fbpx

ملک میں 25 اشیائے ضروریہ مزید مہنگی کردی گئی

ملک میں مہنگائی کی شرح میں 3 اعشاریہ 35 فیصد ہوا اور 25 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوگئیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں 3 اعشاریہ 35 فیصد کا اضافہ ہوا، اور مہنگائی کی شرح 42.31 فیصد کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی۔
ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 25 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں، 11 کے نرخوں میں کمی ہوئی، اور اس دوران 15 اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے جن اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں چکن، ٹماٹر، آلو، پیاز، خشک دودھ، انڈے، دال مونگ شامل ہیں۔ جب کہ بجلی، پٹرول، سگریٹس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے جن اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی ان میں گھی، لہسن، دال مسور، دال چنا اور کوکنگ آئل شامل ہے، جب کہ چینی، ایل پی جی، ڈیزل اور جلانے کی لکڑی بھی سستی ہوئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتوں میں ملک بھر میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جبکہ سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 38.63 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں تھی۔

ملک میں مہنگائی میں اضافہ کا رجحان بدستور جاری رہا تھا اور پچھلے ہفتوں کے دوران ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں0.82 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 38.63 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

اس وقت وفاقی ادارہ شماریات کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک ہفتے میں 33 اشیائے ضروریہ مہنگی جب کہ 4 اشیاء کے نرخوں میں کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔

ادارہ شماریات کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے اس حوالے سے وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی بارے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق چار اگست 2022 کو ختم ہونے والے والے ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں 0.82 فیصد اضافہ ہوا اور سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی 38.62 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کے اس وقت کے عداد و شمار کے مطابق: پیاز 24.92 اور ٹماٹر 11.93 فیصد مہنگا ہوا، دال مونگ 5.72 اور دال ماش 5.28 فیصد مہنگی ہوئی، آلو 5.03 اور دال مسور 4.43 فیصد مہنگی ہوئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق ڈیزل 3.78 اور ایل پی جی کی قیمت میں 1.49 فیصد اضافہ ہوا، حالیہ ہفتے دال چنا، انڈے، لہسن، گڑ بھی مہنگا ہوا جب کہ ایک ہفتے میں چکن 5.08 اور فی کلو گھی 0.15 فیصد سستا ہوا ہے، جبکہ جن 4 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی ان میں چکن اور پٹرول سمیت دیگر اشیاء شامل ہیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 32.88 فیصد، 17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 38.44 فیصد، 22 ہزار 889 روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں36.26 فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں36.21 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176 روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 38.73 فیصد رہی ہے۔