fbpx

ملکی معیشت اسٹیٹ بینک کے حوالے کردی گئی،شاہد خاقان

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کو ملکی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ ابھی سینیٹ میں ہے اسے واپس قومی اسمبلی میں لاکر اتفاق پیدا کیا جائے۔

باغی ٹی وی : پریس کانفرنس کے دوران شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت اورپارلیمان اسٹیٹ بینک سے نہیں پوچھ سکےگی، جو شرائط عالمی مالیاتی ادارے لگاتے تھے اب اسٹیٹ بینک لگائے گا اسٹیٹ بینک بل کے اثرات معیشت اور ملک پر پڑیں گے ملکی معیشت اسٹیٹ بینک کے حوالے کردی گئی ہےاسٹیٹ بینک اب پاکستان کے معاملات سے آزاد ہے۔

حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے،چودھری پرویزالٰہی

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک بل کے اثرات معیشت اور ملک پر پڑیں گے، ملکی معیشت اسٹیٹ بینک کے حوالے کردی گئی ہے، اسٹیٹ بینک اب پاکستان کے معاملات سے آزاد ہےحکومت عوام کی بہتری کے لیے اسٹیٹ بینک کے تابع ہوگی، اسٹیٹ بینک نہ حکومت کی سنے گا اور نہ پارلیمان کی سنے گا۔

لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا کہاں کی جمہوریت ہے؟ سراج الحق

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ وہ شرائط پہلے جو عالمی مالیاتی ادارے لگاتے تھے وہ اب اسٹیٹ بینک لگائے گا، اسٹیٹ بینک کا بنیادی مقصد بینکنگ اور مالیاتی نظام کا کنٹرول تھا اب اس کا مقصد مہنگائی کنٹرول کرنا ہوگیا ہے مہنگائی غربت اور روزگار اب اسٹیٹ بینک کے پاس چلے گئے ہیں، پاکستان میں سب سےزیادہ تنخواہ لینے والا گورنر اسٹیٹ بینک ہوگا، گورننس دینا اب حکومت یا پارلیمان نہیں اسٹیٹ بینک کا کام ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گورنر، ڈپٹی گورنر اور بورڈ ممبران کو نہ حکومت اور نہ ہی پارلیمان نکال سکے گا، اس ایکٹ میں اسٹیٹ بینک سے جواب طلبی کا کوئی طریقہ موجود نہیں اس بل پرپارلیمان میں بحث نہ ہوئی توبتانا چاہتا ہوں ہم پاکستان کا سودا نہیں ہونے دیں گےجیسے ہی اسمبلی دوسری بنے گی ہم اس قانون کو تبدیل کردیں گے-

پاکستان میں قازقستان کے سفیر کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات

دوسری جانب ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے پیشن گوئی کی ہے کہ آئندہ انقلاب تنخواہ دار طبقے کے ذریعے آئے گا سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ہر لیڈر حکومت میں آنے سے پہلے مہنگائی کا شور مچاتا ہے لیکن آج تک کسی نے یہ نہیں بتایا کہ معاشی مسائل کا حل کیسے نکلے گا؟ آج کل کے معاشی حالات میں سب سے زیادہ متاثر تنخواہ دار طبقہ ہے فیکٹری مالکان اپنی چیزوں کی قیمت بڑھا کر منافع کما لیتے ہیں لیکن مالکان اپنے اداروں میں کام کرنے والوں کی تنخواہیں نہیں بڑھاتے۔

سیالکوٹ بزنس کمیونٹی کیجانب سے پریانتھا کمارا کے اہلخانہ کیلئے 0.1 ملین ڈالر امداد

چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ سال میں صرف ایک مرتبہ ہوتا ہے جب کہ مہنگائی مہینے میں دو مرتبہ بڑھ جاتی ہے تو وہ کیسے اس ہوشربا مہنگائی کا مقابلہ کریں؟چودھری شجاعت حسین نے زور دے کر کہا کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

بہت ہو گیا ہمیں الگ گورنر وزیراعلی چاہیے٫یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب کا مقدمہ…