fbpx

ملک میں اقلیت اکثریت خواتین اور بچے سب غیر محفوظ ہیں،حکومتی سینیٹرز

ملک میں اقلیت اکثریت خواتین اور بچے سب غیر محفوظ ہیں،حکومتی سینیٹرز

اسلا م آباد (رپورٹ،محمداویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے صوبہ سندھ میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کااظہارکرتے ہوئے معاملے پر سینیٹ میں بحث کرنے کی سفارش کردی ،کمیٹی نے قتل ہونے والے ناظم جوکھیو کی بیوہ کو رینجرزکی سکیورٹی دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے کیسوں میں ریاست کو مدعی بنناچاہیے تاکہ دبائو کی وجہ سے صلح ہو بھی جائے تو ملزمان کو سزا ہو۔کمیٹی نے اگلے اجلاس میں آئی جی سندھ نہ آئے تو ہم ان کو استحقاق مجروح کرنے کا نوٹس دیں گے ناظم جوکھیو قتل کیس پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی ۔حکومتی سینیٹرز نے کہا کہ ملک میں اقلیت اکثریت خواتین اور بچے سب غیر محفوظ ہیں،کمیٹی نے ملاکنڈ کے سوشل ورکرمحمد زادہ کے لواحقین کے ساتھ ہونے والے معائد ے پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ ڈی سی اورکمشنر کوکمیٹی میں طلب کرلیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین ولیداقبال کی سربراہی میں ہوا۔اجلاس میں مشاہد حسین سید، طاہربزنجو،گلدیپ سنگھ،سیمی ایزدی،فلک نازچترالی،ڈاکٹرمہرتاج روغانی نے شرکت کی جبکہ محرک کے طور پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو،مشتاق احمد، فدا محمد نے شرکت کی ،کمیٹی میں وزیرانسانی حقو ق شیریں مزاری ،کے علاوہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے پی کے ،صوبہ بلوچستان ،سندھ اور کے پی کے کے پولیس حکام بھی شریک ہوئے ۔

اجلاس شروع ہواتو چیئرمین کمیٹی ولید اقبال نے کہا کہ جیلوں کی حالت بہت خراب ہے میڈیامیں بھی یہ بات آئی ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس معاملہ کواٹھایا ہے ۔سینیٹر مشاہدحسین سید نے کہاکہ امیر لوگوں کو جیل میں ڈالنا چاہیے اس سے جیل کی صورت حال ٹھیک ہوجاتی ہے علیم خان کوٹ لکھپت جیل میں گئے تو جیل کی حالات ٹھیک ہوگئی، چیئرمین کمیٹی ولید اقبال نے کہا کہ وزیراعظم باربار کہتے ہیں کہ پاکستان میں امیروں کے لیے الگ قانون ہے اور غریبوں کے لیے الگ قانون ہے جیلوں کی حالت بہت خراب ہے کمیٹی جلد جیلوں کا دورہ کرے گی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پہلے کمیٹی اڈیالہ جیل کا دورہ کرے گی کیوںکہ جب سے کمیٹی بنائی کمیٹی نے کوئی دورہ نہیں کیا ہے ۔

چیئرمین کمیٹی ولید اقبال نے کمیٹی میں بلانے کے باجودآئی جی بلوچستان ، آئی جی کے پی کے اور آئی جی سندھ کے نہ آنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا آئی جی کو کمیٹی میں آنا چاہیے ۔پولیس حکام نے بتایاکہ کوئٹہ میں دھماکہ ہواجس وجہ سے آئی جی بلوچستان نہیں آسکے ۔سینیٹرسیف اللہ ابڑو نے کہاکہ سندھ میں 45 قتل ہوئے جن میں صحافی اور سیاست دان قتل ہوئے آج تک آئی جی کسی قائمہ کمیٹی میں نہیں آئے ۔سندھ میں سیاسی مخالفین کوپولیس کی سرپرستی میں قتل کیا جا رہا ہے مگر کوئی ہماری بات سننے کوتیار نہیں آئی جی قائمہ کمیٹی سے اپنے آپ کو مبراسمجھتے ہیں جب بھی کمیٹی کااجلاس ہوتا ہے غیرمتعلقہ افسران کوکمیٹی میں بھیج دیتے ہیں سندھ میں ہماری ایف آئی آر تک درج نہیں ہوتی ہے ۔

