ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 03 ) ‏تحریر: محمداحمد

0
55

جیسا کہ پچھلی 2 تحریروں میں بتایا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ حکومتی ارکان کو برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں 95٪ لوگ اپنے ضمیر کو بیچ کر ملاوٹ کرنا ، رشوت کے کاموں میں اپنے بچوں کو حرام کی روزی کھلاتے ہیں یاد رکھیں جو خفیہ طریقہ سے ملاوٹ سے کمایا گیا پیسہ حلال نہیں ہوتا کیونکہ ملاوٹ کرنے والے دام خالص چیز کا لیتے ہیں اس لئے آج بتاؤں گا کہ کیسے لوگ ہلدی میں مصنوعی رنگ ، کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ اور جوس میں جعلی رنگ بنا کر بیچ رہے ہیں

ہلدی میں مصنوعی رنگ کا استعمال:
کچھ عرصہ پہلے کچھ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کیلیفورنیا میں کی جانے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ کھانوں میں استعمال کی جانے والے ہلدی پاوڈر میں موجود ایک کیمیکل کینسر سے لڑنے میں مدد دیتا ہے لیکن آج کل لوگ لکڑی کے بورے کو پیس کر اس پر پیلا رنگ لگا کر ہلدی میں مکس کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہلدی کا وزن زیادہ ہو جاتا ہے اور سالن کو بہت زیادہ پیلا کر دیتا ہے جبکہ اگر ہلدی کو تھوڑا سا پانی میں ڈالیں تو خالص ہلدی اپنا رنگ نہیں بدلتی اور پانی پر تیرتی رہتی ہے جبکہ ملاوٹ والی ہلدی میں پیسی ہوئی لکڑی کے دانے واضع ہو جاتے ہیں

کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ:
کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ اس لئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ کالے چنے 300 روپے کلو مارکیٹ میں دستیاب ہیں جبکہ کالی مرچ 1300 روپے کلو دستیاب ہے اس لئے لوگ ملاوٹ کرکے وزن بڑھا کر مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچتے ہیں اور لوگ اس زہر کو خرید رہے ہیں ملاوٹ شدہ مرچ کو کھانے سے منہ میں کر کراپن پیدا ہو جاتا ہے

جوس میں جعلی رنگ:
ہمارے معاشرے میں مارکیٹس میں سر عام جوس میں جعلی رنگ کی ملاوٹ کرکے لوگوں کو بیچا جا رہا ہے اور لوگ شوق سے اس زہر کو خرید رہے ہیں جعلی جوس بنانے والے مختلف طرح کے سینٹ (پرفیوم) استعمال کرتے ہیں اور پانی میں اسکرین کی ملاوٹ کرکے بڑی مقدار میں بنایا جا رہا ہے جبکہ حکومتی ارکان بیانات کی حد تک ہر وقت متحرک رہتے ہیں اور ملاوٹ کی روک تھام کےلئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہے زیادہ تر جگہوں پر رشوت لے کر منہ بند کر دیئے جاتے ہیں کوئی چیکنگ کرنے والا نہیں ۔ جو جوس تیار کیا جارہا ہے کیا وہ کار آمد ہے یا مضر صحت ہے ۔ مارکیٹس میں بہت سی ایسی اشیاء کی خرید و فرخت ہو رہی ہے جو ایکسپائر ہو گی ہے اور جس کو پینے سے انسان بیمار ہو رہے ہیں لیکن سرِعام سیل ہو رہی ہیں

اسی طرح اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح چاۓ کی پتی میں چنے کے چھلکے ،آٹے میں ریتی ، چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ اور پھلوں میں میٹھے انجیکشن لگاۓ جا رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتا ﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا قصہ ذکر فرمایا ہے کہ اس قوم میں ملاوٹ، دھوکا دہی اور ناپ تول میں کمی جیسی برائیاں بہت زیادہ پائی جاتی تھیں، انہی بُری عادتوں کی وجہ سے ان پر ﷲ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور پوری قوم تباہ ہوگئی اس لئے ہمیں اپنے اعمال اپنے کردار کو دیکھنا چاہیے کہ ہم ہی ملک میں اصل گڑ بڑ کرنے والے ہیں جیسی عوام ویسے حکمران

‎@JingoAlpha

Leave a reply