fbpx

ملزم کا جرم کے بعد انتقال ہو جائے تو ورثا ذمہ دار ہونگے یا نہیں؟ عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

ملزم کا جرم کے بعد انتقال ہو جائے تو ورثا ذمہ دار ہونگے یا نہیں؟ عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں والد کے انتقال کے بعد جرم کا مقدمہ بیٹوں پر درج نہ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد شان گل نے تحریری فیصلہ جاری کردیا ،عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ کسی ملزم کا جرم کے بعد انتقال ہو جائے تو ورثا جرم کے ذمہ دار نہیں ہونگے ،والد کے انتقال کے بعد بیٹوں پر جعلی چیک کا مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا،دنیا کے تمام قوانین میں صرف جرم کرنے والا مجرم تصور کیا جاتا ہے کوئی کسی دوسرے کے جرم کی سزا نہیں بھگت سکتا، چاہے والدین ہوں، ملزم کے فوت ہو جانے کے بعد بیٹوں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی،

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بینک اکاؤنٹ والد کے نام پر ہے جو کہ انتقال کر چکا ہے،اصل چیک سے معلوم ہوتا ہے کہ چیک پر بیٹوں کے والد نے دستحظ کیا تھا یہ بات طے ہے کہ مجرمانہ ذمہ داری قانونی ورثاپر منتقل نہیں ہوتی،ملزمان والد کا کاروبار سنبھالنے کے باوجود اس کی مجرمانہ سرگرمیوں کے ذمہ دار نہیں،عدالت مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کرتی ہے،ملزم نے زرعی مشینری خریدی اور 11 لاکھ کا چیک دیا،زاہد اقبال کی جانب سے دیا گیا چیک باؤنس ہو گیا، پولیس نے جسٹس آف پیس کے روبرو اپنی رپورٹ جمع کرائی جس کے مطابق بینک اکاؤنٹ والد کے نام پر تھا جو کہ انتقال کر چکا ہے جسٹس محمد شان گل نے قانون نقطہ بیان کر دیا درخواست گزار نے چوہدری زاہد اور چوہدری خضر کے خلاف جعلی چیک کی بنیاد پر مقدمہ درج کرنے کے لیے جسٹس آف پیس کے روبرو درخواست دائر کی

رخواستگزار کے مطابق جسٹس آف پیس نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد مقدمہ درج کرنے کی استدعا مسترد کی درخواست گزار نے جسٹس آف پیس کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ جسٹس محمد شان گل نے تمام دلائل سننے کے بعد تحریری فیصلے میں لکھا کہ اصل چیک سے معلوم ہوتا ہے کہ چیک پر بیٹوں کے والد نے دستحظ کیا تھا اور بیٹوں کے والد کے درمیان کوئی تحریری معاہدہ بھی نہں ہے یہ بات طے ہے کہ مجرمانہ ذمہ داری قانونی ورثاء پر منتقل نہیں ہوتی ملزمان اگر والد کا کاروبار سنبھال بھی رہے ہیں اور والد کی مجرمانہ سرگرمیوں کا بھی ذمہ دار نہیں ہیں حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ بیٹوں نے کوئی چیک ایشو نہیں کیا

فیصلے میں کہا گیا کہ والد کے انتقال کے بعد بیٹے 489 ایف کی کارروائی کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے، 489 ایف کی کارروائی کرانے کے لیے ضروری ہے ملزم نے چیک خود ایشو کیا ہو اور اکاؤنٹ اسکے نام ہو، فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 3 شہریوں کے استحصال کرنے اور ان پر ظلم کرنے سے روکتا ہے، کوئی شہری کسی دوسرے کا جرم کا ذمہ دار نہیں، اگر کوئی ملزم جس نے جرم کیا اور اسکا انتقال ہوجائے تو اس کے قانونی ورثا اس جرم کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

نااہلی سے بچنے کے لئے فیصل واوڈا نے عدالت میں کیا قدم اٹھا لیا

فیصل واوڈا نااہلی کیس، جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے پر عدالت کا حکم آ گیا

کیا فیصل واوڈا قانون سے بالا تر ہیں؟ ،عدم پیشی پر الیکشن کمیشن کا اظہار برہمی

استعفیٰ دینے کے بعد فیصل واوڈا الیکشن کمیشن میں پیش، پھر مہلت مانگ لی

میری غلطی ہے تو پھانسی لگا دیں لیکن یہ کام ضرور کریں، فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن میں بیان

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!