وزیر انسانی حقوق شریں مزاری نے کمیٹی کوبتایا کہ سندھ سے کبھی کمیٹی میں اعلی حکام نہیں آتے ہیں قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی میں بھی یہی صورت حال ہے سیاسی لوگ لوگوں کے قتل میں ملوث ہوتے ہیں ۔اس دوران چیئرمین کمیٹی ولید اقبال وزیراعظم آفس میں میٹنگ کی وجہ سے اجلاس سے چلے گئے اور ان کی جگہ طاہر بزنجونے کمیٹی کی صدارت کی ۔ناظم جوکھیو کے قتل کیس کے حوالے سے ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے سینیٹرسیف اللہ ابڑو نے کہاکہ عرب ممالک سے لوگ پاکستان میں صرف شکار نہیں کرتے اور بھی بہت کچھ کرتے ہیں انسانیت کی تذلیل کرتے ہیں میڈیا کے سامنے وہ نہیں بتا سکتا جو وہاں ہوتا ہے ۔ناظم جوکھیوں نے شکار کرنے پر ایم این اے وایم پی اے کے عرب مہمان کی ویڈیو بنائی جو وائرل ہوگئے اس ویڈیو کی بنیاد پراسے قتل کیا گیا ۔جس بنگلے میں ناظم جوکھیو پر تشدد ہورہاتھا وہاں پر ایم پی اے جام اویس اور ایم این اے جام عبدالکریم موجود تھے ۔ناظم جوکھیو کو اس کابڑا بھائی ان کے بنگلے پر لے کرگیا مگروہاں پہنچنے پر اس کو الگ کمرے میں بند کردیا گیااور اس پر تشدد کرنا شروع کردیا گیااس کی تشدد کی وجہ سے آوازیں اس کابھائی بھی سنتارہا تشدد کے بعد ناظم جوکھیوکولایا گیااور اس سے کہا گیا ہے کہ وہ عرب مہمانوں سے معافی مانگے جس پر اس نے معافی مانگنے سے انکار کردیا جس کے بعد جام اویس اورجام عبدالکریم نے دوبارہ اپنے ملازمین کواس پر تشدد کرنے کاحکم دیا تشدد کی وجہ سے بل آخر اس کی موت ہوگئی اس کے بعد ناظم جوکھیو کی لاش کو انہوں نے اپنے بنگلے کے باہرپھینک دیا ۔پولیس نے اس وقت تک ایف آئی آر درج نہیں کی جب تک لواحقین نے سڑک بند نہیں کی اس کے بعد ناظم جوکھیو کے وکیل پر اتنا دبائو ڈالا کے وہ کیس چھوڑکر بھاگ گیاہے اس کے بھائی پر دبائو ڈال کر عدالت کے سامنے اس سے بیان لے لیا ہے ایک ملزم جام عبدالکریم پاکستان سے جاچکا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ ناظم جوکھیو کی بیوہ صلح کرنے پر آمادہ نہیں ہے اس لیے ان کورینجر کی سیکیورٹی دی جائے یہ لوگ اس کی بیوہ کو بھی قتل کردیں گے کہ اس کیس کوختم کیا جائے پولیس کی زیر نگرانی لوگوں کو سندھ میں قتل کیا جاتا ہے ۔ میری درخواست ہے کہ چونکہ کمیٹی میں متعلقہ ڈی آئی جی بھی نہیں آیا اس لیے اس معاملے کو موخر کیا جائے اور اگلے اجلاس میں آئی جی کوکمیٹی میں بلایاجائے ۔سینیٹرمشتاق احمد نے کہاکہ سندھ میں جنگل کا قانون ہے کمیٹی پانچ کیس نمونے کے طور پر لے کر ان کو منطقی انجام تک پہنچائے ۔

