس کے جو دراصل حملہ آوروں کی حفاظت کر رہی ہے!

سندھ میں بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ ،سندھ کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ جاری ہے الیکشن کمیشن سندھ کے مطابق مجموعی طور پر ایک کروڑ13لاکھ سے زائد امیدوار حق رائے دہی استعمال کرینگے،ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ بلدیاتی انتخابات کیلئے 9023 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں،مردوں کے لیے 1910 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ انتخابات کی نگرانی کر رہے ہیں-

الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں پولیس کے ساتھ رینجرز کوئیک رسپانس کیلیے موجود ہوگی، فوج سے بھی رابطہ ہے، الیکشن شفاف بنانے کیلیے کیمرے لگائے گئے ہیں اور سیکیورٹی کا موثر سسٹم وضح کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدامنی پھیلانے والوں کےخلاف سخت کارروائی ہوگی۔ ڈسکہ کا معاملہ سب کے سامنے ہے, امیدواروں کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے عملے کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔

قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر نے الیکشنز کے حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ تمام ووٹرز بلاخوف وخطر اپنا قومی فریضہ ادا کریں،پولنگ میں مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا،کسی بھی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جائے گا-

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اسلام آباد میں مرکزی مانیٹرنگ و شکایت سیل قائم کیا گیا ہے،کراچی اور کے پی کے میں صوبائی مانیٹرنگ و شکایت سیل قائم کیا گیا ہے انہوں نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسرز اور مانیٹرنگ ٹیموں کو چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے-

چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ سیکیورٹی ادارے پر امن پولنگ کو یقینی بنائیں،بد امنی اور خلل ڈالنے والوں کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے گی-

واضح رہے کہ ووٹرز کو پُرامن ماحول فراہم کرنے کے لئے سیکیورٹی کے خاص انتظامات کئے گئے ہیں لاڑکانہ ڈویژن کے 5 اضلاع جیکب آباد، کشمور، شکارپور، لاڑکانہ اور شہداد کوٹ کے عوام آج اپنے بلدیاتی نمائندے منتخب کریں گے۔

سکھر ڈویژن کے 3 اضلاع خیرپور، سکھر اور گھوٹکی، شہید بے نظیر آباد ڈویژن کے 3 اضلاع شہید بے نظیرآباد، سانگھڑ، نوشہرو فیروز اور میرپور خاص ڈویژن کے 3 اضلاع میرپور خاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر کے عوام بھی ووٹ ڈالیں گے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ صبح 9 سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی، مختلف کیٹیگریوں کی 5331 نشستوں پر 21298 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا جبکہ 946 نشستوں پر امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب قرار پاچکے ہیں۔

14 اضلاع میں ووٹرز کی کل تعداد 1 کروڑ 14 لاکھ 92 ہزار 680 ہے جن کے لیے 2 کروڑ 95 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں، 14 اضلاع میں 9290 ہزار پولنگ اسٹیشنز اور 29970 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے 1985 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 3448 کو حساس قرار دیا گیا ہے، بلدیاتی انتخابات کے لیے 1 لاکھ 2 ہزار 682 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ کے انتظامات مکمل کر لئے ہیں جبکہ مختلف ڈویژن سے ایک ہزار ایک امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کا عمل جاری ہے سندھ کے 14اضلاع میں 21 ہزار 298 امیدوار مدمقابل ہیں –

دوسری جانب سوات کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 7 میں ضمنی انتخاب ،پولنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے –

خیرپور میں 3 میونسپل کمیٹی ،20 ٹاون کمیٹی اور 88 ضلع کونسل کے نشستوں پر انتخابی دنگل سج گیا ،پیپلزپارٹی ،جی ڈی اے ،تحریک انصاف اور آزاد امیدواروں میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے-

جیکب آباد، 44 یونین کونسلز کے ارکان میں سے 135 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں،بلدیاتی انتخابات میں 456 نشستوں پر 711 امیدوار قسمت آزمائیں گے 31 وارڈز میں سے 29 پر 198 امیدواراپنی قسمت آزمارہے ہیں-

قمبرمیں 111 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس ،117حساس جبکہ 312نارمل قرار ددیئے گئے،الیکشن کمیشن کی جانب سے ضلع بھر میں 589پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں-

جیکب آباد میں 44 یونین کونسلز کے ارکان میں سے 135 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں،31 وارڈز میں سے 29 پر 198 امیدوار اپنی قسمت آزمارہے ہیں،میونسپل کمیٹیز ، ممبر ضلع کونسلز اور جنرل کونسلرز کی نشستوں پر 21 ہزار 298 امیدوار مدمقابل ہیں،887یونین کونسلز میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کیلئے3ہزار سے زائد امیدوار میدان میں ہیں ،3ہزار 548 جنرل ممبرز کی نشستوں کیلئے9 ہزار 744 امیدوار مدمقابل ہیں،ضلع کونسل کی 794 نشستوں پر 2ہزار604 امیدوار میدان میں ہیں،پولنگ کا عمل شام5 بجے تک جاری رہے گا خیرپور اور عمرکوٹ میں خصوصی افراد بھی ووٹ کاسٹ کرے پولنگ اسٹیشن پہنچے-