fbpx

لطیف آفریدی قتل کیس،ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

پشاور، لطیف آفریدی قتل کیس، ملزم عدنان سمیع آفریدی کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کر دیا گیا

سینئر وکیل لطیف آفریدی قتل کیس میں ملزم کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ بھی شامل کر دیا گیا، عدالت نے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، گرفتاری کے بعد دو جبکہ آج ملزم عدنان سمیع آفریدی کا مزید ایک روز ہ ریمانڈ آج دیا گیا 16 جنوری کو سنیئر قانون دان لطیف آفریدی کو ہائیکورٹ بار روم میں قتل کیا گیا تھا قتل کی واردات کے بعد پولیس نے موقع پر ملزم کو گرفتار کیا تھا

اطلاعات کے مطابق سینئر وکیل لطیف آفریدی کا قتل مبینہ طورپر خاندانی دشمنی کی بنا پر ہوا، اس کی بنیاد یہ ہے ، مبینہ قاتل عدنان آفریدی جج آفتاب آفریدی کا بھتیجا ہے جن کو اپریل میں موٹروے پر ان کی اہلیہ، حاملہ بہو اور پوتے پوتیوں سمیت قتل کیا گیا اورقتل کے الزام میں لطیف آفریدی اوران کا بیٹا نامزد تھے.

جج قتل کیس، لطیف آفریدی کی درخواست ضمانت پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

جج آفتاب آفریدی قتل کیس، پولیس کا ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ، کیا برآمد کر لیاِ؟

پشاور پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اعترافِ جرم کر لیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے قتل کی وجہ ذاتی دشمنی بتائی ہے عبداللطیف آفریدی کے قتل کے خلاف ملک بھر میں وکلاء تنظیموں نے احتجاج کیا اورملک گیر ہڑتال بھی کی،