اسلام آباد میں ایک واقع ہوا ۔جس میں اسلام آباد پولیس نے ماں کو 90 لاکھ روپے دیے اور معاملہ ختم کردیا ہے ۔ایک مرتبہ سزا ہوجائے تو دوبارہ کیس نہیں ہوں گے ۔ اس طرح کے کیسوں میں ریاست کومدعی بننا چاہیے اگر لواحقین دبائو کی وجہ سے صلح کربھی لیں تو بھی کیس چلنا چاہیے اور ملزمان کوسزا ہونی چاہیے۔سینیٹر مشاہد حسین نے کہاکہ جو سندھ میں ہورہاہے اس میں سیاسی لوگوں ملوث ہیں لوگوں کوقتل کیا جا رہا ہے مگر پولیس ایکشن نہیں لیتی ہے اس مسئلہ پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ہونی چاہیے ۔اس کے ساتھ ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سینیٹ میں بحث کی جائے ۔ سندھ پولیس کے حکام سے سینیٹر مشاہد حسین نے پوچھ کیایہ بات درست ہے کہ ملزمان نے ناظم جوکھیو کے بھائی کوبھی اس گھرمیں رکھا گیا جہاں اس پر تشدد کیاجارہا تھا جس پر پولیس حکام نے اس کی تصدیق کردی۔

سینیٹرمشتاق احمد نے کہاکہ ان کیسوں میں ریاست مدعی بن جائے تو مسائل حل ہوجائیں گے ۔قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ناظم جوکھیو کی بیوہ کو کمیٹی نے بیوہ کو رینجر کی سیکورٹی دینے کی سفارش کردی ۔اگلے اجلاس میں آئی جی سندھ لازمی آئیں اگر نہیں آئے تو ہم ان کو استحقاق مجروح کرنے کا نوٹس دیں گے ۔سینیٹرطاہر بزنجو نے کہاکہ جب تک جاگیرداروں سے آزادی نہیں ملے گی اس وقت تک ملک کہ جن علاقوں میں جاگیردارہیں وہاں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال ہوگی ۔ بلوچستان کا بڑا مسئلہ لاپتہ افراد ہیں گوادر میں دھرنہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگ اب تنگ آگئے ہیں اس لیے اب ان کے مسائل حکومت حل کرے ۔فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی ۔مشاہد حسین نے کہاکہ سندھ میں انسانیت کی جو صورت حال ہے اس پر انسانیت شرمندہ ہے۔

ملا کنڈڈویژن میں سوشل ورکر کے قتل کے حوالے سے ایجنڈے پر سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ ملاکنڈ منشیات کا گھر ہے محمد زادہ نے منشیات کے خلاف جنگ کی تھی ملاکنڈمیں نوجوانوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اس نے ہیروئن کی سمگلنگ اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی، اس کے قتل کے الزام میں تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے مگر یہ اجرتی قتل تھے اصل بندہ نثار تھا جو ابھی تک گرفتار نہیں ہوا جو منشیات کا سمگلر بھی ہے ۔مقتول کے قتل پر عوام سڑکوں پر آئے ۔نثار کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ راولپنڈی کے ایک سیاست دان کے پاس ہے اور اس کا گارڈ ہے وہ ابھی تک گرفتار نہیں ہوا ۔شہابِ، اور وہاب لیوز اہلکار ہیں اس قتل میں ان کابھی کردار ہے ہمیں ان کے بارے میں بتائیں کہ یہ کس حد تک ملوث تھے ۔اے سی فواد خٹک کے بارے میں لواحقین کے تحفظات ہیں ۔لواحقین کے ساتھ ایک معائدہ ہواتھا جس میں قتل کی جوڈیشل انکوائری کرنے کا فیصلہ ہواتھا وہ کہاں پہنچی ۔اس معائدے میں تھاکہ مقدمہ دہشتگردی ایکٹ کے تحت چلے گا اور خاندان کو معاوضہ دیا جائے گا اس پر کتناعمل ہواہے ۔ کلیم ایڈیشنل سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ کے پی کے نے کہاکہ ضلع ملاکنڈ میں پولیس نہیں ہے وہاں پر لیوز ہے پاٹا میں پولیس نہیں ہوتی ہے وہ لیوز کا کام کرتا ہے لیوز ڈی سی کے زیر نگرانی کام کرتی ہے ڈی سی کمشنر کو رپورٹ کرتا ہے اور وہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو جواب دیتا ہے ۔

