fbpx

امارات اسلامیہ افغانستان حکومت کے سربراہ ملا محمد حسن اخوند کون ہیں؟

کابل: افغانستان میں نئی حکومت کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے مطابق حکومت کے سربراہ ملا محمد حسن اخوند طالبان کی رہبری شوریٰ کے سربراہ ہیں۔

باغی ٹی وی : قندھار سے تعلق رکھنے والے ملا محمد حسن اخوند کا شمار طالبان کے بانیوں میں ہوتا ہے یعنہ وہ ان چار لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے تحریک طالبان کی بنیاد رکھی وہ مذہبی اسکالر بھی ہیں –

افغان حکومت کے نئے سربراہ محمد حسن اخوند نے طالبان کے موجودہ امیر ملا ہبت اللہ کے ساتھ 20 سال تک کام کیا ہے وہ طالبان کی پچھلی حکومت میں وزیرخارجہ کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

طالبان نے دنیا اور اپوزیشن کے مطالبات کو اہمیت نہیں دی ، نئی حکومت پر سلیم صافی کا تجزیہ

علاوہ ازیں جب ملا محمد ربانی وزیراعظم کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے تو اس وقت انہوں نے نائب وزیراعظم کی حیثیت سے بھی کام کیا تھا۔

ملا محمد حسن نے اگست 1999 میں بطور وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا اس دورے میں ان کی ملاقات اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف سے بھی ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ طالبان کی بنیاد قندھار میں رکھی گئی تھی۔

یاد رہے کہ آج شام طالبان کی نئی حکومت کا اعلان کر دیا گیا ہے کابل میں امارت اسلامی افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نیوز کانفرنس میں نئی حکومت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نئی اسلامی حکومت کےسربراہ محمداحسن اخوندہوں گے-

انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان نے حکومت کا اعلان کر دیا

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ملاعبدالغنی برادران کےمعاون ہوں گے ملا خیر خو وزیر اطلاعات تعینات ہوں گے جبکہ شیخ خالد دعوت ارشادات کے سرپرست، اور عباس ستانکزئی وزیر خارجہ مقرر کئے گئے ہیں جبکہ ذبیح اللہ مجاہد وزیر اطلاعات مقرر کئے گئے ہیں مولوی محمد یعقوب مجاہد وزیردفاع تعینات کئے گئے ہیں سراج الدین حقانی وزیرداخلہ جبکہ ‏ملا امیر خان متقی وزیرخارجہ سمیت کُل 33 وزرا اپنے فرائض سرانجام دیں گے-