fbpx

مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم المرتبت شخصیت تحریر : محمد صابر مسعود

مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے عظیم المرتبت قائد، جنگ آزادی کے سپہ سالار، ، صاحب طرز انشاء پرداز، مقرر بے باک، قلم و قرطاس کے بادشاہ اور ایک عہد آفریں انسان تھے ۸ ذی الحجہ ۱۳۰۵ ھ (17 اگست 1888ع ) کو مکۃ المکرمہ (زادہ اللہ شرفا و عظمۃ ) میں پیدا ہوئے، والد کا نام خیر الدین تھا جو ایک جید عالم اور صوفی باعمل تھے، کلکتہ میں نشو نما پائ اور تعلیم کا مکمل سفر گھر پر ہی طے کیا۔
مولانا ابوالکلام آزاد مجتہدانہ دماغ کے مالک تھے علوم و فنون پر گہری نظر تھی، اسی کے ساتھ ساتھ مقرر بے باک اور خطابت کے اعلی معیار پر فائز تھے۔
آپ نے زبان و قلم کے جادو سے ہزاروں، لاکھوں سینوں میں آزادی وطن کی آگ لگادی تھی۔
آپ کے اخبار ،،الہلال،، نے ملک کے چپہ چپہ میں آزادی کا بگل بجادیا تھا ،1915 میں مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے حکومت بنگال نے جلاوطن کرکے رانچی میں نظر بند کردیا تھا اس کے بعد بھی لیلائے آزادی کے حصول میں بار بار قیدو بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا، تقریباً سولہ سال جیل کی سلاخوں میں رہے۔
ابتداہی سے جمیعۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر رہے، اجلاس عام لاہور میں 1921ع اور اجلاس عام کراچی 1931ع کے صدر رہے ۔
آزادی سے پہلے سات سال کانگریس کے صدر رہے ل، آزادی کی مشہور تحریک” کوئٹ انڈیا” 1942 میں مولانا ابوالکلام آزاد کی قیادت میں چلائ گئ، آزادی کے بعد کانگریس وزارت میں وزیر تعلیم رہے ۔
آپ کی علمی، ادبی، سیاسی و صفاحتی خدمات پر اس قدر لکھا گیا کہ صرف ان کا اشاریہ تیار کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب ہوسکتی ہے 22/فروری/1985 کو یہ آفتاب علم و سیاست غروب ہوکر جامع مسجد دہلی کے سامنے ہمیشہ کے لئے روپوش ہوگیا ۔۔۔۔

@sabirmasood_