مشتاق احمد نے کہاکہ 25 آئینی ترمیم کے تحت فاٹا کے پی کے میں ضم ہونی چاہیے ۔وہاں بھی پولیس ہونی چاہیے ۔ایڈیشنل سیکرٹری کلیم نے کہاکہ مجھے لواحقین کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کا نہیں پتہ ۔سینیٹرفدا محمد نے کہا کہ ضلع ملاکنڈ میں ایک ہی بندہ ڈی سی، کمانڈنٹ اور پھر جج ہوتا ہے ایک وقت میں تین کام کررہا ہے ۔25آئینی ترمیم کے بعد فاٹا کی طرح پاٹا کو بھی کے پی کے میں ضم ہوناتھاابھی تک کیوں ضم نہیں کیا گیاہ ے ۔کمیٹی نے لواحقین کے ساتھ ہونے والے معائد ے پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ ڈی سی اورکمشنر کوکمیٹی میں طلب کرلیا۔

ایجنڈے نمبر4پرسینیٹرفدا محمد نے کہا کہ شیبہ گل نے میڈیا پر کہا کہ مجھے جان کا خطرہ ہے تو ان کو سیکورٹی کیوں نہیں دی؟حکام نے بتایا کہ مقتول نے بتایا کہ انہوں نے میرے والد کو قتل کیا ہے اس لیے ان کو قتل کیا۔کمیٹی نے اگلے اجلاس میں متعلقہ حکام کوطلب کرلیااور کہاکہ ایڈیشنل سیکرٹری کو اس واقع کاکچھ علم نہیں ہے ۔

اس موقع پر حکومتی سینیٹر گلدیپ سنکھ نے کہاکہ پاکستان میں اقلیت ہو یا اکثریت کوئی محفوظ نہیںہے جس پر فدامحمد اور دیگر سینیٹر نے کہاکہ یہاں پر نہ خواتین محفوظ ہیں نہ بچے اور نہ بڑے محفوظ ہیں ۔ایجنڈے پر پولیس نے کمیٹی کوبتایاکہ رابیعہ کو قتل کرنے والے اس کے شوہر اور ساس کے خلاف مقدمہ درج ہے اور عدالت میں ٹرائل ہورہاہے دونوں ملزمان سزا سے نہیں بچ سکتے ہیں واقع کو خودکشی کہا گیا مگر بعد میں پتہ چلاہے وہ قتل ہوئی ہیں کمیٹی نے کہا کہ ملزمان مقتولہ کے والدین کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہاہے ہیں کہ ہمارے ساتھ صلح کرلو اس لیے ان کے والدین کوسکیورٹی دی جائے ۔کمیٹی نے ڈی سی ضلع ملاکنڈ کو مقتولہ کے والدین کوسیکیورٹی دینے کی ہدایت کردی ۔

بلوچستان یونیورسٹی کے لاپتہ ہونے والے دوطالب علموں کے حوالے سے ایجنڈے پر بلوچستان کے پولیس حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ اس معاملہ کی تفتیش جاری ہے ۔5سے 7بجے تک یونیورسٹی میں بجلی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے کیمروں کا بیک آپ نہیں ہے طالب علم کیمپس سے نہیں لاپتہ ہوئے ہیں ۔محرک سینیٹرطاہر بزنجو نے کہاکہ لاپتہ افراد کا مسئلہ اس حکومت سے نہیں ہے یہ مشرف دور سے ہے شیریں مزاری کومخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے عمران خان کو کابینہ میں بتائیں کہ لاپتہ افراد کا معاملہ حل کیا جائے بلوچستان میں اس پر سخت ایکشن آتا ہے مہربانی کرکے اس مسئلہ کو حل کیا جائے ۔وزیر انسانی حقوق نے کہاکہ سینیٹ میں لاپتہ افراد کا قانون کیوں پیش نہیں ہورہا ہے اسمبلی سے پاس ہوگیا ہے اس کو لیپس نہ ہونے دیں ۔ ہم نے اس پر محنت کی ہے ہم اس کو سینیٹ میں ڈھونڈ رہے ہیں ۔ مگر مل نہیں رہا ہے ۔طاہر نزنجو نے کہا کہ یہ طالب علم یونیورسٹی کے ہاسٹل سے اٹھائے گئے ہیں ۔نومبر سے یہ یونیورسٹی بند ہے آئی جی نے ان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ 12دسمبر کو ان کو چھوڑ دیں گے بلوچستان یونیورسٹی ابھی بھی بند ہے اس معاملہ کوحل کیاجائے ۔

پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

اے این پی کے رہنما کا قتل، تیسری بیوی نے آشنا کے ساتھ ملکر کیا گھناؤنا کام